ماتمِ خاموشی !

 

 

ریاض فردوسی

رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے شکستہ مکانوں پر مسلّط تھی۔آسمان پر آوارہ بادلوں کی یتیمی،زمین پر بکھرے ہوئے پتّوں کی بے بسی،اور ہوا میں کسی نامعلوم سانحے کی تعفّن زدہ اداسی پھیلی ہوئی تھی۔یوں محسوس ہوتا تھاجیسے کائنات نے کسی عظیم المیے کے بعد نوحہ خوانی ترک کر دی ہو،اور اب خاموشی ہی اس کا آخری مرثیہ بن گئی ہو۔اسی شہر کے ایک متروک گوشے میں،ایک بوسیدہ مکان کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں،ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔اس کے سامنے ایک زرد رو کاغذ،بجھتا ہوا چراغ اور ایک شکستہ قلم پڑا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے،شاید اس لیے کہ بعض دکھ آنکھوں کی حدود سے گزر کر وجود کی تہوں میں دفن ہو جاتے ہیں،جہاں سے نہ کوئی آہ برآمد ہوتی ہے،نہ کوئی فریاد۔
اس کا نام سلیم تھا۔وہ کبھی زندگی سے لبریز شخص ہوا کرتا تھا۔اس کے خوابوں میں صبحیں طلوع ہوتی تھیں،اس کی گفتگو میں امید کے چراغ روشن رہتے تھے، اور اس کے دل میں ایک ایسی عورت آباد تھی جس کے وجود سے اسے کائنات کے تمام موسم خوش گوار محسوس ہوتے تھے۔اس عورت کا نام مہر تھا۔
مہر محض ایک نام نہیں،سلیم کی پوری کائنات کا استعارہ تھی۔اس کی ہنسی میں بہاروں کی موسیقیت تھی،اس کی خاموشی میں صدیوں کی حکمت،اور اس کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی،جس میں ڈوب کر انسان اپنے تمام غم بھول سکتا تھا۔مگر تقدیر کو شاید انسان کی خوشی سے ازلی عداوت ہے۔مہر نے ایک روز سلیم سے کہا تھا:’’اگر کبھی میں تم سے بچھڑ جاؤں تو مجھے اپنی یادوں میں زندہ مت رکھنا۔یادیں انسان کو جینے نہیں دیتیں،صرف مرنے کا عمل طولانی کر دیتی ہیں۔‘‘
سلیم ہنس دیا تھا۔اسے کیا خبر تھی کہ بعض جملے مستقبل کی پیش گوئی نہیں ہوتے،بلکہ آنے والے عذاب کا پیشگی نوحہ ہوتے ہیں۔اس نے مہر کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا تھا:’’تم بچھڑ بھی گئیں توکیا ہوا؟محبت فاصلے کی محتاج نہیں ہوتی۔‘‘
مہر نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔اس کی پلکوں پر لرزتے ہوئے قطرے شاید کسی ان کہے المیے کی تمہید تھے۔پھر ایک دن مہر چلی گئی۔نہ کوئی طویل الوداع،نہ کسی وعدے کی تجدید،نہ کسی شکوے کی بازپرس۔بس ایک مختصر سا خط،جس میں چند سطریں تھیں اور ان سطروں میں سلیم کی پوری زندگی کا انہدام۔
’’سلیم!
میں تم سے محبت کرتی ہوں،مگر محبت ہمیشہ وصال کا مقدر نہیں رکھتی۔بعض اوقات انسان اپنے محبوب کو حاصل کرنے کے بجائے اس کی زندگی سے نکل جانے میں اس کی عافیت تلاش کرتا ہے۔مجھے معاف کر دینا۔میں تمہاری ہو کر بھی تمہاری نہ ہو سکی۔
تمہاری مہر۔‘‘
اس خط کے بعد سلیم نے بہت کچھ پڑھا،بہت کچھ لکھا،بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں،مگر وہ کبھی اس خط سے آگے نہ بڑھ سکا۔اسے رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ زندگی کا سب سے ہول ناک المیہ کسی عزیز کا بچھڑ جانا نہیں،بلکہ اس کے بچھڑنے کے بعد بھی دنیا کا معمول کے مطابق رواں دواں رہنا ہے۔بازاروں میں رونقیں تھیں،مساجد میں اذانیں،گلیوں میں بچوں کی شرارتیں، اور گھروں میں قہقہوں کی گونج۔
صرف سلیم کے اندر ایک شہر اجڑ گیا تھا،جس کی ویرانی کا نوحہ سننے والا کوئی نہ تھا۔دنیا میں سب سے زیادہ تنہا وہ شخص نہیں ہوتاجس کے پاس کوئی نہ ہو،بلکہ وہ ہوتا ہے،جس کے پاس سب کچھ ہو،مگر وہ ایک شخص نہ ہو جس کے سامنے وہ اپنا بکھرا ہوا وجود رکھ سکے۔سلیم نے مہر کو بھلانے کی بہت کوشش کی۔اس نے اپنی کتابوں کے اوراق پھاڑ دیے،پرانے خطوط جلا دیے،اس راستے پر جانا چھوڑ دیا جہاں مہر کبھی اس کے ساتھ چلا کرتی تھی۔حتیٰ کہ اس نے آئینے سے بھی نظریں چرانا شروع کر دیں،کیونکہ اسے اپنے چہرے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا تھا،جسے مہر نے کبھی محبت سے دیکھا تھا۔مگر یادداشت کا اپنا ایک استبدادی نظام ہوتا ہے۔وہ انھی چیزوں کو محفوظ رکھتی ہے،جن سے نجات پانے کے لیے انسان اپنی تمام قوتیں صرف کر چکا ہو۔کبھی رات کے آخری پہر اسے مہر کی آواز سنائی دیتی۔
کبھی بارش کی بوندوں میں اس کی ہنسی کی بازگشت محسوس ہوتی۔
کبھی کسی اجنبی عورت کے دوپٹے کا رنگ اسے مہر کے لباس کی یاد دلا دیتا۔
اور کبھی،محض کبھی،کسی راہ گیر کے ہونٹوں پر اپنا نام سن کر اس کا دل بے سبب دھڑکنے لگتا۔
وہ جانتا تھا کہ یہ سب فریبِ احساس ہے،مگر انسان کا دل عجیب شے ہے،حقیقت سے محروم ہو جائے تو وہ واہموں کی پرستش شروع کر دیتا ہے۔سال گزرتے گئے۔
سلیم کے بالوں میں چاندی اتر آئی،چہرے پر وقت کی خراشیں گہری ہو گئیں،اور اس کے وجود پر خاموشی کی ایک ایسی تہہ جم گئی جسے کوئی گفتگو تحلیل نہ کر سکی۔اس نے لوگوں کے دکھ سنے،ان کے جنازوں میں شرکت کی،غم زدہ چہروں کو تسلی دی،اور ان آنکھوں میں امید کے چراغ روشن کرنے کی کوشش کی جن میں زندگی بجھنے کے قریب تھی۔مگر اپنے لیے وہ کبھی کوئی تسلی دریافت نہ کرسکا۔وہ جان چکا تھا کہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا شخص اکثر اپنے زخموں کے ساتھ سب سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے۔
ایک شام،جب آفتاب افق کے دامن میں اپنی آخری سرخی انڈیل رہا تھا،سلیم کو ایک پرانا شناسا ملا۔اس نے سلیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا:
’’تم اب بھی مہر کو یاد کرتے ہو؟‘‘
سلیم نے آسمان کی طرف دیکھا۔وہاں پرندوں کا ایک غول اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہا تھا۔کچھ دیر بعد وہ بولا:’’یاد تو اسے کیا جاتا ہےجو ذہن سے محو ہو جائے۔مہر تو میرے وجود میں اس طرح پیوست ہے جیسے کسی زندہ درخت کی جڑوں میں زہر اتر جائے۔ درخت بظاہر ہرا رہتا ہے،مگر اس کے اندر زندگی کا انہدام شروع ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘
اس کا شناسا خاموش ہو گیا۔سلیم نے دھیرے سے کہا:
’’تم جانتے ہو،سب سے بڑا عذاب کیا ہے؟
کسی کو کھو دینا نہیں،بلکہ یہ جاننا کہ وہ کہیں موجود ہے،سانس لیتا ہے،صبح دیکھتا ہے،رات کو سوتا ہے،شاید کبھی مسکراتا بھی ہے،مگر اس کی زندگی میں تمہارا وجود اب کسی معنی کا حامل نہیں رہا۔تم اس کی دنیا سے اس طرح خارج ہو چکے ہوتے ہو جیسے کسی کتاب سے ایک بے معنی لفظ حذف کر دیا جائے۔‘‘
پھر اس نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اضافہ کیا:
’’موت انسان کو ہمیشہ کے لیے جدا کرتی ہے،مگر بے نیازی انسان کو اس کی اپنی یادوں میں اجنبی بنا دیتی ہے۔‘‘
اسی رات سلیم کو ایک خط موصول ہوا۔لفافے پر اس کا نام لکھا تھا،اور تحریر ایسی تھی کہ اس کے ہاتھ لرزنے لگے۔یہ مہر کا خط تھا۔کئی دہائیوں کے بعد۔
اس نے کانپتی انگلیوں سے لفافہ کھولا۔ اندر چند سطریں تھیں:
’’سلیم!
شاید تم مجھے بھول چکے ہو گے۔زندگی نے مجھے بہت سے ایسے راستوں پر چلایا جہاں میرے قدموں کی چاپ بھی میری اپنی نہ رہی۔میں نے بہت کچھ حاصل کیا، مگر جب کبھی تنہائی نے میرے دل کا دروازہ کھٹکھٹایا، مجھے تمہاری وہ خاموشی یاد آئی جس میں میرے لیے دنیا بھر کی محبت پوشیدہ تھی۔میں نہیں جانتی کہ تم اب کہاں ہو،کیسے ہو،اور کیا اب بھی مجھے یاد کرتے ہو۔
میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ انسان زندگی میں بہت سے فیصلے عقل سے کرتا ہے،مگر ان فیصلوں کی قیمت اکثر دل کو ادا کرنا پڑتی ہے۔مجھے معاف کر دینا،سلیم۔
میں نے تمہیں چھوڑ کر زندگی تو حاصل کر لی،مگر اس زندگی میں کبھی پوری طرح زندہ نہ رہ سکی۔
مہر۔‘‘
خط پڑھتے ہوئے سلیم کی آنکھوں میں پہلی بار آنسو اتر آئے۔وہ رویا نہیں،بلکہ اس کے اندر برسوں سے منجمد ایک سمندر پگھلنے لگا۔اس نے خط کو سینے سے لگا لیا، جیسے کسی بچھڑے ہوئے وجود کی آخری حرارت اس کاغذ میں محفوظ ہو۔پھر وہ بہت دیر تک بیٹھا رہا۔
اس کے سامنے چراغ کی لو کانپ رہی تھی۔باہر رات اپنی تاریکی میں گہری ہوتی جا رہی تھی،اور سلیم کے اندر ایک ایسا سوال جنم لے رہا تھا،جس کا جواب نہ فلسفے کے پاس تھا،نہ مذہب کے علما کے پاس،نہ زندگی کے تجربے کے پاس۔اگر محبت دونوں طرف موجود تھی،تو پھر جدائی اتنی طویل کیوں رہی؟
شاید اس لیے کہ محبت ہمیشہ انسان کو ایک دوسرے تک نہیں پہنچاتی۔کبھی وہ اسے اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے،جہاں وہ اپنے محبوب کی خوشی کے لیے خود کو اس کی زندگی سے خارج کر دیتا ہے،لیکن کیا کسی کی خوشی کے لیے خود کو مٹا دینا واقعی قربانی ہے،یا ایک ایسا خاموش خود فریبی جسے دنیا محبت کا مقدس نام دے دیتی ہے؟
سلیم کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔
اس نے قلم اٹھایا اور کاغذ پر لکھا:
’’مہر!
تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں تمہیں بھول گیا ہوں یا نہیں۔کاش،بھول جانا اتنا ہی آسان ہوتا جتنا کسی خط کو جلا دینا،کسی تصویر کو پھاڑ دینا یا کسی راستے سے منہ موڑ لینا۔تم نہیں جانتیں کہ انسان کسی دوسرے انسان کو نہیں کھوتا،بلکہ اس کے ساتھ وابستہ اپنے اس وجود کو کھو دیتا ہے جو صرف اسی کی نگاہوں میں زندہ ہوتا ہے۔تمہارے بعد میں نے زندگی تو گزاری،مگر اپنے اندر کبھی واپس نہ آ سکا۔اب تم لوٹ بھی آؤ تو شاید ہم ایک دوسرے کو پہچان لیں،مگر اپنے اس ماضی کو نہیں پہچان سکیں گے،جس میں ہم کبھی ایک دوسرے کے لیے پوری کائنات ہوا کرتے تھے۔محبت کی سب سے المناک شکست یہ نہیں کہ محبوب کسی اور کا ہو جائے،بلکہ یہ ہے کہ وہ تمہارا ہو کر بھی تمہاری زندگی میں واپس نہ آ سکے،کیونکہ وقت تم دونوں کے درمیان ایسی ناقابلِ عبور خلیج حائل کر چکا ہو،جسے نہ آنسو پاٹ سکیں،نہ ندامت،نہ کوئی آخری ملاقات۔
تم خوش رہنا۔
میری زندگی میں تمہارا نہ ہونا ایک مستقل المیہ ہے، مگر تمہاری زندگی میں میرا ہونا اگر تمہارے لیے عذاب بن جاتا،تو شاید میری محبت اس سے بھی بڑی شکست ہوتی۔
سلیم۔‘‘
خط مکمل کر کے اس نے قلم رکھ دیا۔اس رات وہ پہلی بار سکون سے سویا۔شاید اس لیے نہیں کہ اس کا درد ختم ہو گیا تھا،بلکہ اس لیے کہ برسوں بعد اس نے اپنے درد کو کسی دوسرے انسان کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔صبح ہوئی تو محلے کے لوگوں نے دیکھا کہ سلیم کے مکان کا دروازہ بند ہے۔دوپہر تک کوئی حرکت نہ ہوئی تو چند افراد اندر داخل ہوئے۔سلیم اپنے بستر پر خاموش پڑا تھا۔چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا،جیسے کسی طویل مسافت کے بعد آخرکار اسے وہ منزل مل گئی ہو جس کی تلاش میں اس نے اپنی پوری زندگی صرف کر دی تھی۔اس کے پہلو میں مہر کا خط رکھا تھا، اور سرہانے ایک کاغذ پڑا تھاجس پر اس کے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے صرف ایک جملہ تحریر تھا:
’’کچھ لوگ ہماری زندگی سے نہیں جاتے،وہ ہمارے اندر رہ کر ہمیں اس شخص کی موت کا تماشا دکھاتے ہیں جو ہم ان کے بغیر کبھی بن ہی نہیں سکتے تھے۔‘‘
مہر کو جب سلیم کی وفات کی خبر ملی تو وہ دیر تک خط کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی رہی۔اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں بہے۔شاید بعض ندامتیں آنسوؤں سے کہیں بڑی ہوتی ہیں۔وہ آنکھوں سے نہیں،انسان کے باقی ماندہ وجود سے خون رساتی ہیں۔وہ سلیم کی قبر پر گئی۔مٹی ابھی نم تھی۔اس نے قبر کے کتبے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کی:
’’سلیم، میں آ گئی ہوں۔‘‘
ہوا چلتی رہی۔درختوں کے پتے سرسراتے رہے۔قریب کی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی۔مگر سلیم نے کوئی جواب نہ دیا۔مہر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔اس نے اپنی پیشانی قبر کی مٹی پر رکھ دی،جیسے برسوں پہلے بچھڑ جانے والے شخص سے معافی مانگنے کے لیے اب اس کے پاس یہی ایک راستہ باقی رہ گیا ہو۔وہ دیر تک روتی رہی۔پھر اس نے مٹی سے سر اٹھایا،اپنی آنکھیں صاف کیں اور آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر نکل گئی۔
اس کے قدموں کے پیچھے ایک قبر تھی،اور اس کے سینے میں ایک ایسی زندگی دفن تھی جس کا جنازہ برسوں پہلے اٹھ جانا چاہیے تھا،لیکن بعض جنازے کندھوں پر نہیں اٹھائے جاتے۔وہ انسان اپنے اندر اٹھائے پھرتا ہے،یہاں تک کہ اس کا وجود بھی اس بوجھ کو اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے،اور اس دن قبرستان میں صرف ایک شخص دفن نہیں ہوا تھا۔وہاں ایک محبت دفن ہوئی تھی،ایک ندامت دفن ہوئی تھی،ایک نامکمل داستان دفن ہوئی تھی،اور ان تمام خوابوں کا ملبہ بھی، جنھیں دو انسانوں نے کبھی ایک ساتھ دیکھنے کی جسارت کی تھی۔کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ کسی کو کھو دینا نہیں،بلکہ اسے اس وقت پانا ہے،جب تمہارے پاس اسے پکارنے کے لیے آواز تو باقی ہو،مگر وہ سننے کے لیے موجود نہ ہو،اور شاید محبت کی آخری منزل وصال نہیں،بلکہ وہ خاموشی ہے،جس میں انسان اپنے محبوب کو تمام شکووں،تمام خواہشوں اور تمام حقوق سے آزاد کر دیتا ہے،مگر اپنے دل کو اس کی یاد سے آزاد کرنے پر کبھی قادر نہیں ہو پاتا۔کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں،صرف ان کے کردار مر جاتے ہیں،اور ان کا درد پڑھنے اور سننے والوں کے اندر اپنی نئی زندگی شروع کر دیتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

ریاضی: کائنات کی خاموش زبان اور عدل و توازن کا علم

    ڈاکٹر ریاض احمد ریاضی کو عموماً ایک خشک، مشکل اور بے...

تازہ ترین خبریں

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

ریاضی: کائنات کی خاموش زبان اور عدل و توازن کا علم

    ڈاکٹر ریاض احمد ریاضی کو عموماً ایک خشک، مشکل اور بے...

ماتمِ خاموشی !

 

 

ریاض فردوسی

رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے شکستہ مکانوں پر مسلّط تھی۔آسمان پر آوارہ بادلوں کی یتیمی،زمین پر بکھرے ہوئے پتّوں کی بے بسی،اور ہوا میں کسی نامعلوم سانحے کی تعفّن زدہ اداسی پھیلی ہوئی تھی۔یوں محسوس ہوتا تھاجیسے کائنات نے کسی عظیم المیے کے بعد نوحہ خوانی ترک کر دی ہو،اور اب خاموشی ہی اس کا آخری مرثیہ بن گئی ہو۔اسی شہر کے ایک متروک گوشے میں،ایک بوسیدہ مکان کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں،ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔اس کے سامنے ایک زرد رو کاغذ،بجھتا ہوا چراغ اور ایک شکستہ قلم پڑا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے،شاید اس لیے کہ بعض دکھ آنکھوں کی حدود سے گزر کر وجود کی تہوں میں دفن ہو جاتے ہیں،جہاں سے نہ کوئی آہ برآمد ہوتی ہے،نہ کوئی فریاد۔
اس کا نام سلیم تھا۔وہ کبھی زندگی سے لبریز شخص ہوا کرتا تھا۔اس کے خوابوں میں صبحیں طلوع ہوتی تھیں،اس کی گفتگو میں امید کے چراغ روشن رہتے تھے، اور اس کے دل میں ایک ایسی عورت آباد تھی جس کے وجود سے اسے کائنات کے تمام موسم خوش گوار محسوس ہوتے تھے۔اس عورت کا نام مہر تھا۔
مہر محض ایک نام نہیں،سلیم کی پوری کائنات کا استعارہ تھی۔اس کی ہنسی میں بہاروں کی موسیقیت تھی،اس کی خاموشی میں صدیوں کی حکمت،اور اس کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی،جس میں ڈوب کر انسان اپنے تمام غم بھول سکتا تھا۔مگر تقدیر کو شاید انسان کی خوشی سے ازلی عداوت ہے۔مہر نے ایک روز سلیم سے کہا تھا:’’اگر کبھی میں تم سے بچھڑ جاؤں تو مجھے اپنی یادوں میں زندہ مت رکھنا۔یادیں انسان کو جینے نہیں دیتیں،صرف مرنے کا عمل طولانی کر دیتی ہیں۔‘‘
سلیم ہنس دیا تھا۔اسے کیا خبر تھی کہ بعض جملے مستقبل کی پیش گوئی نہیں ہوتے،بلکہ آنے والے عذاب کا پیشگی نوحہ ہوتے ہیں۔اس نے مہر کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا تھا:’’تم بچھڑ بھی گئیں توکیا ہوا؟محبت فاصلے کی محتاج نہیں ہوتی۔‘‘
مہر نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔اس کی پلکوں پر لرزتے ہوئے قطرے شاید کسی ان کہے المیے کی تمہید تھے۔پھر ایک دن مہر چلی گئی۔نہ کوئی طویل الوداع،نہ کسی وعدے کی تجدید،نہ کسی شکوے کی بازپرس۔بس ایک مختصر سا خط،جس میں چند سطریں تھیں اور ان سطروں میں سلیم کی پوری زندگی کا انہدام۔
’’سلیم!
میں تم سے محبت کرتی ہوں،مگر محبت ہمیشہ وصال کا مقدر نہیں رکھتی۔بعض اوقات انسان اپنے محبوب کو حاصل کرنے کے بجائے اس کی زندگی سے نکل جانے میں اس کی عافیت تلاش کرتا ہے۔مجھے معاف کر دینا۔میں تمہاری ہو کر بھی تمہاری نہ ہو سکی۔
تمہاری مہر۔‘‘
اس خط کے بعد سلیم نے بہت کچھ پڑھا،بہت کچھ لکھا،بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں،مگر وہ کبھی اس خط سے آگے نہ بڑھ سکا۔اسے رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ زندگی کا سب سے ہول ناک المیہ کسی عزیز کا بچھڑ جانا نہیں،بلکہ اس کے بچھڑنے کے بعد بھی دنیا کا معمول کے مطابق رواں دواں رہنا ہے۔بازاروں میں رونقیں تھیں،مساجد میں اذانیں،گلیوں میں بچوں کی شرارتیں، اور گھروں میں قہقہوں کی گونج۔
صرف سلیم کے اندر ایک شہر اجڑ گیا تھا،جس کی ویرانی کا نوحہ سننے والا کوئی نہ تھا۔دنیا میں سب سے زیادہ تنہا وہ شخص نہیں ہوتاجس کے پاس کوئی نہ ہو،بلکہ وہ ہوتا ہے،جس کے پاس سب کچھ ہو،مگر وہ ایک شخص نہ ہو جس کے سامنے وہ اپنا بکھرا ہوا وجود رکھ سکے۔سلیم نے مہر کو بھلانے کی بہت کوشش کی۔اس نے اپنی کتابوں کے اوراق پھاڑ دیے،پرانے خطوط جلا دیے،اس راستے پر جانا چھوڑ دیا جہاں مہر کبھی اس کے ساتھ چلا کرتی تھی۔حتیٰ کہ اس نے آئینے سے بھی نظریں چرانا شروع کر دیں،کیونکہ اسے اپنے چہرے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا تھا،جسے مہر نے کبھی محبت سے دیکھا تھا۔مگر یادداشت کا اپنا ایک استبدادی نظام ہوتا ہے۔وہ انھی چیزوں کو محفوظ رکھتی ہے،جن سے نجات پانے کے لیے انسان اپنی تمام قوتیں صرف کر چکا ہو۔کبھی رات کے آخری پہر اسے مہر کی آواز سنائی دیتی۔
کبھی بارش کی بوندوں میں اس کی ہنسی کی بازگشت محسوس ہوتی۔
کبھی کسی اجنبی عورت کے دوپٹے کا رنگ اسے مہر کے لباس کی یاد دلا دیتا۔
اور کبھی،محض کبھی،کسی راہ گیر کے ہونٹوں پر اپنا نام سن کر اس کا دل بے سبب دھڑکنے لگتا۔
وہ جانتا تھا کہ یہ سب فریبِ احساس ہے،مگر انسان کا دل عجیب شے ہے،حقیقت سے محروم ہو جائے تو وہ واہموں کی پرستش شروع کر دیتا ہے۔سال گزرتے گئے۔
سلیم کے بالوں میں چاندی اتر آئی،چہرے پر وقت کی خراشیں گہری ہو گئیں،اور اس کے وجود پر خاموشی کی ایک ایسی تہہ جم گئی جسے کوئی گفتگو تحلیل نہ کر سکی۔اس نے لوگوں کے دکھ سنے،ان کے جنازوں میں شرکت کی،غم زدہ چہروں کو تسلی دی،اور ان آنکھوں میں امید کے چراغ روشن کرنے کی کوشش کی جن میں زندگی بجھنے کے قریب تھی۔مگر اپنے لیے وہ کبھی کوئی تسلی دریافت نہ کرسکا۔وہ جان چکا تھا کہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا شخص اکثر اپنے زخموں کے ساتھ سب سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے۔
ایک شام،جب آفتاب افق کے دامن میں اپنی آخری سرخی انڈیل رہا تھا،سلیم کو ایک پرانا شناسا ملا۔اس نے سلیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا:
’’تم اب بھی مہر کو یاد کرتے ہو؟‘‘
سلیم نے آسمان کی طرف دیکھا۔وہاں پرندوں کا ایک غول اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہا تھا۔کچھ دیر بعد وہ بولا:’’یاد تو اسے کیا جاتا ہےجو ذہن سے محو ہو جائے۔مہر تو میرے وجود میں اس طرح پیوست ہے جیسے کسی زندہ درخت کی جڑوں میں زہر اتر جائے۔ درخت بظاہر ہرا رہتا ہے،مگر اس کے اندر زندگی کا انہدام شروع ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘
اس کا شناسا خاموش ہو گیا۔سلیم نے دھیرے سے کہا:
’’تم جانتے ہو،سب سے بڑا عذاب کیا ہے؟
کسی کو کھو دینا نہیں،بلکہ یہ جاننا کہ وہ کہیں موجود ہے،سانس لیتا ہے،صبح دیکھتا ہے،رات کو سوتا ہے،شاید کبھی مسکراتا بھی ہے،مگر اس کی زندگی میں تمہارا وجود اب کسی معنی کا حامل نہیں رہا۔تم اس کی دنیا سے اس طرح خارج ہو چکے ہوتے ہو جیسے کسی کتاب سے ایک بے معنی لفظ حذف کر دیا جائے۔‘‘
پھر اس نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اضافہ کیا:
’’موت انسان کو ہمیشہ کے لیے جدا کرتی ہے،مگر بے نیازی انسان کو اس کی اپنی یادوں میں اجنبی بنا دیتی ہے۔‘‘
اسی رات سلیم کو ایک خط موصول ہوا۔لفافے پر اس کا نام لکھا تھا،اور تحریر ایسی تھی کہ اس کے ہاتھ لرزنے لگے۔یہ مہر کا خط تھا۔کئی دہائیوں کے بعد۔
اس نے کانپتی انگلیوں سے لفافہ کھولا۔ اندر چند سطریں تھیں:
’’سلیم!
شاید تم مجھے بھول چکے ہو گے۔زندگی نے مجھے بہت سے ایسے راستوں پر چلایا جہاں میرے قدموں کی چاپ بھی میری اپنی نہ رہی۔میں نے بہت کچھ حاصل کیا، مگر جب کبھی تنہائی نے میرے دل کا دروازہ کھٹکھٹایا، مجھے تمہاری وہ خاموشی یاد آئی جس میں میرے لیے دنیا بھر کی محبت پوشیدہ تھی۔میں نہیں جانتی کہ تم اب کہاں ہو،کیسے ہو،اور کیا اب بھی مجھے یاد کرتے ہو۔
میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ انسان زندگی میں بہت سے فیصلے عقل سے کرتا ہے،مگر ان فیصلوں کی قیمت اکثر دل کو ادا کرنا پڑتی ہے۔مجھے معاف کر دینا،سلیم۔
میں نے تمہیں چھوڑ کر زندگی تو حاصل کر لی،مگر اس زندگی میں کبھی پوری طرح زندہ نہ رہ سکی۔
مہر۔‘‘
خط پڑھتے ہوئے سلیم کی آنکھوں میں پہلی بار آنسو اتر آئے۔وہ رویا نہیں،بلکہ اس کے اندر برسوں سے منجمد ایک سمندر پگھلنے لگا۔اس نے خط کو سینے سے لگا لیا، جیسے کسی بچھڑے ہوئے وجود کی آخری حرارت اس کاغذ میں محفوظ ہو۔پھر وہ بہت دیر تک بیٹھا رہا۔
اس کے سامنے چراغ کی لو کانپ رہی تھی۔باہر رات اپنی تاریکی میں گہری ہوتی جا رہی تھی،اور سلیم کے اندر ایک ایسا سوال جنم لے رہا تھا،جس کا جواب نہ فلسفے کے پاس تھا،نہ مذہب کے علما کے پاس،نہ زندگی کے تجربے کے پاس۔اگر محبت دونوں طرف موجود تھی،تو پھر جدائی اتنی طویل کیوں رہی؟
شاید اس لیے کہ محبت ہمیشہ انسان کو ایک دوسرے تک نہیں پہنچاتی۔کبھی وہ اسے اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے،جہاں وہ اپنے محبوب کی خوشی کے لیے خود کو اس کی زندگی سے خارج کر دیتا ہے،لیکن کیا کسی کی خوشی کے لیے خود کو مٹا دینا واقعی قربانی ہے،یا ایک ایسا خاموش خود فریبی جسے دنیا محبت کا مقدس نام دے دیتی ہے؟
سلیم کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔
اس نے قلم اٹھایا اور کاغذ پر لکھا:
’’مہر!
تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں تمہیں بھول گیا ہوں یا نہیں۔کاش،بھول جانا اتنا ہی آسان ہوتا جتنا کسی خط کو جلا دینا،کسی تصویر کو پھاڑ دینا یا کسی راستے سے منہ موڑ لینا۔تم نہیں جانتیں کہ انسان کسی دوسرے انسان کو نہیں کھوتا،بلکہ اس کے ساتھ وابستہ اپنے اس وجود کو کھو دیتا ہے جو صرف اسی کی نگاہوں میں زندہ ہوتا ہے۔تمہارے بعد میں نے زندگی تو گزاری،مگر اپنے اندر کبھی واپس نہ آ سکا۔اب تم لوٹ بھی آؤ تو شاید ہم ایک دوسرے کو پہچان لیں،مگر اپنے اس ماضی کو نہیں پہچان سکیں گے،جس میں ہم کبھی ایک دوسرے کے لیے پوری کائنات ہوا کرتے تھے۔محبت کی سب سے المناک شکست یہ نہیں کہ محبوب کسی اور کا ہو جائے،بلکہ یہ ہے کہ وہ تمہارا ہو کر بھی تمہاری زندگی میں واپس نہ آ سکے،کیونکہ وقت تم دونوں کے درمیان ایسی ناقابلِ عبور خلیج حائل کر چکا ہو،جسے نہ آنسو پاٹ سکیں،نہ ندامت،نہ کوئی آخری ملاقات۔
تم خوش رہنا۔
میری زندگی میں تمہارا نہ ہونا ایک مستقل المیہ ہے، مگر تمہاری زندگی میں میرا ہونا اگر تمہارے لیے عذاب بن جاتا،تو شاید میری محبت اس سے بھی بڑی شکست ہوتی۔
سلیم۔‘‘
خط مکمل کر کے اس نے قلم رکھ دیا۔اس رات وہ پہلی بار سکون سے سویا۔شاید اس لیے نہیں کہ اس کا درد ختم ہو گیا تھا،بلکہ اس لیے کہ برسوں بعد اس نے اپنے درد کو کسی دوسرے انسان کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔صبح ہوئی تو محلے کے لوگوں نے دیکھا کہ سلیم کے مکان کا دروازہ بند ہے۔دوپہر تک کوئی حرکت نہ ہوئی تو چند افراد اندر داخل ہوئے۔سلیم اپنے بستر پر خاموش پڑا تھا۔چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا،جیسے کسی طویل مسافت کے بعد آخرکار اسے وہ منزل مل گئی ہو جس کی تلاش میں اس نے اپنی پوری زندگی صرف کر دی تھی۔اس کے پہلو میں مہر کا خط رکھا تھا، اور سرہانے ایک کاغذ پڑا تھاجس پر اس کے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے صرف ایک جملہ تحریر تھا:
’’کچھ لوگ ہماری زندگی سے نہیں جاتے،وہ ہمارے اندر رہ کر ہمیں اس شخص کی موت کا تماشا دکھاتے ہیں جو ہم ان کے بغیر کبھی بن ہی نہیں سکتے تھے۔‘‘
مہر کو جب سلیم کی وفات کی خبر ملی تو وہ دیر تک خط کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی رہی۔اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں بہے۔شاید بعض ندامتیں آنسوؤں سے کہیں بڑی ہوتی ہیں۔وہ آنکھوں سے نہیں،انسان کے باقی ماندہ وجود سے خون رساتی ہیں۔وہ سلیم کی قبر پر گئی۔مٹی ابھی نم تھی۔اس نے قبر کے کتبے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کی:
’’سلیم، میں آ گئی ہوں۔‘‘
ہوا چلتی رہی۔درختوں کے پتے سرسراتے رہے۔قریب کی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی۔مگر سلیم نے کوئی جواب نہ دیا۔مہر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔اس نے اپنی پیشانی قبر کی مٹی پر رکھ دی،جیسے برسوں پہلے بچھڑ جانے والے شخص سے معافی مانگنے کے لیے اب اس کے پاس یہی ایک راستہ باقی رہ گیا ہو۔وہ دیر تک روتی رہی۔پھر اس نے مٹی سے سر اٹھایا،اپنی آنکھیں صاف کیں اور آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر نکل گئی۔
اس کے قدموں کے پیچھے ایک قبر تھی،اور اس کے سینے میں ایک ایسی زندگی دفن تھی جس کا جنازہ برسوں پہلے اٹھ جانا چاہیے تھا،لیکن بعض جنازے کندھوں پر نہیں اٹھائے جاتے۔وہ انسان اپنے اندر اٹھائے پھرتا ہے،یہاں تک کہ اس کا وجود بھی اس بوجھ کو اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے،اور اس دن قبرستان میں صرف ایک شخص دفن نہیں ہوا تھا۔وہاں ایک محبت دفن ہوئی تھی،ایک ندامت دفن ہوئی تھی،ایک نامکمل داستان دفن ہوئی تھی،اور ان تمام خوابوں کا ملبہ بھی، جنھیں دو انسانوں نے کبھی ایک ساتھ دیکھنے کی جسارت کی تھی۔کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ کسی کو کھو دینا نہیں،بلکہ اسے اس وقت پانا ہے،جب تمہارے پاس اسے پکارنے کے لیے آواز تو باقی ہو،مگر وہ سننے کے لیے موجود نہ ہو،اور شاید محبت کی آخری منزل وصال نہیں،بلکہ وہ خاموشی ہے،جس میں انسان اپنے محبوب کو تمام شکووں،تمام خواہشوں اور تمام حقوق سے آزاد کر دیتا ہے،مگر اپنے دل کو اس کی یاد سے آزاد کرنے پر کبھی قادر نہیں ہو پاتا۔کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں،صرف ان کے کردار مر جاتے ہیں،اور ان کا درد پڑھنے اور سننے والوں کے اندر اپنی نئی زندگی شروع کر دیتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں