نوجوان نسل کی بیداری وقت کی اہم ضرورت

 

جاوید حسین مرکزی

کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اس قوم کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کے نوجوان اچھے راستے پر چلتے ہیں، صلاحیت مند اور باہمت ہوتے ہیں اور اپنی قوم کو آگے بڑھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تو اس قوم کا ستارہ بلندی پر چمکتا ہے اور وہ قوم عروج حاصل کرتی ہے۔ لیکن اگر کسی قوم کے نوجوان راہِ راست سے بھٹک جائیں، غلط راستہ اختیار کر لیں اور طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جائیں، یہاں تک کہ بری صحبت اختیار کرکے اپنی زندگیاں برباد کر لیں، تو وہ قوم بھی تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی ہے، اس پر زوال آ جاتا ہے اور اس کا وقار ختم ہونے لگتا ہے۔
یاد رکھیے کہ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے یا انقلاب برپا کیا ہے، ان میں ان کے نوجوانوں کا نمایاں کردار رہا ہے، خواہ معاملہ سیاست کا ہو، معیشت کا، اخلاق کا یا تعلیم کا۔ نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ چنانچہ جس قوم کے نوجوان راہِ راست پر ہوں، اس قوم کا مستقبل بھی روشن ہوتا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو دامنِ اسلام سے وابستہ ہونے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں نوجوانوں کی نمایاں تعداد تھی۔ ان نوجوان صحابہ کے حوصلے بلند تھے اور وہ میدانِ کارزار میں دشمنوں کا بہادری کے ساتھ سامنا کیا کرتے تھے۔ یہی وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے ایک عظیم الشان انقلاب برپا کیا اور اسلام کا پرچم بلند کیا۔
آج ہماری قوم جس پستی کا شکار ہے اور جس زوال سے دوچار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل راہِ راست سے بھٹک رہی ہے اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر پوری طرح عمل نہیں کر رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اور تعلیم کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔ اسی طرح اسلام نے صحت کی حفاظت اور جسمانی قوت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ مگر افسوس کہ آج ہماری نوجوان نسل تعلیم کے میدان میں بھی پیچھے ہے اور اپنی صحت کے ساتھ بھی کھلواڑ کر رہی ہے۔
تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے انسان اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا ہے، بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور پوری دنیا میں اپنا نام روشن کر سکتا ہے۔ جس قوم کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، وہ قوم دنیا میں ترقی کرتی ہے اور اسے عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر افسوس کہ دورِ حاضر میں ہماری قوم کے نوجوان تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ان میں سے بہت سے نوجوان ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی تعلیم موقوف کر دیتے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ تک تو ہماری قوم کے نوجوانوں کی تعداد کافی نظر آتی ہے، لیکن گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، پی ایچ ڈی اور یو پی ایس سی جیسے مسابقتی امتحانات میں ان کی تعداد بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی ہماری قوم کی تعلیمی پسماندگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ جب نوجوان اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، بری صحبت اختیار کر لیتے ہیں اور راہِ راست سے بھٹک جاتے ہیں تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہونے لگتی ہیں اور وہ اپنی زندگی برباد کر بیٹھتے ہیں۔ جب قوم کے نوجوان تعلیم سے دور ہو جائیں اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو جائیں تو اس قوم کی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے اور وہ تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہے۔
صحت اللہ رب العزت کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں بھی صحت، قوت اور تندرستی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
مگر افسوس کہ آج ہماری نوجوان نسل اپنی صحت کا مناسب خیال نہیں رکھتی۔ بعض نوجوان بیڑی، سگریٹ، تمباکو، چرس اور یہاں تک کہ شراب نوشی جیسی مضر عادتوں میں کم عمری ہی سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان عادتوں کے نتیجے میں ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور وہ کم عمری میں ہی مختلف مہلک بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کی حفاظت کریں، نقصان دہ چیزوں سے دور رہیں اور اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں، کیونکہ صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔
دورِ حاضر میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جس کا غلط استعمال نوجوان نسل کو راہِ راست سے بھٹکا سکتا ہے۔ انسان سوشل میڈیا کے استعمال میں اس قدر منہمک ہو جاتا ہے کہ اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا۔ وہ ریلز دیکھتے ہوئے گھنٹوں گزار دیتا ہے اور یوں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال ایک ایسی عادت بن سکتا ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پر طرح طرح کا نامناسب مواد موجود ہوتا ہے۔ جب نوجوان اس مواد کو دیکھتے ہیں تو بعض اوقات انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح غلط راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی تعلیم، اخلاق اور کردار متاثر ہوتے ہیں اور ان کی قیمتی جوانی ضائع ہونے لگتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال اعتدال کے ساتھ کریں، مفید اور تعمیری مواد کو ترجیح دیں اور نامناسب مواد سے خود کو محفوظ رکھیں۔
ہماری قوم کے نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بہت جلد جذبات میں آ جاتا ہے اور اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ اس طبقے کے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ اینٹ کا جواب صرف پتھر سے ہی دیا جانا چاہیے۔ ان کے نزدیک سنجیدگی، حکمت اور صبر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ اگر کوئی شخص حکمت اور سنجیدگی سے کام لے تو وہ اسے بزدلی سمجھتے ہیں۔ وہ ہر وقت جوش و جذبات کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کا یہی بے قابو جوش کبھی کبھی انہیں ایسی بڑی مصیبت میں ڈال دیتا ہے جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اسی غیر محتاط رویے کی وجہ سے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑتا ہے اور یوں ان کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔
لہٰذا ہمیں اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہماری قوم کے نوجوان ہمیشہ جوش و جذبات سے کام نہ لیں، بلکہ موقع و محل اور حالات کے مطابق صبر، تحمل اور حکمت سے بھی کام لیں۔ زندگی کے ہر معاملے میں صرف جوش کافی نہیں ہوتا، بلکہ صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب ہماری قوم کے نوجوان اپنے جذبات پر قابو رکھیں گے، تحمل کا دامن تھامے رہیں گے اور حکمتِ عملی سے کام لیں گے تو ان شاء اللہ وہ نہ صرف خود کامیاب ہوں گے، بلکہ اپنی قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔
اس پرفتن دور اور نازک حالات میں ہمیں مایوس ہوکر نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ اپنی قوم کے روشن مستقبل کے لئے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں اور نوجوان نسل کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ہم آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کریں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔ ہمیں تعلیم کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور ہر قسم کی بری عادت سے دور رہنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچنا چاہیے اور اپنے بچوں کی بھی اس سلسلے میں مناسب رہنمائی کرنی چاہیے۔ نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ زندگی کے مسائل کا حل محض جذباتی ردِعمل میں نہیں، بلکہ صبر، تحمل، دانش مندی اور حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔
جب ہم ان تمام باتوں پر عمل کریں گے تو ان شاء اللہ ہماری قوم ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی، اس کا وقار بلند ہوگا اور اس کا مستقبل روشن ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

نوجوان نسل کی بیداری وقت کی اہم ضرورت

 

جاوید حسین مرکزی

کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اس قوم کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کے نوجوان اچھے راستے پر چلتے ہیں، صلاحیت مند اور باہمت ہوتے ہیں اور اپنی قوم کو آگے بڑھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تو اس قوم کا ستارہ بلندی پر چمکتا ہے اور وہ قوم عروج حاصل کرتی ہے۔ لیکن اگر کسی قوم کے نوجوان راہِ راست سے بھٹک جائیں، غلط راستہ اختیار کر لیں اور طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جائیں، یہاں تک کہ بری صحبت اختیار کرکے اپنی زندگیاں برباد کر لیں، تو وہ قوم بھی تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی ہے، اس پر زوال آ جاتا ہے اور اس کا وقار ختم ہونے لگتا ہے۔
یاد رکھیے کہ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے یا انقلاب برپا کیا ہے، ان میں ان کے نوجوانوں کا نمایاں کردار رہا ہے، خواہ معاملہ سیاست کا ہو، معیشت کا، اخلاق کا یا تعلیم کا۔ نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ چنانچہ جس قوم کے نوجوان راہِ راست پر ہوں، اس قوم کا مستقبل بھی روشن ہوتا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو دامنِ اسلام سے وابستہ ہونے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں نوجوانوں کی نمایاں تعداد تھی۔ ان نوجوان صحابہ کے حوصلے بلند تھے اور وہ میدانِ کارزار میں دشمنوں کا بہادری کے ساتھ سامنا کیا کرتے تھے۔ یہی وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے ایک عظیم الشان انقلاب برپا کیا اور اسلام کا پرچم بلند کیا۔
آج ہماری قوم جس پستی کا شکار ہے اور جس زوال سے دوچار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل راہِ راست سے بھٹک رہی ہے اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر پوری طرح عمل نہیں کر رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اور تعلیم کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔ اسی طرح اسلام نے صحت کی حفاظت اور جسمانی قوت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ مگر افسوس کہ آج ہماری نوجوان نسل تعلیم کے میدان میں بھی پیچھے ہے اور اپنی صحت کے ساتھ بھی کھلواڑ کر رہی ہے۔
تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے انسان اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا ہے، بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور پوری دنیا میں اپنا نام روشن کر سکتا ہے۔ جس قوم کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، وہ قوم دنیا میں ترقی کرتی ہے اور اسے عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر افسوس کہ دورِ حاضر میں ہماری قوم کے نوجوان تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ان میں سے بہت سے نوجوان ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی تعلیم موقوف کر دیتے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ تک تو ہماری قوم کے نوجوانوں کی تعداد کافی نظر آتی ہے، لیکن گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، پی ایچ ڈی اور یو پی ایس سی جیسے مسابقتی امتحانات میں ان کی تعداد بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی ہماری قوم کی تعلیمی پسماندگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ جب نوجوان اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، بری صحبت اختیار کر لیتے ہیں اور راہِ راست سے بھٹک جاتے ہیں تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہونے لگتی ہیں اور وہ اپنی زندگی برباد کر بیٹھتے ہیں۔ جب قوم کے نوجوان تعلیم سے دور ہو جائیں اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو جائیں تو اس قوم کی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے اور وہ تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہے۔
صحت اللہ رب العزت کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں بھی صحت، قوت اور تندرستی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
مگر افسوس کہ آج ہماری نوجوان نسل اپنی صحت کا مناسب خیال نہیں رکھتی۔ بعض نوجوان بیڑی، سگریٹ، تمباکو، چرس اور یہاں تک کہ شراب نوشی جیسی مضر عادتوں میں کم عمری ہی سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان عادتوں کے نتیجے میں ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور وہ کم عمری میں ہی مختلف مہلک بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کی حفاظت کریں، نقصان دہ چیزوں سے دور رہیں اور اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں، کیونکہ صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔
دورِ حاضر میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جس کا غلط استعمال نوجوان نسل کو راہِ راست سے بھٹکا سکتا ہے۔ انسان سوشل میڈیا کے استعمال میں اس قدر منہمک ہو جاتا ہے کہ اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا۔ وہ ریلز دیکھتے ہوئے گھنٹوں گزار دیتا ہے اور یوں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال ایک ایسی عادت بن سکتا ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پر طرح طرح کا نامناسب مواد موجود ہوتا ہے۔ جب نوجوان اس مواد کو دیکھتے ہیں تو بعض اوقات انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح غلط راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی تعلیم، اخلاق اور کردار متاثر ہوتے ہیں اور ان کی قیمتی جوانی ضائع ہونے لگتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال اعتدال کے ساتھ کریں، مفید اور تعمیری مواد کو ترجیح دیں اور نامناسب مواد سے خود کو محفوظ رکھیں۔
ہماری قوم کے نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بہت جلد جذبات میں آ جاتا ہے اور اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ اس طبقے کے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ اینٹ کا جواب صرف پتھر سے ہی دیا جانا چاہیے۔ ان کے نزدیک سنجیدگی، حکمت اور صبر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ اگر کوئی شخص حکمت اور سنجیدگی سے کام لے تو وہ اسے بزدلی سمجھتے ہیں۔ وہ ہر وقت جوش و جذبات کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کا یہی بے قابو جوش کبھی کبھی انہیں ایسی بڑی مصیبت میں ڈال دیتا ہے جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اسی غیر محتاط رویے کی وجہ سے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑتا ہے اور یوں ان کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔
لہٰذا ہمیں اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہماری قوم کے نوجوان ہمیشہ جوش و جذبات سے کام نہ لیں، بلکہ موقع و محل اور حالات کے مطابق صبر، تحمل اور حکمت سے بھی کام لیں۔ زندگی کے ہر معاملے میں صرف جوش کافی نہیں ہوتا، بلکہ صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب ہماری قوم کے نوجوان اپنے جذبات پر قابو رکھیں گے، تحمل کا دامن تھامے رہیں گے اور حکمتِ عملی سے کام لیں گے تو ان شاء اللہ وہ نہ صرف خود کامیاب ہوں گے، بلکہ اپنی قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔
اس پرفتن دور اور نازک حالات میں ہمیں مایوس ہوکر نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ اپنی قوم کے روشن مستقبل کے لئے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں اور نوجوان نسل کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ہم آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کریں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔ ہمیں تعلیم کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور ہر قسم کی بری عادت سے دور رہنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچنا چاہیے اور اپنے بچوں کی بھی اس سلسلے میں مناسب رہنمائی کرنی چاہیے۔ نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ زندگی کے مسائل کا حل محض جذباتی ردِعمل میں نہیں، بلکہ صبر، تحمل، دانش مندی اور حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔
جب ہم ان تمام باتوں پر عمل کریں گے تو ان شاء اللہ ہماری قوم ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی، اس کا وقار بلند ہوگا اور اس کا مستقبل روشن ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں