
ڈاکٹر محمد واسع ظفر
اسلام نے اموال کی دیگر اقسام کے ساتھ کھیت اور باغات کی پیداوار پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اور اس کے لئے شرعی اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں۔ زرعی پیداوار کی زکوٰۃ کو ـ’عشر‘ اور ’نصف العشر‘ کہا جاتا ہے، جس کی شرح آب پاشی کے طریقے اور دیگر متعلقہ شرائط کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلم کاشت کار زرعی پیداوار کے نصاب اور اس سے متعلق شرعی احکام سے واقف ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ اس فریضے کو درست طریقے سے ادا کرسکیں اور اس کے دینی و معاشرتی مقاصد بھی کماحقہٗ پورے ہوں۔ سطور ذیل میں زرعی پیداوار کے نصاب اور اس سے متعلق شرعی احکام کو ترتیب وار قدرے تفصیل سے پیش کیا جارہا ہے۔
کھیت اور باغات کی پیداوار کی زکوٰۃ کے نصاب کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’لَیْسَ فِیْمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَۃِ أَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ‘‘’’پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (صحیح البخاريؒ، حدیث نمبر ۱۴۸۴، بروایت ابوسعید الخدریؓ)۔ آپؐ کا یہ ارشاد مبارک بھی منقول ہے: ’’مسلمان شخص کے انگوروں اور غلے میں زکوٰۃ نہیں جب تک وہ پانچ وسق سے کم ہو۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر ۷۴۷۲، بروایت جابر بن عبداللہؓ)۔ ان احادیث کی بنیاد پر مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ اور احناف میں سے امام محمدؒ اور امام یوسفؒ کے نزدیک پانچ وسق سے کم کی پیداوار پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ایک وسق ساٹھ صاع (مختوم) کا ہوتا ہے اور ایک صاع مفتی عبدالرحمن القاسمی عظیم آبادی کے مطابق اس دور کے رائج وزن میں تین کلو، ایک سو انچاس گرام، دوسو اسی ملی گرام ہوتا ہے۔ (مفتاح الاوزان، الامۃ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، حیدر آباد، ۲۰۱۶ء، صفحہ ۴۳)۔ اس حساب سے ایک وسق موجودہ تول میں ۱۸۸ کلو، ۹۵۶ گرام، ۸۰ ملی گرام اور پانچ وسق ۹۴۴ کلو، ۷۸۴گرام ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ صاع کے وزن میں نہ صرف احناف اور دیگر فقہی مسالک کے علما کے درمیان اختلاف ہے بلکہ خود احناف کے درمیان بھی اختلاف ہے۔ مولانا ثمیرالدین قاسمی ایک صاع کا وزن اس دور کے رائج وزن میں تین کلو، ایک سوچوراسی گرام لکھتے ہیں۔ ان کے حساب سے ایک وسق موجودہ تول میں ۱۹۱ کلو، ۴۰ گرام اور پانچ وسق ۹۵۵ کلو، ۲۰۰گرام ہوتا ہے۔ (ثمرۃ الاوزان، مکتبہ ثمیر، مانچیسٹر، انگلینڈ، ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷) ۔ علامہ ڈاکٹر وھبۃ الزحیلیؒ کے مطابق پانچ وسق دور حاضر کے وزن میں ۶۵۳ کلوگرام ہی کے برابر ہوتا ہے۔ (الفقہ الاسلامی و ادلتہ (اردو)، دارالاشاعت، کراچی، ۲۰۱۲ء، جلد ۲، صفحہ ۲۳۴، ۲۳۸)۔
ان اقوال میں سے آپ جس کو بھی اختیار کرلیں، اس سے کم پیداوار کی زکوٰۃ جمہور کے نزدیک لازم نہیں ہے لیکن امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مطلقاً زمین کی پیداوار پر زکوٰۃ فرض ہے خواہ اس کی مقدار کچھ بھی ہو۔ ان کی دلیل سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۷سے ہے جس میںیہ حکم ہے: ’’اے ایمان والو! خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں۔‘‘ ان کی دوسری دلیل رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے ہے: ’’فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْأَنْھَارُ وَالْعُیُونُ، أَوْ کَانَ بَعْلًا، الْعُشْرُ، وَفِیْمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي أَوِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ‘‘ ’’جو کھیتیاں بارش سے سیراب ہوتی ہوں یا دریاؤں اور چشموں سے یا زمین کی تری سے تو ان میں ـ’عشر‘ (دسواں حصہ) ہے، اور جو اونٹنیوں سے (رہٹ کے ذریعے) سیراب کی جاتی ہوں یا جن کی آب پاشی کی جاتی ہو تو ان میں ’نصف العشر‘ (بیسواں حصہ) ہے۔‘‘ (سنن أبي داودؒ، حدیث نمبر۱۵۹۶)۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کی آیت اور مذکورہ حدیث کے حکم میں عمومیت ہے، حدیث میں دسواں یا بیسواں حصہ پیداوار کی زکوٰۃ بتایا گیا ہے، اس میں مقدار کی کوئی قید نہیں لگائی گئی ہے اور قلیل و کثیر پیداوار میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔ اس لئے پیداوار خواہ جس مقدار میں بھی ہو، مذکورہ حدیث میں دیے گئے اصول کے مطابق اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ احقر کے نزدیک اس معاملے میں جمہور فقہا کی رائے قوی ہے کیوں صحیح احادیث سے پانچ وسق کی قید ثابت ہے۔ اگر امام ابوحنیفہؒ کی راے اختیار کی جائے تو جس شخص کے پاس تھوڑی سی زمین اور قلیل پیداوار ہو، جو اس کی سال بھر کی ضروریات کے لئے بھی کافی نہ ہو، اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازمی ہوگا جو کہ خلاف عقل و عدل ہے۔ یہاں ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ جس شخص کے پاس پانچ وسق سے کم پیداوار ہو ، وہ برکت حاصل کرنے کے لئے استحباب کے طور پر پیداوار کی زکوٰۃ نکالے، جس سے مسکینوں اور محتاجوں کا بھی بھلا ہو لیکن یہ عزیمت کا پہلو ہوگا نہ کہ وجوب کا، واللہ اعلم!
واضح رہے کہ پیداوار کی زکوٰۃ میں صرف آب پاشی کے قدرتی یا مصنوعی نظام کا اعتبار کیا گیا ہے کیوں اس سے پودے کی حیات و بقا وابستہ ہے، کمپوسٹ، چونا، کھاد وغیرہ اشیا جو فصل میں اضافے کے لئے ڈالی جاتی ہے، ان کا اعتبار نہیں کیا گیا کیوں کہ فصل میں اضافہ ان اخراجات کی بھرپائی کردیتا ہے۔ اس لئے اگر کوئی فصل صرف بارش کے پانی سے سیراب ہوکر تیار ہوگئی لیکن اس میں کھاد ڈالنا پڑا ہے تب بھی اس میں دسواں حصہ (عشر) ہی زکوٰۃواجب ہوگی۔ اسی طرح مزدوروں، کھیتی کے آلات، زرعی بیج اور دیگر ضروریات پر ہونے والے اخراجات کو بھی زکوٰۃکے حساب میں منہا نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی فصل قدرتی اور مصنوعی دونوں طریقے سے سیراب ہوکر تیار ہوئی ہو، تو اس میں اکثر کا اعتبار ہوگا، یعنی اگر زیادہ تر قدرتی پانی سے سیراب ہوئی ہو تو عشر واجب ہوگا اور اگر سیرابی کے لئے زیادہ تر مصنوعی یا دستکارانہ طریقے استعمال ہوئے ہوں تو نصف عشر واجب ہوگا، اور اگر دونوں ذرائع برابر برابر استعمال ہوئے ہوں تو بھی نصف عشر ہی واجب ہوگا۔
اب دوسری اہم بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کن پیداوار پر وصولی جائے گی یا ادا کی جائے گی؟ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زکوٰۃ صرف گندم، جو، کھجور اور منقہ میں وصولی جاتی تھی۔ موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ ان کے پاس معاذ بن جبلؓ کی وہ تحریر تھی جو رسول اللہ ﷺ نے ان کو یمن بھیجتے وقت دی تھی کہ وہ گندم، جو، منقہ اور کھجور سے زکوٰۃ وصول کریں۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۴۷۴)۔ حجاج نے موسیٰ بن طلحہؒ کی زمین سے سبزیوں کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے موسیٰ بن مغیرہ کو بھیجا تو موسیٰ بن طلحہؒ نے کہا: ــ’’ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی تحریر ہے جو آپؐ نے معاذ بن جبلؓ کو دی تھی، آپؐ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ صرف گندم، جو، کھجور اور منقہ سے زکوٰۃ وصول کریں‘‘، پھر انہوں نے یہ بات حجاج کو لکھ بھیجی تو اس نے کہا: بالکل ٹھیک ہے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۴۷۵)۔ پھر معاذ بن جبلؓ کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اس (فصل) میں جسے آسمان سیراب کرتا ہے یا وہ بارانی یا سیلاب والی زمینوں کی پیداوار ہے تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جن کو پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے، ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے اور یہ کھجور، گندم اور غلہ میں سے ہوتا ہے لیکن جو ککڑیاں، تربوز، انار اور سبزیاں ہیں، ان سے رسول اللہ ﷺ نے (زکوٰۃ) معاف کردیا ہے۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۴۷۷)۔یحيٰ بن مغیرہ نے ابن نافع سے روایت کیا ہے کہ ساگ اور سبزیوں کی زکوٰۃ رسول اللہ ﷺ نے معاف کردی۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۴۷۸) ۔ یہ ساری روایات سند کے اعتبار سے صحیح ہیں۔ پہلی دو محدثین کے نزدیک حسن لغیرہ کے درجے میں اور آخری دو صحیح لغیرہ کے درجے میں ہیں۔
ان روایات کی بنیاد پر امام حسن بصریؒ، امام ثوریؒ اور امام شعبیؒ کی راے میں صرف انہی اجناس پر زکوٰۃ واجب ہوگی جن کا ذکر سنت میں ملتا ہے یعنی گندم، جو، کھجور اور منقہ کیوں کہ ان کے علاوہ میں کسی کا ذکر عشر کی وصولی میںنہیں ملتا، امام شوکانیؒ نے اسی رائے کو حق قرار دیا ہے۔ دوسری طرف امام یوسفؒ، امام محمدؒ اور جمہور فقہاکی راے یہ ہے کہ زکوٰۃ ان ہی اناج یا پھلوں میں واجب ہوگی جو قوت بننے کے قابل ہوں، ماپے یا تولے جاسکتے ہوں اور کسی مصنوعی تدبیر کو بروئے کار لائے بغیر سال بھر ذخیرہ کیے جا سکتے ہوں۔ اس اصول سے دیکھیں تو اناج میں گندم، جو ، مکئی، دھان (چاول)، جوار، باجرہ، ہر قسم کے تیل کے بیج (زیتون، سرسوں، رائی، تل وغیرہ)، ماش، چنا، مسور، مٹر ، اور جو اجناس ان کے مشابہ ہوں،پھلوں میں انگور (کشمش) اور کھجور (چھوہارے)، اخروٹ، انجیر، خوبانی، پستہ، بادام،مصالحہ جات میںلہسن، پیاز، ادرک، ہلدی، دھنیا، زیرہ، کالی مرچ، اجوائن وغیرہ پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔ سبزیوں، ککڑیوں، تربوز، کھیرا، کدو، بینگن، شلغم، چقندر، گوبھی، گاجر، مولی وغیرہ، نیز انگور، کھجور اور ذکر کئے گئے پھلوں کے علاوہ دوسرے پھلوں مثلاًآم، انار، امرود، سیب، شفتالو، لیموں وغیرہ پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
مذکورہ رایوں سے ہٹ کر تیسری راے امام ابوحنیفہؒ کی یہ ہے کہ زمین سے حاصل ہونے والی ہر پیداوار پر زکوٰۃ ہے خواہ قلیل ہو یا کثیر، مکیل ہو یا غیر مکیل، اسے سال بھر ذخیرہ کیا جاسکتا ہو یا نہیں کیا جاسکتا ہو، اس ضمن میں انہوں نے سبزیوں اور دیگر پیداوار میں بھی کوئی فرق نہیں کیا، ان کے نزدیک رخصت صرف لکڑی، ایندھن، گھاس، بھوسہ میں ہے۔ ان کی دلیل ایک بار پھر سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۷ اور ’’فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ‘‘ والی حدیث سے ہے (جو سطور بالا میں نقل کی جاچکی ہیں) کہ ان میں عمومیت ہے، اس لئے حکم کا اطلاق سبھی پیداوار پر ہوگا۔ احناف کے نزدیک امام ابوحنیفہؒ کی راے ہی راجح ہے۔ احقر کو بھی اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہؒ کی رائے پسند ہے لیکن سبزیوں کی زکوٰۃ کی معافی چوں کہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح احادیث سے ثابت ہے، اس لئے ان پر زکوٰۃ کو احقر ایک بار پھر عزیمت یا استحباب کے دائرے میں ہی رکھے گا، نہ کہ وجوب کے دائرے میں۔ بہتر یہ ہے کہ سبزیوں اور کشمش و چھوہارے کے علاوہ دیگر پھلوں کی پیداوار میں بھی انسان فقرا، مساکین و محتاجوں کے حق کو یاد رکھے۔ یہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی شکرگزاری کے قریب ترہے۔
اب پیداوار کی زکوٰۃکے سلسلے میں تیسری اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ اس کے واجب ہونے کا وقت کیا ہے؟ اس سلسلے میں قرآن کا حکم بہت واضح ہے: {وَآتُوْا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ} ’’ اس میں جو حق واجب ہے اسے کاٹنے کے دن دیا کرو۔‘‘ (الأنعام:۱۴۱)۔ یعنی پیداوار جس دن کٹے یا پھل جس دن درختوں سے ٹوٹے اسی دن اس کی زکوٰۃ حسب اصول عشر یا نصف عشر ادا کردینا چاہیے۔ دوسری اشیا کی طرح زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے سال گزرنے کی شرط نہیں ہے بلکہ ایک ہی زمین میں سال میں اگر دو فصل ہو مثلاً ربیع اور خریف تو دونوں پر حسب اصول عشر یا نصف عشر واجب ہوگا۔ کاشت کاروں کو چاہیے کہ مذکورہ شرعی اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھتے ہ
٭٭٭٭٭


