جنگ نیوز ڈیسک
بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) نے گُریز کے GHSS داور میں شینا زبان بولنے والی برادری کے ادبی، لسانی اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لئے شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام منعقد کیا۔
تقریب کی صدارت رکن اسمبلی گُریز نذیر احمد گُریزی نے کی، جبکہ سیکریٹری JKAACL ہروِندر کور، ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ اندو کنول چِب اور مسعود سامون نے شرکت کی۔
نذیر احمد گُریزی نے گُریز جیسے دور افتادہ علاقے میں پروگرام کے انعقاد پر JKAACL کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے شینا زبان و ادب کے تحفظ کے لئے اجتماعی اور مستقل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شینا کو گُریز کی منفرد تہذیبی شناخت قرار دیتے ہوئے اسے تحریری اور کتابی شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔
ڈپٹی کمشنر اندو کنول چِب نے شینا زبان کے تحفظ میں مسعود سامون کی خدمات کو سراہا اور نوجوانوں کو شینا زبان میں سافٹ ویئر، مزاحیہ کتابیں اور دیگر جدید ادبی مواد تیار کرنے کی ترغیب دی۔
مسعود سامون نے کلیدی خطاب میں مقامی زبانوں اور ثقافتی روایات کے تحفظ کی اہمیت بیان کی۔ اس موقع پر ان کی شینا شعری مجموعے ’’سِن پُشجی ہین‘‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔
پروگرام میں KGBV گُریز، GHS داور، GHSS گُریز اور GMS وانپورہ کے طلبہ نے روایتی شینا گیت اور رقص پیش کیے، جبکہ مقامی شعرا نے شینا مشاعرے میں کلام پیش کیا۔ طلبہ کے لئے سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے شینا کلچرل سینٹر، گُریز کا دورہ بھی کیا۔


