
محمد عامر مصباحی
کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے آخری دور سے گزر رہی ہے اور اردو بولنے اور لکھنے والوں کی یہ آخری نسل ہے۔ زمانہ جس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اسی تیزی سے مقامی زبانیں بھی حوادث زمانہ کا شکار ہو کر متاثر ہو رہی ہیں۔ موجودہ دور میں انگریزی اور رومن رسم الخط کو جو غیر معمولی اہمیت اور ترجیح حاصل ہوئی ہے، وہ ناقابل تردید ہے۔
ہندوستان میں قدیم زمانے میں درباروں اور دفتروں میں دستاویزی کام اور خط و کتابت مقامی زبانوں، خصوصاً فارسی اور اردو، میں ہوا کرتے تھے۔ بادشاہوں کے فرامین بھی انہی زبانوں میں جاری ہوتے تھے۔ مزید یہ کہ عدالتی کارروائیوں میں بھی ان زبانوں کا استعمال ہوتا تھا، جس کے نمونے آج بھی عدالتی اصطلاحات میں دیکھنے کو ملتے ہیں، مثلاً دستاویز، عرضی داخل کرنا، خارج کرنا اور مہر وغیرہ۔ لیکن موجودہ وقت میں صورت حال بدل چکی ہے۔ اب سرکاری اور عدالتی کاموں میں بھی انگریزی کا غلبہ ہے اور اس کا کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔
مقامی زبانوں اور تہذیبوں کو متاثر کرنے میں ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے بھی خاصا کردار ادا کیا ہے۔ NIH کی ایک رپورٹ کے مطابق ۹۵ فی صد نوخیز نسل سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے، جب کہ اس پلیٹ فارم پر بیشتر مواد انگریزی میں ہوتا ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں بچوں کی نشوونما کے دوران ان کی زبان، تہذیب اور ثقافت سے وابستگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور وہ جدید طرز زندگی کی طرف زیادہ مائل ہو رہے ہیں۔
یہاں تک کہ ہندوستان کی ہندی فلمی صنعت میں بھی انگریزی کا اس قدر دخل ہے کہ فلموں کی اسکرپٹ بھی انگریزی میں تیار کی جاتی ہیں۔ الغرض، ہر طرف انگریزی کا دور دورہ ہے۔ تو ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچوں سے مستقبل میں اپنی تہذیب کی بقا کی امید کیوں کر کی جا سکتی ہے؟
ایسے نازک حالات میں بھی اردو صحافت زمانے کے بدلتے ہوئے حالات سے متاثر ہوئے بغیر اردو زبان کے فروغ اور بقا میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور تشنگان اردو ادب کی پیاس بجھا رہی ہے۔ جس اردو زبان کو ابتدا میں صوفیاے کرام اور عوامی شاعروں نے ادبی اظہار کا وسیلہ بنایا، اب اردو صحافت اسی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔
مؤرخین کے مطابق اردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ تھا، جو ۱۸۲۳ء میں جاری ہوا۔ (ویکیپیڈیا)
اردو صحافت کی تاریخ میں چند نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں، مثلاً سر سید احمد خاں کا ’’تہذیب الاخلاق‘‘، محمد علی جوہر کا ’’ہمدرد‘‘ اور مولانا آزاد کے اخبارات ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ وغیرہ۔
اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دور میں بھی مسلسل سیکڑوں اردو اخبارات اور رسائل برصغیر، بالخصوص ہندوستان اور پاکستان، سے شائع ہو رہے ہیں۔ یہ اخبارات و رسائل اردو ادب کی لطافت اور چاشنی سے لبریز ہوتے ہیں اور فروغ اردو میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اردو صحافی سرگرم عمل ہیں، جو خصوصاً نسل نو میں اردو زبان و ادب کا ذوق پیدا کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ، ان کی یہ کوشش لائق ستائش اور قابل مبارک باد ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اردو صحافت کی اہمیت و افادیت کا اندازہ پروفیسر ارتضیٰ کریم کے اس اقتباس سے لگانا کافی ہوگا، جو وہ ’’اردو دنیا‘‘ کے اداریے میں لکھتے ہیں:
’’اردو صحافت نہ ہوتی تو شاید ہندوستان کی آزادی کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ ماضی کے زیادہ تر صحافیوں نے فرنگیوں کے خلاف جو محاذ کھولا تھا، اس کا ہندوستانی عوام کے شعور پر بہت گہرا اثر پڑا۔ آزادی اور انقلاب کے جذبے کو بیدار کرنے میں سب سے اہم رول اردو صحافت ہی کا رہا ہے۔‘‘
(ہماری بات: اداریہ، اردو دنیا، دسمبر ۲۰۱۵ء)
ان کی اس فکر پر مزید تبصرے کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
اردو صحافت محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ قدیم تہذیب، زبان اور ادب کی بے مثال محافظ و پاسبان بھی ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ کوئی بھی زبان اسی وقت زندہ رہتی ہے، جب وہ معاشرے کے چلن میں شامل ہو اور اس کی تہذیب کا حصہ ہو۔ اردو صحافت کا نمایاں کردار یہ رہا ہے کہ اس نے اردو مزاج کو معاشرے سے مربوط رکھا ہے، کیوں کہ صحافت کا تعلق براہ راست عوام الناس سے ہوتا ہے۔ اس طرح لوگوں تک صرف اردو زبان میں خبریں ہی نہیں پہنچتیں، بلکہ ان کے ذخیرۂ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ان کے تخیل، ذہن و فکر میں اردو مزاج پروان چڑھتا ہے۔ یوں غیر شعوری طور پر ان کے خیالات، تجزیے اور تبصرے بھی اردو زبان و بیان سے متاثر ہوتے ہیں۔
اردو صحافت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ جس طرح تعلیمی اداروں نے اپنی درس گاہوں کے ذریعے اردو زبان کے فروغ، ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے، ٹھیک اسی طرح اردو صحافت نے بھی ایک غیر رسمی درس گاہ کا کردار ادا کیا ہے، جس نے عوامی شعور کی آبیاری کے ساتھ زبان و ادب کی شمع کو فروزاں رکھا ہے۔
اردو صحافت نے اردو زبان کے دائرے کو خاطر خواہ وسعت بخشی ہے اور اسے محض شعر و ادب کی زبان بن کر سمٹ جانے سے محفوظ رکھا ہے۔ اس نے اردو کو سیاسی، سماجی، تعلیمی اور بین الاقوامی امور کے اظہار کا وسیلہ بنایا، جو اپنے آپ میں ایک انقلابی اقدام ہے۔
اردو صحافت کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے ہر دور میں عام لوگوں کو اردو زبان سے جوڑے رکھا ہے۔ اردو اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں، مضامین اور تبصرے نہ صرف لوگوں کو ملک اور دنیا کے حالات سے واقف کراتے ہیں، بلکہ ان میں اردو پڑھنے اور سمجھنے کا شوق بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح اردو صحافت زبان کی حفاظت کے ساتھ لوگوں کی علمی اور فکری تربیت بھی کرتی ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں اردو صحافت کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ اردو اخبارات کے قارئین کی تعداد کم ہو رہی ہے اور نئی نسل کا رجحان انگریزی اور دوسری زبانوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مالی وسائل کی کمی بھی اردو اخبارات اور رسائل کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ اردو صحافت جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائے اور انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
اس سلسلے میں تعلیمی ادارے بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور مدارس میں طلبہ کو اردو اخبارات اور رسائل پڑھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اگر طلبہ روزانہ کچھ وقت اردو اخبارات کے مطالعے میں گزاریں تو ان کی زبان بہتر ہوگی، معلومات میں اضافہ ہوگا اور ان کے اندر لکھنے اور پڑھنے کا ذوق بھی پیدا ہوگا۔
اس کے ساتھ اردو سے محبت کرنے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو اخبارات اور رسائل کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کا مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی دعوت دیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی زبان کی حفاظت صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس زبان سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کا فرض ہے۔ اگر ہم اردو کو اپنی روزمرہ زندگی میں جگہ دیں اور اردو صحافت کا ساتھ دیں تو یقیناً یہ زبان آنے والی نسلوں تک اپنی خوب صورتی اور مٹھاس کے ساتھ پہنچتی رہے گی۔
جدت کے اس دور میں بھی اردو کے فروغ اور اس کی بقا کا بیڑا اٹھانے والے اردو صحافی یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ اردو کی روح کو زندہ و جاوید رکھنے کے لئے اردو صحافت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے اور اس کی تشہیر کے مناسب اقدامات کیے جائیں، تاکہ نسل نو کا اس زبان سے رشتہ مضبوط ہو، وہ اردو مزاج اور اس کے اسالیب سے بہرہ ور ہو کر اس کی چاشنی محسوس کر سکے اور اردو کا ڈنکا بجا سکے۔


