
انس مسرورانصاری
وہ لڑکی جوکل تک جواں تھی
بہت خوبصورت
بہت شادماں تھی
جوانی کی نیرنگیوں سے
بڑھاپےکی دہلیز تک آ گئی ہے
مگراب بھی جب رات کولیٹتی ہے
یہی سوچتی ہے
بہت دورآکاش کےاس طرف سے
کئی گھوڑوں والی سنہری سی رتھ لےکے
خوابوں کا شہزادہ آئےگا
مضبوط باہوں میں اپنی مجھے
بھرکےلےجائےگا
اس طرف، آسماں سےپرے
خوب کی نیلگوں واد یوں کی طرف
سوچتےسو چتے
وہ جوانی کی خلوت سےہوکر
بڑھاپےکی دہلیز تک آگئی ہے
سیہ اورگھنےنرم بالوں میں
چا ندی کےتار آگئے ہیں


