نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ غزہ میں تباہ کن جنگ اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی نے ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم انتخابی نتائج نہ تو ان کی سیاست کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور نہ ہی اسرائیلی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت دیتے ہیں۔ 85.6یصد ووٹوں کی گنتی کے مطابق نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد اکثریت کھو چکا ہے، لیکن اب بھی سب سے بڑا سیاسی اتحاد ہے۔ ان کی جماعت لیکوڈ کو 26 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جب کہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں یاشار کو 21 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اوتزما یہودیت اور مذہبی صہیونیت نے مجموعی طور پر 13 نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوسری طرف مشترکہ عرب فہرست کو 12 اور یونائیٹڈ عرب لسٹ کو 7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں، بشرطیکہ حزب اختلاف ان کے ساتھ اتحاد پر آمادہ ہو۔

انتخابی نتائج اسرائیلی سیاست کا تضاد نمایاں کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کی پالیسیوں سے مایوسی کے باوجود انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت برقرار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں قوم پرستی، مذہبی انتہا پسندی اور طاقت کے استعمال پر مبنی سیاست کی جڑیں گہری ہیں۔ لہٰذا نیتن یاہو کی رخصتی کو ریاستی پالیسیوں میں تبدیلی کا مترادف قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔نیتن یاہو کا دعویٰ رہا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت صرف وہی دے سکتے ہیں، لیکن 7 اکتوبر کا حملہ اس دعوے پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی انہوں نے سلامتی کے نظام کی ناکامیوں کی مکمل ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جمہوری نظام میں ایسی ناکامیوں کا احتساب ضروری ہے، مگر انہوں نے سلامتی کے خدشات کو اپنی جنگی پالیسیوں کے دفاع کے لئے استعمال کیا۔ غزہ پر اسرائیلی جنگ نے انسانی تباہی کی سنگین تصویر پیش کی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ ہزاروں خاندان اجڑ گئے اور شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔ کسی ریاست کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بن سکتا۔

مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی قبضے کی گرفت مضبوط ہوئی ہے اور فلسطینیوں کو آبادکاروں کے تشدد، نقل مکانی اور زمینوں پر قبضے کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو کی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت امن کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ایران کے ساتھ جنگ اور علاقائی محاذ آرائی نے بھی اسرائیل کی سلامتی کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں سے علاقائی عدم استحکام بڑھتا ہے اور عالمی معیشت و توانائی کی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنگ کو کامیابی کی علامت قرار دینا آسان ہے، مگر اس کی انسانی اور معاشی قیمت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔عرب جماعتیں ان انتخابات کے بعد حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگر حزب اختلاف واقعی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے عرب نمائندوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ عرب جماعتوں کو اسرائیلی سیاست میں حاشیے پر رکھنے کے بجائے جمہوری عمل میں ان کی شمولیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ تاہم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہی کافی نہیں؛ نئی حکومت کو جنگی پالیسیوں پر نظرثانی بھی کرنا ہوگی۔اسرائیل کو ایسی قیادت درکار ہے جو سلامتی کو محض فوجی طاقت اور جنگوں سے تعبیر نہ کرے۔ جواب دہ حکمرانی، انسانی حقوق کا احترام، فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی تسلیم اور ہمسایہ ممالک سے پُرامن تعلقات ہی حقیقی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر نئی قیادت بھی جنگی ذہنیت برقرار رکھتی ہے تو نیتن یاہو کی جگہ دوسرا چہرہ آنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔انتخابی نتائج نے نیتن یاہو کو کمزور ضرور کیا ہے، لیکن ان کی حکومت کا خاتمہ اور پالیسیوں کی اصلاح یقینی نہیں۔ اصل امتحان حزب اختلاف کا ہے کہ آیا وہ وسیع اتحاد قائم کرکے جنگ اور قبضے کے تسلسل کو روک سکتی ہے یا نہیں۔آخرکار، اسرائیل کے لئے اصل سوال یہ نہیں کہ نیتن یاہو اقتدار میں رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ملک جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکلنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔ فلسطین میں انصاف، شہریوں کا تحفظ اور سیاسی حقوق کی بحالی کے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

تازہ ترین خبریں

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ غزہ میں تباہ کن جنگ اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی نے ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم انتخابی نتائج نہ تو ان کی سیاست کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور نہ ہی اسرائیلی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت دیتے ہیں۔ 85.6یصد ووٹوں کی گنتی کے مطابق نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد اکثریت کھو چکا ہے، لیکن اب بھی سب سے بڑا سیاسی اتحاد ہے۔ ان کی جماعت لیکوڈ کو 26 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جب کہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں یاشار کو 21 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اوتزما یہودیت اور مذہبی صہیونیت نے مجموعی طور پر 13 نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوسری طرف مشترکہ عرب فہرست کو 12 اور یونائیٹڈ عرب لسٹ کو 7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں، بشرطیکہ حزب اختلاف ان کے ساتھ اتحاد پر آمادہ ہو۔

انتخابی نتائج اسرائیلی سیاست کا تضاد نمایاں کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کی پالیسیوں سے مایوسی کے باوجود انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت برقرار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں قوم پرستی، مذہبی انتہا پسندی اور طاقت کے استعمال پر مبنی سیاست کی جڑیں گہری ہیں۔ لہٰذا نیتن یاہو کی رخصتی کو ریاستی پالیسیوں میں تبدیلی کا مترادف قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔نیتن یاہو کا دعویٰ رہا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت صرف وہی دے سکتے ہیں، لیکن 7 اکتوبر کا حملہ اس دعوے پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی انہوں نے سلامتی کے نظام کی ناکامیوں کی مکمل ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جمہوری نظام میں ایسی ناکامیوں کا احتساب ضروری ہے، مگر انہوں نے سلامتی کے خدشات کو اپنی جنگی پالیسیوں کے دفاع کے لئے استعمال کیا۔ غزہ پر اسرائیلی جنگ نے انسانی تباہی کی سنگین تصویر پیش کی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ ہزاروں خاندان اجڑ گئے اور شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔ کسی ریاست کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بن سکتا۔

مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی قبضے کی گرفت مضبوط ہوئی ہے اور فلسطینیوں کو آبادکاروں کے تشدد، نقل مکانی اور زمینوں پر قبضے کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو کی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت امن کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ایران کے ساتھ جنگ اور علاقائی محاذ آرائی نے بھی اسرائیل کی سلامتی کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں سے علاقائی عدم استحکام بڑھتا ہے اور عالمی معیشت و توانائی کی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنگ کو کامیابی کی علامت قرار دینا آسان ہے، مگر اس کی انسانی اور معاشی قیمت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔عرب جماعتیں ان انتخابات کے بعد حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگر حزب اختلاف واقعی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے عرب نمائندوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ عرب جماعتوں کو اسرائیلی سیاست میں حاشیے پر رکھنے کے بجائے جمہوری عمل میں ان کی شمولیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ تاہم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہی کافی نہیں؛ نئی حکومت کو جنگی پالیسیوں پر نظرثانی بھی کرنا ہوگی۔اسرائیل کو ایسی قیادت درکار ہے جو سلامتی کو محض فوجی طاقت اور جنگوں سے تعبیر نہ کرے۔ جواب دہ حکمرانی، انسانی حقوق کا احترام، فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی تسلیم اور ہمسایہ ممالک سے پُرامن تعلقات ہی حقیقی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر نئی قیادت بھی جنگی ذہنیت برقرار رکھتی ہے تو نیتن یاہو کی جگہ دوسرا چہرہ آنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔انتخابی نتائج نے نیتن یاہو کو کمزور ضرور کیا ہے، لیکن ان کی حکومت کا خاتمہ اور پالیسیوں کی اصلاح یقینی نہیں۔ اصل امتحان حزب اختلاف کا ہے کہ آیا وہ وسیع اتحاد قائم کرکے جنگ اور قبضے کے تسلسل کو روک سکتی ہے یا نہیں۔آخرکار، اسرائیل کے لئے اصل سوال یہ نہیں کہ نیتن یاہو اقتدار میں رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ملک جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکلنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔ فلسطین میں انصاف، شہریوں کا تحفظ اور سیاسی حقوق کی بحالی کے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں