SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سویا بین کی افزائشِ نسل کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی پروگرام کے تحت ایک اہم تحقیقی گرانٹ حاصل کی ہے۔
’’SoyWatch: اسمارٹ سینسنگ نیٹ ورک فار پریسیژن سویا بین بریڈنگ‘‘ کے عنوان سے یہ تین سالہ منصوبہ امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (NSF) اور حکومتِ ہند کی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہندوستان اور امریکہ کے ممتاز تحقیقی ادارے مشترکہ طور پر فصلوں کی نگرانی، بیماریوں کی شناخت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر اقسام کی تیاری پر کام کریں گے۔
اس منصوبے میں SKUAST-K کی نمائندگی ڈاکٹر اعجاز احمد لون، پروفیسر شعبۂ جینیٹکس اینڈ پلانٹ بریڈنگ، ڈرائی لینڈ ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن، رنگریٹ، اور ڈاکٹر شبیر حسین وانی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، ماؤنٹین ریسرچ سینٹر فار فیلڈ کراپس، کھڈونی کر رہے ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے محققین کو بین الاقوامی گرانٹ حاصل کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے ممتاز اداروں کے ساتھ اشتراک سے یونیورسٹی کی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا اور زرعی سائنس میں جدت طرازی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ سینسنگ ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جدید نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جو کھیتوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو مفید تحقیقی معلومات میں تبدیل کرے گا۔ اس سے فصلوں کی کارکردگی کی درست نگرانی، کیڑوں اور بیماریوں کی ابتدائی شناخت، پیداوار کی پیش گوئی اور سویا بین کی بہتر اقسام تیار کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
اکتوبر 2026 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ تین سال تک جاری رہے گا۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ گرانٹ اس کی بین الاقوامی تحقیقی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی تحقیق کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

ریاضی: کائنات کی خاموش زبان اور عدل و توازن کا علم

    ڈاکٹر ریاض احمد ریاضی کو عموماً ایک خشک، مشکل اور بے...

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

ریاضی: کائنات کی خاموش زبان اور عدل و توازن کا علم

    ڈاکٹر ریاض احمد ریاضی کو عموماً ایک خشک، مشکل اور بے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سویا بین کی افزائشِ نسل کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی پروگرام کے تحت ایک اہم تحقیقی گرانٹ حاصل کی ہے۔
’’SoyWatch: اسمارٹ سینسنگ نیٹ ورک فار پریسیژن سویا بین بریڈنگ‘‘ کے عنوان سے یہ تین سالہ منصوبہ امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (NSF) اور حکومتِ ہند کی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہندوستان اور امریکہ کے ممتاز تحقیقی ادارے مشترکہ طور پر فصلوں کی نگرانی، بیماریوں کی شناخت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر اقسام کی تیاری پر کام کریں گے۔
اس منصوبے میں SKUAST-K کی نمائندگی ڈاکٹر اعجاز احمد لون، پروفیسر شعبۂ جینیٹکس اینڈ پلانٹ بریڈنگ، ڈرائی لینڈ ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن، رنگریٹ، اور ڈاکٹر شبیر حسین وانی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، ماؤنٹین ریسرچ سینٹر فار فیلڈ کراپس، کھڈونی کر رہے ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے محققین کو بین الاقوامی گرانٹ حاصل کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے ممتاز اداروں کے ساتھ اشتراک سے یونیورسٹی کی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا اور زرعی سائنس میں جدت طرازی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ سینسنگ ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جدید نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جو کھیتوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو مفید تحقیقی معلومات میں تبدیل کرے گا۔ اس سے فصلوں کی کارکردگی کی درست نگرانی، کیڑوں اور بیماریوں کی ابتدائی شناخت، پیداوار کی پیش گوئی اور سویا بین کی بہتر اقسام تیار کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
اکتوبر 2026 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ تین سال تک جاری رہے گا۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ گرانٹ اس کی بین الاقوامی تحقیقی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی تحقیق کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں