
ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام
وحشت بھری یاد آئی وہ اندھیری رات
دل و دماغ پہ چھائی وہ اندھیری رات
سہمے ہوئے تھے ہم کہ خاموشی نے گھیر لیا
درد و الم ہی ساتھ اپنے لائی وہ اندھیری رات
ڈرا رہی ہے اب تو سناٹوں کی گھن گرج
کرنے لگی یوں لب کشائی وہ اندھیری رات
اپنوں کے چہرے اجنبی لگنے لگے مجھے
کیااک عجب تماشا دکھائی وہ اندھیری رات
آواز اک نہ نکلی دل چیختا رہا
خامشی میں بہت کچھ سنائی وہ اندھیری رات
دائمی غم دے گئی، کچھ نہ چھوڑا پلے
ساحل! ؔ اک ایسی پائی وہ اندھیری رات


