=سیما شکور، حیدر آباد
دل کو جو چھو جائے
کوئی ایسی حسین سی بات کرو
شاخ سے ٹوٹ کر …
جو کہہ رہا ہے گلاب
وہی ، نرم ، گداز …
کومل سی بات کرو
روشنی سی بکھرے …
اُجالا کھول دے آنکھیں
کوئی چاند ستاروں سی بات کرو
چٹک سی جائیں ، کلیاں …
شرما جائیں گلاب
وہی مدھر ، دلکش سی بات کرو
مصور بکھیر دے …
سارے رنگ
پھیل جائے …
زمیں پہ جیسے قوس و قزح
وہی رنگ و نور میں …
ڈوبی سی کوئی بات کرو
شاعر نے جو لکھے …
بھیگے بھیگے سے لفظ …
وہی غزل جیسی کوئی بات کرو
وہی غزل جیسی کوئی بات کرو


