
محسن ضیائی
دنیا میں بعض حکمراں ایسے رہے ہیں، جنہوں نے اقتدار و آمریت کے نشے میں لوگوں پر بے تحاشا ظلم ڈھایا، ان کے حقوق و تحفظات کو روندا ، ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا اور ایسے حالات پیدا کیے، جس کے نتیجے میںمہنگائی آسمان پر پہنچ گئی، بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ گئی اور تعلیمی اور روز مرہ زندگی کے مسائل بڑھتے گئے۔
یہ سب صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ کئی ممالک میں ہوا، جہاں وقت کے فرعونوں نے جبر واستحصال کے ذریعے اقتدارحاصل کیا اور ملک کو ہر شعبے میں کمزور کرنے کا مذموم کام کیا۔ لیکن حالیہ چند سالوں سے پوری دنیا میں جمہوریت کے تئیں عوام میں قدرے بیداری دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نظائر ان دنوں کھلے بندوں دیکھے جاسکتے ہیں کہ لوگ اپنے حقوق و مطالبات کے لئے کس طرح سڑکوں پرنکل کر ملک گیر پیمانے پر احتجاج اور مظاہرےکررہے ہیں۔
ان دنوں چند ممالک میں حکومتوں کی آمرانہ پالیسیوں اور حد درجہ زیادتیوں کے خلاف عوامی غم و غصہ پایا جارہا ہے، جن میں فرانس، ہندوستان، اٹلی، اسپین بیلجیم، تیونس، البانیہ، پرتگال اور امریکہ قابل ذکر ہیں،
جن میں سے پانچ ممالک تو یوروپ کے ہیں جہاں شہری اپنے حقوق و مراعات کے لئے جد و جہد کررہے ہیں۔ یوروپی ممالک کے حکمران دنیا بھر میں اپنے ترقیاتی کاموں، جامع منصوبہ بندیوں اور مضبوط پالیسیوں کا حوالہ دیا کرتے تھے، لیکن عوام نے ان کے تمام فلک شگاف دعووں کاپول کھول کر رکھ دیا ۔چند دنوں میں یہ دیکھنا بڑا دلچسپ ہوگا کہ وہاں حکومتوں کا تختہ پلٹ ہوسکتا ہے یا پھر عوام کے مطالبات پورے ہوتے ہیں۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ اس بار فتح عوام اور جمہوریت کی ہوگی۔
مذکورہ بالا گفتگو کی روشنی میں یہ واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ تمام ممالک میں ہونے والے مظاہرین کے مطالبات مختلف ہیں تاہم بنیادی وجہ صرف ایک ہے اور وہ ہےرجیم چینج (اقتدار کی تبدیلی)۔
ایک وقت تھا کہ حکومتیں عوام کو سبز باغ دکھاکر بہلا لیاکرتی تھیں اور پھر ان کا استحصال کرتی تھیں، لیکن اب حالات بہت مختلف ہیں، عوام اپنے شہری، ملکی، آئینی اور مذہبی حقوق کو جانتی ہے اور ان میں ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف پُر زور آواز اٹھانا اپنا جمہوری حق سمجھتی ہے۔ لہٰذا اب حکومتوں کے لئے عوام کو بھولا بھالا سمجھ کر بہلانا پھسلانا اتنا آسان نہیں رہا، بلکہ یہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔آج پوری دنیا کی عوام بیدار ہوچکی ہے، جو اپنے جائز حقوق اور حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے خلاف متحرک ہے۔ اس کی چند مثالیں حالیہ چند سالوں میں سری لنکا،شام اور بنگلہ دیش میں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں عوام نے حکومتوں کا تختہ پلٹ کیا اور ہٹلر جیسے حکمرانوں کو سخت سبق سکھایا۔
اب ان ممالک کو ماضی اور حال کے واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیےاور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوامی مظاہروںسے حیرت انگیز نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ماضی کے کئی مظاہرے ایسے ہیں جو انقلابی ثابت ہوئے ہیں، جنہوں نے حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیااور اپنے مطالبات تسلیم کرواکر ہی دم لیا، جن میں سے چند کامیاب مظاہرے تو ہندوستان ہی میں ہوئے ہیں، جن میں۲۰۱۹ء میں شاہین باغ مظاہرہ اور ۲۰۲۰ ءمیں کسان آندولن شامل ہیں، جنہوں نے حکومت کی راتوں کی نیندیں اُڑا دی تھیں۔دنیا بھر میں ہونے والے انقلابی احتجاجوں سے بہت ساری تحریکوں نے بھی جنم لیا ہے، جو آگے چل کر اقتدار بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔لہٰذاحکومتیں ملک و قوم کے مفادات کے مطابق کام کریں تاکہ اس سے نظام مملکت بہتر انداز میں آگے بڑھےاور عوام کے حقوق و مطالبات بھی پورے ہوں ۔ اسی میں ملک کی سالمیت اور عوام کی فلاح و بہبود کے راز پوشیدہ ہیں۔


