
بلال بشیر بٹ
کشمیر کی مذہبی تاریخ مختلف ادوار میں آنے والے بزرگوں کی خدمات سے مالا مال ہے۔ وسطی ایشیا، ایران اور دیگر خطوں سے آنے والی کئی شخصیات نے وادی کی مذہبی اور تہذیبی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ لیکن اس وسیع روحانی منظرنامے میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو کشمیر کی اپنی مٹی، اپنی زبان اور اپنے معاشرے سے اٹھنے والی آواز کی حیثیت رکھتی ہے: حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ، جنہیں نند ریشی اور شیخ العالم کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ان کی انفرادیت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کشمیر کے عظیم بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں، بلکہ اس حقیقت میں بھی ہے کہ انہوں نے دینی اور اخلاقی تعلیم کو کشمیری زبان میں عام لوگوں تک پہنچایا۔ ان کا کلام مذہبی فکر، اخلاقی تربیت اور کشمیری زبان کے تحفظ کا ایساملاپ ہے جس کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی۔
کشمیر میں اسلام کی آمد اور فروغ ایک طویل تاریخی عمل تھا۔ مختلف ادوار میں باہر سے آنے والے بزرگوںنے یہاں دینی اور علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی کشمیری بزرگوں کی ایک روایت بھی پروان چڑھی، جس میں شیخ نور الدین نورانیؒ کا مقام نہایت نمایاں ہے۔وہ کسی بیرونی ملک سے کشمیر آنے والے مسافر نہیں تھے۔ وہ اسی وادی کے فرزند تھے، اسی معاشرے کے درمیان رہے اور اسی معاشرے کی زبان میں بات کی۔یہی مقامی نسبت ان کی تعلیمات کو ایک خاص معنویت عطا کرتی ہے۔
انہوں نے کشمیری عوام کو ان کی اپنی زبان میں مخاطب کیا۔ اس زمانے میں جب فارسی علمی اور ادبی اظہار کی ایک بڑی زبان تھی، شیخ نور الدینؒ نے کشمیری کو اپنے فکری اور روحانی پیغام کا ذریعہ بنایا۔ یوں ان کا کلام صرف مذہبی تعلیم نہیں رہا بلکہ کشمیری زبان کی ادبی اور فکری ترقی کا بھی ایک اہم ذریعہ بن گیا۔
شیخ نور الدین نورانیؒ کی شاعری کی اصل طاقت اس کے پیغام میں ہے۔ ان کے شُرک میں توحید، اللہ کی یاد، تقویٰ، تزکیۂ نفس، دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی جواب دہی، سادگی، انسانیت اور اچھے کردار جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ان کا انداز یہ تھا کہ گہری مذہبی اور اخلاقی بات کو عام انسان کی سمجھ میں آنے والی زبان اور مثالوں کے ذریعے بیان کیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کو محض ادب سمجھ کر نظرانداز کرنا ان کی میراث کو محدود کرنا ہوگا۔ ان کے کلام میں ایک تعلیمی پہلو بھی موجود ہے۔ وہ انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے نفس پر قابو پانے، دنیا کی ظاہری چمک دمک سے متاثر نہ ہونے اور اپنے اعمال کے انجام پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ان کی تعلیمات کا مرکز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ہے۔ ان کے کلام میں اللہ کی بندگی اور اسی سے تعلق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی پہلو ان کے مذہبی پیغام کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
شیخ نور الدینؒ کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے کشمیری زبان کو محض روزمرہ گفتگو سے نکال کر مذہبی، اخلاقی اور فکری اظہار کی زبان کے طور پر استعمال کیا۔انہوں نے ثابت کیا کہ اپنی مادری زبان میں بھی انسان خدا، زندگی، موت، اخلاق، آخرت اور روحانی اصلاح جیسے گہرے موضوعات پر گفتگو کرسکتا ہے۔
ان کے شُرک نسل در نسل زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا پیغام صرف خواص کے لئے نہیں تھا۔ وہ عام آدمی سے بات کرتے تھے اور ایسی زبان میں بات کرتے تھے جسے عام کشمیری سمجھ سکتا تھا۔یہی ان کی مقبولیت کی ایک بنیادی وجہ بھی بنی۔
آج جب دنیا بھر میں مادری زبانوں کے تحفظ کی بات کی جارہی ہے، کشمیر کے لئے شیخ نور الدین نورانیؒ کی میراث خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔زبان صرف الفاظ نہیں ہوتی۔ زبان کسی قوم کی یادداشت، ثقافت، تاریخ اور اجتماعی شعور ہوتی ہے۔ جس قوم کی نئی نسل اپنی زبان کے عظیم ادبی اور فکری ورثے سے دور ہوجائے، اس کے لئے اپنی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔شیخ نور الدینؒ کا کلام اس لحاظ سے ایک زندہ خزانہ ہے۔ایک کشمیری بچہ اگر اپنی ابتدائی تعلیم میں اپنے ہی خطے کے ایک عظیم بزرگ کے آسان شُرک پڑھتا ہے تو وہ صرف ایک نظم نہیں سیکھ رہا ہوتا؛ وہ اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنی تہذیبی جڑوں سے بھی جڑ رہا ہوتا ہے۔
شیخ نور الدینؒ کے منتخب کلام کو پرائمری سطح سے ہی مناسب انداز میں نصاب کا حصہ بنانے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے کلام کو قرآن و حدیث کا متبادل بنا دیا جائے۔ قرآن و حدیث اسلامی تعلیم کے بنیادی مصادر ہیں۔ شیخ نور الدینؒ کے کلام کو ان بنیادی تعلیمات کے اخلاقی اور فکری پیغام کو سمجھنے کے ایک تاریخی اور مقامی ذریعہ کے طور پر پڑھایا جاسکتا ہے۔ابتدائی جماعتوں میں بچوں کو ان کے ایسے اشعار پڑھائے جائیں جن میں سچائی، عاجزی، والدین کا احترام، اللہ کی یاد، انسانوں سے محبت، سادگی اور اچھے کردار کی تعلیم ہو۔ ثانوی سطح پر ان کے کلام کے مذہبی، ادبی اور تاریخی پہلوؤں کا مطالعہ کرایا جائے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی سطح پر ان کی شاعری، اسلامی فکر اور کشمیری زبان و ادب پر تحقیقی کام کو فروغ دیا جائے۔
ہم نے اکثر اپنے عظیم تاریخی کرداروں کو صرف مزاروں، عرس اور یادگاری تقریبات تک محدود کردیا ہے۔ شیخ نور الدین نورانیؒ کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔چرار شریف میں ان کی نسبت سے عقیدت اپنی جگہ، لیکن ان کی حقیقی فکری میراث اس وقت زیادہ زندہ ہوگی جب ان کے کلام کو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور گھروں تک پہنچایا جائے گا۔
آج کا کشمیر سماجی، ثقافتی اور اخلاقی تبدیلیوں کے ایک دور سے گزر رہا ہے۔ نئی نسل کے سامنے مادیت، صارفیت، منشیات، زبان سے دوری اور تہذیبی بے سمتی جیسے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ ایسے وقت میں شیخ نور الدینؒ کا سادہ مگر گہرا پیغام دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا زور انسان کے اندر تبدیلی پیدا کرنے پر تھا۔ وہ ظاہری نمود و نمائش کے بجائے باطن کی اصلاح، اللہ کی یاد، اچھے کردار اور دنیا کی عارضی حیثیت کو سمجھنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔یہ پیغام صدیوں پرانا ضرور ہے، لیکن اس کی اخلاقی معنویت آج بھی موجود ہے۔
انہوں نے بیرونی علمی اور روحانی اثرات سے بھرپور ماحول میں مقامی کشمیری زبان کو دینی اور اخلاقی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے عام لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں گفتگو کی اور اپنی شاعری کے ذریعے ایسے افکار منتقل کیے جو نسل در نسل محفوظ رہے۔


