علاج یا تجارت؟ ادویات کی قیمتوں پر سپریم کورٹ متوجہ

 

ایڈووکیٹ کشن سنمکھ داس بھوانی

کسی بھی مہذب معاشرے میں ڈاکٹر کو محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ انسانی زندگی کے محافظ اور امید کے امین کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بھی معالج کو روایتی طور پر مسیحا کا درجہ دیا جاتا رہا ہے۔ مریض اپنی زندگی، اپنے اہلِ خانہ کی امیدوں اور عمر بھر کی جمع پونجی ڈاکٹر کے اعتماد پر اس کے سپرد کر دیتا ہے۔ لیکن جب یہی مریض کسی سنگین بیماری کے علاج کے دوران اسپتالوں کے ناقابلِ برداشت بلوں، مہنگی ادویات اور طبی استعمال کی اشیاء کی غیر معمولی قیمتوں کے بوجھ تلے دبنے لگے تو پورے نظامِ صحت کی شفافیت اور جوابدہی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہ سوال اب محض عوامی بحث کا موضوع نہیں رہا بلکہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے سامنے بھی ایک اہم قانونی اور سماجی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے: کیا انسانی زندگی بچانے کے عمل کو تجارتی منافع کے حصول کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے؟ کیا نجی اسپتالوں کو ادویات اور طبی آلات کی قیمتوں کے تعین میں غیر محدود آزادی حاصل ہونی چاہیے؟ اور کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ضروری اور زندگی بچانے والی ادویات کو عام شہریوں کی قوتِ خرید کے مطابق دستیاب بنانے کے لئے مؤثر ضابطہ جاتی نظام قائم کرے؟
سپریم کورٹ میں زیرِ غور دو اہم عرضیوں نے ان سوالات کو نئی معنویت عطا کی ہے۔ ایڈووکیٹ کشن چند جین کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 794/2023، کشن چند جین بنام اخلاقیات و میڈیکل رجسٹریشن بورڈ و دیگر، اور ڈاکٹر سنجے کلشریستھا کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 717/2026، ڈاکٹر سنجے کلشریستھا بنام یونین آف انڈیا، میں ادویات کی قیمتوں، نجی اسپتالوں کے تجارتی مارجن اور دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں سے متعلق بنیادی نوعیت کے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔

ان مقدمات کی سماعت جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ کے سامنے ہوئی۔ 12 اکتوبر 2026 کے عدالتی ریکارڈ کے مطابق دونوں معاملات 27 اکتوبر کو دوپہر دو بجے سماعت کے لئے مقرر تھے۔ ان مقدمات کی اہمیت محض قانونی کارروائی تک محدود نہیں، بلکہ ان کا تعلق مریضوں کے حقوق اور صحت کے شعبے میں تجارتی مفادات کی حدود متعین کرنے سے بھی ہے۔
اسپتالوں کے بل اور مریض کی بے بسی
اسپتال میں داخل مریض کے لئے علاج کا خرچ صرف ادویات تک محدود نہیں ہوتا۔ سرنج، دستانے، گلوکوز ڈرپس، کیتھیٹرز، اسٹینٹس، ڈریسنگ میٹریل اور دیگر طبی اشیاء بھی مجموعی بل کا بڑا حصہ بن سکتی ہیں۔ اکثر مریضوں کو ان اشیاء کی اصل قیمت، بازار میں دستیاب متبادل اور مختلف برانڈز کے درمیان فرق کا علم نہیں ہوتا۔
طبی ہنگامی صورتِ حال میں مریض کی سودے بازی کی قوت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ بیماری کی سنگینی اور علاج میں تاخیر کے خدشات اسے قیمتوں کا موازنہ کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ نتیجتاً وہ اکثر وہی رقم ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو اسپتال کے بل میں درج ہوتی ہے۔
یقیناً اسپتالوں کو ادویات اور طبی سامان کے محفوظ ذخیرے، معیاری فراہمی اور ہنگامی دستیابی کے لئے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس لئے ہر اضافی قیمت کو ناجائز منافع قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ ان اخراجات اور وصول کیے جانے والے منافع کے درمیان معقول حد قائم ہو۔ مریض کو جاننے کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ کسی دوا یا طبی آلے کی قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی ہے اور کیا اس کا کم قیمت متبادل دستیاب ہے۔
دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ اور طبی اخلاقیات
اس معاملے کا ایک حساس پہلو دوا ساز کمپنیوں اور طبی ماہرین کے درمیان مبینہ مالی و تجارتی روابط ہیں۔ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے ڈاکٹروں کو تحائف، سفری سہولیات، مہمان نوازی اور دیگر مالی مراعات فراہم کرتی ہیں۔

اگر ان مراعات کا اثر ادویات تجویز کرنے کے طبی فیصلوں پر پڑتا ہے تو اس کا نقصان براہِ راست مریض کو اٹھانا پڑتا ہے، جسے ممکن ہے ایسی مہنگی دوا تجویز کی جائے جس کے مؤثر اور معیاری متبادل نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں۔
8 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی عدالتی کارروائی سے متعلق رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کی مذکورہ بنچ نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لئے قانونی فریم ورک کی سفارش کرنے کی غرض سے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔ اس تناظر میں ڈاکٹروں کو فراہم کی جانے والی مراعات اور طبی فیصلوں میں ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے کے لئے مؤثر نگرانی کی ضرورت اجاگر ہوئی ہے۔
طبی پیشے کی بنیاد اعتماد، غیر جانب داری اور مریض کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کے اصول پر قائم ہے۔ ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ خودمختاری اسی وقت معتبر رہ سکتی ہے جب اس کے فیصلے تجارتی دباؤ اور مالی مفادات سے محفوظ ہوں۔
سولہ فیصد تجارتی مارجن اور قیمتوں کا غیر معمولی فرق
ادویات کی قیمتوں سے متعلق بحث میں ایک مثال نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، ایک کینسر مخالف دوا کی خریداری کی قیمت تقریباً 2700 روپے بتائی گئی، جبکہ اس کی مطبوعہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) 27000 روپے درج تھی۔ یعنی دونوں قیمتوں کے درمیان تقریباً دس گنا فرق تھا۔اس تفاوت کا تجزیہ کرتے وقت خریداری کی قیمت، تقسیم و ترسیل کے اخراجات، مطبوعہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت اور اسپتال کی جانب سے وصول کی جانے والی حتمی رقم کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم، اتنا بڑا فرق قیمتوں کے تعین اور تجارتی مارجن کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھاتا ہے۔

29 ستمبر کی سماعت سے متعلق شائع شدہ قانونی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ادویات کی خوردہ قیمت اور ایم آر پی کے درمیان نمایاں فرق پر سوال اٹھایا اور تمام ادویات کے لئے یکساں 16 فیصد تجارتی مارجن کے امکان پر غور کیا۔
تاہم، اس بحث کو کسی حتمی عدالتی حکم یا ملک بھر میں نافذ قانونی ضابطے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اگر 16 فیصد کی حد کو ضابطہ جاتی معیار بنایا جاتا ہے تو حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس کا اطلاق کن ادویات اور طبی آلات پر ہوگا اور تجارتی مارجن کا حساب کس مرحلے پر کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف اور تجارتی مارجن کی نگرانی
نجی اسپتالوں میں ادویات اور طبی سامان کی قیمتوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں مرکزی حکومت کے محکمۂ ادویہ، وزارتِ کیمیکلز و فرٹیلائزرز نے بھی اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، 12 اکتوبر 2026 کو حکومت کی جانب سے 551 صفحات پر مشتمل تفصیلی حلف نامہ داخل کیا گیا، جس میں ادویات اور طبی استعمال کی اشیاء پر تجارتی مارجن، نجی اسپتالوں کی قیمتوں کے تعین اور جامع ضابطہ بندی سے متعلق عملی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی۔
اس ضمن میں بعض کینسر مخالف ادویات پر 170 سے 700 فیصد یا اس سے زیادہ، جبکہ بعض طبی استعمال کی اشیاء پر 1000 فیصد تک تجارتی مارجن کے دعوے بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کی متعلقہ مصنوعات کی حقیقی خریداری اور فروخت کی قیمتوں سے تصدیق ہوتی ہے تو یہ صحت کے شعبے میں قیمتوں کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی مضبوط دلیل فراہم کرتے ہیں۔
حکومت کے سامنے اصل چیلنج ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو تجارتی مارجن کو معقول حدود میں رکھے، قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی حوصلہ شکنی کرے اور ادویات کی مسلسل فراہمی اور معیار کو بھی متاثر نہ کرے۔
جنرک ادویات اور مریض کا حقِ انتخاب
ادویات کی قیمتوں پر بحث کو جنرک ادویات کے فروغ اور مریضوں کے حقِ انتخاب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ معیاری جنرک ادویات نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور مریضوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم، صرف کم قیمت کو معیارِ انتخاب بنانا درست نہیں۔ دوا کا معیار، فعال اجزا، خوراک اور مریض کی طبی حالت کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو تجویز کردہ دوا کے فعال اجزا، دستیاب متبادل اور قیمتوں کے حوالے سے مناسب رہنمائی فراہم کریں۔ مریض کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ دوا کے برانڈ، متبادل اور قیمت کے بارے میں سوالات اٹھا سکے۔
اسی طرح، کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 2010، صحت کے اداروں کی رجسٹریشن اور خدمات کے کم از کم معیارات کے تعین کے حوالے سے اہم قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ مریضوں کے حقوق، علاج کے اخراجات اور اسپتالوں کی جوابدہی کے لئے ایک مربوط نظام وضع کیا جائے۔
صحت کا شعبہ: منافع کی منڈی یا عوامی خدمت؟
نجی اسپتال بھی ایک معاشی ڈھانچے کے تحت کام کرتے ہیں۔ انہیں بنیادی ڈھانچے، جدید طبی مشینری، تربیت یافتہ عملے اور دیگر سہولیات پر بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔ لہٰذا ان کے لئے مناسب مالی گنجائش اور منافع کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن صحت کا شعبہ عام تجارتی سرگرمیوں سے مختلف ہے۔ یہاں صارف اپنی سہولت کے مطابق خریداری نہیں کرتا بلکہ اکثر زندگی اور موت کی کشمکش میں فیصلے کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی فرق طبی خدمات کو خصوصی اخلاقی اور قانونی نگرانی کا مستحق بناتا ہے۔
کسی بھی اسپتال کی کامیابی کا پیمانہ صرف مالی منافع نہیں ہونا چاہیے، بلکہ علاج کا معیار، قیمتوں کی شفافیت اور انسانی وقار کا احترام بھی اس کی کارکردگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
حکومت کو قیمتوں کے تعین، تجارتی مارجن، ادویات کی دستیابی اور طبی مارکیٹنگ کے لئے جامع ضابطہ جاتی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ مریضوں کو تفصیلی بل فراہم کرنے اور شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ کی کارروائی اور آئندہ کا لائحۂ عمل
12 اکتوبر 2026 کے عدالتی ریکارڈ میں دونوں متعلقہ درخواستوں کی 27 اکتوبر کو دوپہر دو بجے سماعت کے لئے فہرست بندی کا ذکر موجود ہے۔ دوسری جانب، دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کو منظم کرنے سے متعلق معاملے میں 29 جنوری 2027 کو حکومتی تعمیل کے حلف نامے پر غور کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
تاہم، یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ 27 اکتوبر کی سماعت کے بعد دونوں درخواستوں کی اگلی تاریخ لازماً 29 جنوری 2027 مقرر کی گئی ہے۔ اس حوالے سے حتمی صورتِ حال جاننے کے لئے 27 اکتوبر کی کارروائی کا مصدقہ عدالتی حکم اور بعد کے عدالتی ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
بہرحال، ان مقدمات نے ہندوستان کے صحت کے نظام میں ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بحث صرف ادویات کی قیمتیں کم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق طبی اخلاقیات، کارپوریٹ جوابدہی، مریضوں کے بنیادی حقوق اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی سے بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ علاج کی سہولت اگر عام شہری کی معاشی استطاعت سے باہر ہو جائے تو طبی ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھونے لگتے ہیں۔ ایک ایسا نظامِ صحت جس میں مریض اپنی زندگی بچانے کے لئے علاج حاصل کرتے ہوئے مالی تباہی کے خوف میں مبتلا ہو، اسے محض جدید طبی سہولیات کی بنیاد پر کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور یہ معاملات ایک ایسے موقع کی حیثیت رکھتے ہیں جس کے ذریعے حکومت، طبی اداروں اور دوا ساز کمپنیوں کی ذمہ داریوں کا ازسرِنو تعین کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادویات اور طبی آلات کی قیمتوں میں شفافیت، تجارتی مارجن میں معقولیت، ڈاکٹروں کی آزادانہ طبی فیصلہ سازی اور مریضوں کے حقِ انتخاب کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ بالآخر کسی بھی صحت مند معاشرے کی پہچان اس کے مہنگے اسپتالوں، جدید مشینری یا بلند کاروباری منافع سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں ایک غریب اور بے بس مریض کو بھی عزت، انصاف اور مالی استحصال کے خوف سے آزاد ہو کر علاج حاصل کرنے کا حق میسر ہے یا نہیں۔ زندگی بچانا طب کا مقصد ہے، اسے منافع کی غیر محدود دوڑ کا وسیلہ بنانا نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

علاج یا تجارت؟ ادویات کی قیمتوں پر سپریم کورٹ متوجہ

 

ایڈووکیٹ کشن سنمکھ داس بھوانی

کسی بھی مہذب معاشرے میں ڈاکٹر کو محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ انسانی زندگی کے محافظ اور امید کے امین کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بھی معالج کو روایتی طور پر مسیحا کا درجہ دیا جاتا رہا ہے۔ مریض اپنی زندگی، اپنے اہلِ خانہ کی امیدوں اور عمر بھر کی جمع پونجی ڈاکٹر کے اعتماد پر اس کے سپرد کر دیتا ہے۔ لیکن جب یہی مریض کسی سنگین بیماری کے علاج کے دوران اسپتالوں کے ناقابلِ برداشت بلوں، مہنگی ادویات اور طبی استعمال کی اشیاء کی غیر معمولی قیمتوں کے بوجھ تلے دبنے لگے تو پورے نظامِ صحت کی شفافیت اور جوابدہی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہ سوال اب محض عوامی بحث کا موضوع نہیں رہا بلکہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے سامنے بھی ایک اہم قانونی اور سماجی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے: کیا انسانی زندگی بچانے کے عمل کو تجارتی منافع کے حصول کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے؟ کیا نجی اسپتالوں کو ادویات اور طبی آلات کی قیمتوں کے تعین میں غیر محدود آزادی حاصل ہونی چاہیے؟ اور کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ضروری اور زندگی بچانے والی ادویات کو عام شہریوں کی قوتِ خرید کے مطابق دستیاب بنانے کے لئے مؤثر ضابطہ جاتی نظام قائم کرے؟
سپریم کورٹ میں زیرِ غور دو اہم عرضیوں نے ان سوالات کو نئی معنویت عطا کی ہے۔ ایڈووکیٹ کشن چند جین کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 794/2023، کشن چند جین بنام اخلاقیات و میڈیکل رجسٹریشن بورڈ و دیگر، اور ڈاکٹر سنجے کلشریستھا کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 717/2026، ڈاکٹر سنجے کلشریستھا بنام یونین آف انڈیا، میں ادویات کی قیمتوں، نجی اسپتالوں کے تجارتی مارجن اور دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں سے متعلق بنیادی نوعیت کے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔

ان مقدمات کی سماعت جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ کے سامنے ہوئی۔ 12 اکتوبر 2026 کے عدالتی ریکارڈ کے مطابق دونوں معاملات 27 اکتوبر کو دوپہر دو بجے سماعت کے لئے مقرر تھے۔ ان مقدمات کی اہمیت محض قانونی کارروائی تک محدود نہیں، بلکہ ان کا تعلق مریضوں کے حقوق اور صحت کے شعبے میں تجارتی مفادات کی حدود متعین کرنے سے بھی ہے۔
اسپتالوں کے بل اور مریض کی بے بسی
اسپتال میں داخل مریض کے لئے علاج کا خرچ صرف ادویات تک محدود نہیں ہوتا۔ سرنج، دستانے، گلوکوز ڈرپس، کیتھیٹرز، اسٹینٹس، ڈریسنگ میٹریل اور دیگر طبی اشیاء بھی مجموعی بل کا بڑا حصہ بن سکتی ہیں۔ اکثر مریضوں کو ان اشیاء کی اصل قیمت، بازار میں دستیاب متبادل اور مختلف برانڈز کے درمیان فرق کا علم نہیں ہوتا۔
طبی ہنگامی صورتِ حال میں مریض کی سودے بازی کی قوت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ بیماری کی سنگینی اور علاج میں تاخیر کے خدشات اسے قیمتوں کا موازنہ کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ نتیجتاً وہ اکثر وہی رقم ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو اسپتال کے بل میں درج ہوتی ہے۔
یقیناً اسپتالوں کو ادویات اور طبی سامان کے محفوظ ذخیرے، معیاری فراہمی اور ہنگامی دستیابی کے لئے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس لئے ہر اضافی قیمت کو ناجائز منافع قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ ان اخراجات اور وصول کیے جانے والے منافع کے درمیان معقول حد قائم ہو۔ مریض کو جاننے کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ کسی دوا یا طبی آلے کی قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی ہے اور کیا اس کا کم قیمت متبادل دستیاب ہے۔
دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ اور طبی اخلاقیات
اس معاملے کا ایک حساس پہلو دوا ساز کمپنیوں اور طبی ماہرین کے درمیان مبینہ مالی و تجارتی روابط ہیں۔ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے ڈاکٹروں کو تحائف، سفری سہولیات، مہمان نوازی اور دیگر مالی مراعات فراہم کرتی ہیں۔

اگر ان مراعات کا اثر ادویات تجویز کرنے کے طبی فیصلوں پر پڑتا ہے تو اس کا نقصان براہِ راست مریض کو اٹھانا پڑتا ہے، جسے ممکن ہے ایسی مہنگی دوا تجویز کی جائے جس کے مؤثر اور معیاری متبادل نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں۔
8 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی عدالتی کارروائی سے متعلق رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کی مذکورہ بنچ نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لئے قانونی فریم ورک کی سفارش کرنے کی غرض سے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔ اس تناظر میں ڈاکٹروں کو فراہم کی جانے والی مراعات اور طبی فیصلوں میں ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے کے لئے مؤثر نگرانی کی ضرورت اجاگر ہوئی ہے۔
طبی پیشے کی بنیاد اعتماد، غیر جانب داری اور مریض کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کے اصول پر قائم ہے۔ ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ خودمختاری اسی وقت معتبر رہ سکتی ہے جب اس کے فیصلے تجارتی دباؤ اور مالی مفادات سے محفوظ ہوں۔
سولہ فیصد تجارتی مارجن اور قیمتوں کا غیر معمولی فرق
ادویات کی قیمتوں سے متعلق بحث میں ایک مثال نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، ایک کینسر مخالف دوا کی خریداری کی قیمت تقریباً 2700 روپے بتائی گئی، جبکہ اس کی مطبوعہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) 27000 روپے درج تھی۔ یعنی دونوں قیمتوں کے درمیان تقریباً دس گنا فرق تھا۔اس تفاوت کا تجزیہ کرتے وقت خریداری کی قیمت، تقسیم و ترسیل کے اخراجات، مطبوعہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت اور اسپتال کی جانب سے وصول کی جانے والی حتمی رقم کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم، اتنا بڑا فرق قیمتوں کے تعین اور تجارتی مارجن کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھاتا ہے۔

29 ستمبر کی سماعت سے متعلق شائع شدہ قانونی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ادویات کی خوردہ قیمت اور ایم آر پی کے درمیان نمایاں فرق پر سوال اٹھایا اور تمام ادویات کے لئے یکساں 16 فیصد تجارتی مارجن کے امکان پر غور کیا۔
تاہم، اس بحث کو کسی حتمی عدالتی حکم یا ملک بھر میں نافذ قانونی ضابطے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اگر 16 فیصد کی حد کو ضابطہ جاتی معیار بنایا جاتا ہے تو حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس کا اطلاق کن ادویات اور طبی آلات پر ہوگا اور تجارتی مارجن کا حساب کس مرحلے پر کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف اور تجارتی مارجن کی نگرانی
نجی اسپتالوں میں ادویات اور طبی سامان کی قیمتوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں مرکزی حکومت کے محکمۂ ادویہ، وزارتِ کیمیکلز و فرٹیلائزرز نے بھی اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، 12 اکتوبر 2026 کو حکومت کی جانب سے 551 صفحات پر مشتمل تفصیلی حلف نامہ داخل کیا گیا، جس میں ادویات اور طبی استعمال کی اشیاء پر تجارتی مارجن، نجی اسپتالوں کی قیمتوں کے تعین اور جامع ضابطہ بندی سے متعلق عملی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی۔
اس ضمن میں بعض کینسر مخالف ادویات پر 170 سے 700 فیصد یا اس سے زیادہ، جبکہ بعض طبی استعمال کی اشیاء پر 1000 فیصد تک تجارتی مارجن کے دعوے بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کی متعلقہ مصنوعات کی حقیقی خریداری اور فروخت کی قیمتوں سے تصدیق ہوتی ہے تو یہ صحت کے شعبے میں قیمتوں کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی مضبوط دلیل فراہم کرتے ہیں۔
حکومت کے سامنے اصل چیلنج ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو تجارتی مارجن کو معقول حدود میں رکھے، قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی حوصلہ شکنی کرے اور ادویات کی مسلسل فراہمی اور معیار کو بھی متاثر نہ کرے۔
جنرک ادویات اور مریض کا حقِ انتخاب
ادویات کی قیمتوں پر بحث کو جنرک ادویات کے فروغ اور مریضوں کے حقِ انتخاب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ معیاری جنرک ادویات نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور مریضوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم، صرف کم قیمت کو معیارِ انتخاب بنانا درست نہیں۔ دوا کا معیار، فعال اجزا، خوراک اور مریض کی طبی حالت کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو تجویز کردہ دوا کے فعال اجزا، دستیاب متبادل اور قیمتوں کے حوالے سے مناسب رہنمائی فراہم کریں۔ مریض کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ دوا کے برانڈ، متبادل اور قیمت کے بارے میں سوالات اٹھا سکے۔
اسی طرح، کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 2010، صحت کے اداروں کی رجسٹریشن اور خدمات کے کم از کم معیارات کے تعین کے حوالے سے اہم قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ مریضوں کے حقوق، علاج کے اخراجات اور اسپتالوں کی جوابدہی کے لئے ایک مربوط نظام وضع کیا جائے۔
صحت کا شعبہ: منافع کی منڈی یا عوامی خدمت؟
نجی اسپتال بھی ایک معاشی ڈھانچے کے تحت کام کرتے ہیں۔ انہیں بنیادی ڈھانچے، جدید طبی مشینری، تربیت یافتہ عملے اور دیگر سہولیات پر بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔ لہٰذا ان کے لئے مناسب مالی گنجائش اور منافع کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن صحت کا شعبہ عام تجارتی سرگرمیوں سے مختلف ہے۔ یہاں صارف اپنی سہولت کے مطابق خریداری نہیں کرتا بلکہ اکثر زندگی اور موت کی کشمکش میں فیصلے کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی فرق طبی خدمات کو خصوصی اخلاقی اور قانونی نگرانی کا مستحق بناتا ہے۔
کسی بھی اسپتال کی کامیابی کا پیمانہ صرف مالی منافع نہیں ہونا چاہیے، بلکہ علاج کا معیار، قیمتوں کی شفافیت اور انسانی وقار کا احترام بھی اس کی کارکردگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
حکومت کو قیمتوں کے تعین، تجارتی مارجن، ادویات کی دستیابی اور طبی مارکیٹنگ کے لئے جامع ضابطہ جاتی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ مریضوں کو تفصیلی بل فراہم کرنے اور شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ کی کارروائی اور آئندہ کا لائحۂ عمل
12 اکتوبر 2026 کے عدالتی ریکارڈ میں دونوں متعلقہ درخواستوں کی 27 اکتوبر کو دوپہر دو بجے سماعت کے لئے فہرست بندی کا ذکر موجود ہے۔ دوسری جانب، دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کو منظم کرنے سے متعلق معاملے میں 29 جنوری 2027 کو حکومتی تعمیل کے حلف نامے پر غور کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
تاہم، یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ 27 اکتوبر کی سماعت کے بعد دونوں درخواستوں کی اگلی تاریخ لازماً 29 جنوری 2027 مقرر کی گئی ہے۔ اس حوالے سے حتمی صورتِ حال جاننے کے لئے 27 اکتوبر کی کارروائی کا مصدقہ عدالتی حکم اور بعد کے عدالتی ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
بہرحال، ان مقدمات نے ہندوستان کے صحت کے نظام میں ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بحث صرف ادویات کی قیمتیں کم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق طبی اخلاقیات، کارپوریٹ جوابدہی، مریضوں کے بنیادی حقوق اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی سے بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ علاج کی سہولت اگر عام شہری کی معاشی استطاعت سے باہر ہو جائے تو طبی ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھونے لگتے ہیں۔ ایک ایسا نظامِ صحت جس میں مریض اپنی زندگی بچانے کے لئے علاج حاصل کرتے ہوئے مالی تباہی کے خوف میں مبتلا ہو، اسے محض جدید طبی سہولیات کی بنیاد پر کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور یہ معاملات ایک ایسے موقع کی حیثیت رکھتے ہیں جس کے ذریعے حکومت، طبی اداروں اور دوا ساز کمپنیوں کی ذمہ داریوں کا ازسرِنو تعین کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادویات اور طبی آلات کی قیمتوں میں شفافیت، تجارتی مارجن میں معقولیت، ڈاکٹروں کی آزادانہ طبی فیصلہ سازی اور مریضوں کے حقِ انتخاب کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ بالآخر کسی بھی صحت مند معاشرے کی پہچان اس کے مہنگے اسپتالوں، جدید مشینری یا بلند کاروباری منافع سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں ایک غریب اور بے بس مریض کو بھی عزت، انصاف اور مالی استحصال کے خوف سے آزاد ہو کر علاج حاصل کرنے کا حق میسر ہے یا نہیں۔ زندگی بچانا طب کا مقصد ہے، اسے منافع کی غیر محدود دوڑ کا وسیلہ بنانا نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں