
اماں
(سری ماتا امرتانندمئی دیوی)
ثقافتی اقدار سے جڑا ہوا رہنما اپنی روایتی جڑوں سے منہ موڑے بغیر ملک اور اس کے عوام کی رہنمائی کرتا ہے۔ ایسا رہنما اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ ملک کی صدیوں پرانی ثقافت کا تحفظ اس کی خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ اس یقین کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لئے سربراہ مملکت کا باہمت، ثابت قدم اور بے خوف ہونا ضروری ہے۔ اس عمل کا مقصد مادی خوشحالی اور ملک کے عظیم ثقافتی ورثے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ بھارت کے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی بھی یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اس کے سوا کچھ اور ہو بھی نہیں سکتے، کیونکہ بھارت ان کے لئے محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔ بھارت ہی وہ سرزمین ہے جس کی فضاؤں میں وہ سانسیں لیتے ہیں، جس کے بارے میں سوچتے ہیں، جس پر غور و فکر کرتے ہیں اور جس کے لئے جیتے ہیں۔
جناب نریندر مودی کو گجرات کا وزیر اعلیٰ بننے سے بہت پہلے سے جاننے کی وجہ سے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ ہمیشہ سے دل سے ایک سماجی مصلح رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اصلاح پر ان کا زور وطن سے ان کی محبت سے جڑا ہوا ہے، جو ہمیشہ پوری شدت اور نمایاں انداز میں ان کے دل میں فروزاں رہی ہے۔ اس کے بعد سے انہوں نے جو بھی ذمہ داری سنبھالی، اس کے ساتھ یہ جذبہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ انہوں نے محض بھارت ماتا کی خدمت ہی نہیں کی، بلکہ اپنی پوری زندگی ان کے لئے وقف کر دی۔ شب و روز، آرام کئے بغیر اور بغیر رکے، وہ ہماری قوم کی مادی ترقی اور روحانی بیداری کے لئے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے میں نے ایسے بھارت کا خواب دیکھا ہے جو زیادہ صاف ستھرا، زیادہ ہمدرد اور دھرم میں زیادہ گہری جڑیں رکھنے والا ہو، اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے میں نے انتھک محنت کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آج ملک بھر میں جو بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ ان تصورات کی عکاسی کرتی ہیں جنہیں میں نے طویل عرصے سے اپنے دل میں بسائے رکھا ہے۔
یہ تبدیلی ہمارے گاؤں میں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ وہاں تعلیم، صحت، غذائیت سے بھرپور خوراک، صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں بیداری بڑھ رہی ہے۔ بہت کچھ بدل چکا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور ان تمام ضروریات پر پوری توجہ اور عزم کے ساتھ مسلسل کام کرتے رہنا ہوگا۔
میری پیدائش اور پرورش سمندر کے کنارے واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی، جہاں خاندانوں کا گزر بسر مکمل طور پر سمندر اور روزانہ ہونے والی مچھلیوں کی پکڑ پر منحصر تھا۔ بچپن ہی سے میں نے اپنے آس پاس کے لوگوں کی مشکلات کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان ابتدائی تجربات نے میرے اندر دوسروں کی بے لوث خدمت کرنے اور سب کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا کیا۔
میری سمجھ کے مطابق بے نیازی ہی بے لوثی کی بنیاد ہے۔ میرا ماننا ہے کہ وزیر اعظم مودی میں یہ خوبی موجود ہے اور یہی خوبی انہیں بے خوف ہو کر اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لئے اندرونی قوت عطا کرتی ہے۔
گزشتہ 35 برسوں کے دوران میں نے مغربی ممالک کے وسیع سفر کیے ہیں۔ وہاں کی صاف ستھری اور اچھی طرح دیکھ بھال کی جانے والی سڑکیں دیکھ کر میرے دل میں ایسے بھارت کا خواب پیدا ہوا جہاں سڑکیں اور دریا بھی اسی طرح صاف ستھرے ہوں اور لوگ عوامی مقامات کو صاف رکھنے پر فخر محسوس کریں۔
ہم اپنے مندروں کے احاطے کو بالکل صاف ستھرا رکھتے ہیں، کیونکہ ہم انہیں مقدس سمجھتے ہیں۔ لیکن خدا ہر جگہ موجود ہے، اس لئے اس زمین کا ایک ایک ذرہ خدا کے وجود کا حصہ ہے اور اسی طرح دیکھ بھال کا مستحق ہے۔ میری دیرینہ خواہش رہی ہے کہ یہ احساس ہمارے اسکولوں سے پروان چڑھے۔ میری خواہش ہے کہ ملک صرف کچرے کو ٹھکانے لگانا ہی نہیں سیکھے بلکہ ابتدا ہی سے کم سے کم کچرا پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم اب صفائی کے اس یو جنا کو ملک کے ہر گوشے تک لے جا رہے ہیں۔
میں ایسے بھارت کا تصور کرتی ہوں جہاں بیٹیوں کو بوجھ نہیں بلکہ دولت اور نعمت سمجھ کر خوش آمدید کہا جائے۔ میں ایسی سرزمین کا خواب دیکھتی ہوں جہاں ہر عورت دن ہو یا رات، کسی بھی وقت کسی بھی سڑک پر بلا خوف چل سکے اور جہاں قوم کی تعمیر میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ اپنا اپناکردار ادا کریں۔
جب خواتین قیادت سنبھالنے اور انتظامی امور انجام دینے کے لئے آگے بڑھیں تو مردوں کو صرف ان کے لئے راستہ ہموارکرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں بغیر کسی غیر ضروری رکاوٹ کے راستے سے ہٹنے کے لئے بھی آمادہ رہنا چاہیے۔ صنفی بنیاد پر حقیقی انصاف اور مساوات قائم ہونی چاہیے۔ اس معاملے میں بھی وزیر اعظم مودی نے اہم پیش رفت کی ہے۔
میں ایک طویل عرصے سے اس بات پر گہری تشویش میں مبتلا رہی ہوں کہ نوجوان نشے کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی راہ سے بھٹک رہے ہیں، خواہ یہ منشیات اور شراب کی لت ہو یا اپنے گیجٹس کی۔ میں نے نوجوانوں میں ان عادات سے لاحق خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لئے بھرپور کوشش کی ہے۔ میں معاشرے سے اپیل کرتی ہوں کہ نشے کی لت سے جوجھ رہے افراد کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے،ان کی طرف انگلی اٹھانے کے بجائے ان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھایا جائے۔ میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ ہم ہتھیاروں کے بجائے علاج اور بحالی میں سرمایہ کاری کریں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ وزیر اعظم نے نشہ مکت بھارت اور نشہ مکت یوا ابھیان کے ذریعے اس مقصد کو قومی سطح پر آگے بڑھایا ہے۔
میں ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھتی ہوں جہاں گائے، جنگلی جانوروں، جنگلات، پہاڑوں اور ہمارے تمام قدرتی وسائل کا محبت اور خلوص کے ساتھ تحفظ کیا جائے۔ میری خواہش ہے کہ لوگ سادہ زندگی گزاریں، کم سے کم چیزیں ضائع کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، تاکہ اس زمین کا وہ ’’قرض‘‘ چکا سکیں جو ہم نے اپنی آنے والی نسلوں سے ادھار لیا ہے۔
مودی جی نے بھی ان امور پر خصوصی توجہ دی ہے اور ہمارے قدرتی ورثے، جنگلی حیات اور مقامی نسلوں کے تحفظ و نگہداشت کے لئے کام کیا ہے۔ جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور شیروں، ببر شیروں اور ہاتھیوں کی تعداد میں اضافہ اس کی عکاسی کرتی ہے۔ بگ کیٹ الائنس جیسے اقدامات بھی اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان جانداروں کا تحفظ کیا جائے جن کے ساتھ ہم اس کرۂ ارض پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔
یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم رام راجیہ کے مثالی تصور کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی روح ان سوالات میں جھلکتی ہے جو شری رام نے بھرت سے سلطنت کی صورتحال کے بارے میں پوچھے تھے: کیا کسانوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے؟ کیا دریاؤں، مویشیوں اور جنگلات کا تحفظ کیا جا رہا ہے؟ کیا خواتین اور بچے محفوظ ہیں؟
ان تمام باتوں کے پسِ پشت ایک ایسا یقین کارفرما ہے جسے میں سب سے زیادہ عزیز رکھتی ہوں: پائیدار اصلاح صرف قوانین سے نہیں بلکہ دلوں میں تبدیلی سے آتی ہے۔ ہر شہری کو ’’اپنی چوکھٹ پر خود چراغ جلانا‘‘ ہوگا۔ اسکے لئےمخلصانہ کوشش کے ساتھ ساتھ خدا کا فضل بھی ضروری ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ بھارت ایک بار پھر وِشوگرو اور وِشومتر—یعنی دنیا کا استاد اور دوست—بن کر ابھرے۔ میں بھارت کو دنیا کے تاج کا وہ نگینہ دیکھتی ہوں جو دنیا تک پرَاوِدیا اور اپَرَاوِدیا—یعنی روحانی دانش اور مادی علم—دونوں کی روشنی پہنچائے۔ جس طرح دنیا کے پھول کے قلب میں موجود شہد اسے مٹھاس بخشتا ہے، اسی طرح بھارت ہر قوم کی پرورش کر سکتا ہے۔ ہمارا دھرم یہ ہے کہ ہم اگلی نسل کے حوالے ایسی سرزمین کریں جو اس سرزمین سے زیادہ صاف ستھری، زیادہ ہمدرد اور دھرم پر زیادہ قائم ہو جو ہمیں ورثے میں ملی ہے۔
مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی پالیسیوں نے ہماری قومی زندگی کے بہت سے شعبوں کو متاثر کیا ہے۔
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ، سُکنیہ سمردھی یوجنا، زچگی کے ایام میں چھٹی میں توسیع، اجولا اور 2023 کے خواتین کے ریزرویشن قانون کے ذریعے بیٹیوں اور خواتین کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ نمامی گنگے، جل جیون مشن اور مشن امرت سروور کے ذریعے پانی کو اہمیت دی گئی ہے، جبکہ مشن لائف، ایک پیڑ ماں کے نام اور ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیا پر پابندی کے ذریعے زمین کے تحفظ پر توجہ دی گئی ہے۔ راشٹریہ گوکل مشن کے تحت مویشیوں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور نشہ مکت بھارت ابھیان کے ذریعے نوجوانوں کو نشہ آور اشیا سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آیوشمان بھارت اور جن اوشدھی اسٹورز بیماروں اور غریبوں کی خدمت کر رہے ہیں، جبکہ سوچھ بھارت مشن 2.0 کچرے سے پاک شہروں کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔
یہ ہماری قومی ترقی کو آگے بڑھانے والی بے شمار کوششوں میں سے صرف چند ایک ہیں۔
ہماری تنظیم اور میں دھرتی ماتا اور انسانیت کی بے لوث خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم کسی ایک تنظیم کے لئے بھی اپنے طور پر بہت کچھ کر پانا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لئے مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی لگن، بے لوث جذبےاور محبت کے ساتھ، ہمارے قدیم رشیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان اصلاحات کو پورے ملک میں آگے بڑھا رہے ہیں۔
میرے خیال میں، ان کی طاقت، بے خوفی اور وطن سے محبت روحانیت اور بھارت کے لازوال وقار پر ان کے غیر متزلزل یقین سے پھوٹتی ہے۔ میں انہیں ایسے رہنما کے طور پر دیکھتی ہوں جو ذاتی مفادات سے پاک اور بے تعلق ہیں اور ایک ہی مقصد کے لئے وقف ہیں: بھارت کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنا۔ دل سے وہ ایک سنیاسی ہیں اور عمل کے میدان میں ایک کرم یوگی یا سماجی مصلح۔
(مصنفہ معروف روحانی اور انسانی خدمت میں کوشاں رہنے والی رہنما ہیں)


