پریم چند کی عصری معنویت- یوم وفات ہر خاص

 

 

 

شگفتہ پروین

بعض مورخین کا خیال ہے کہ آریاؤں کی آمد سے ہندوستان میں طبقاتی نظام کا آغاز ہوتا ہے ہندوستان میں موجود ذات پات چھوت ا چھوت کا یہ نظام بہت قدیم ہے لگ بھگ 3 ہزار پرانی کتاب مانو سمرتی میں ذات پات کے اس نظام کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے بڑا برہمن ہوتا ہے اور سب سے آخر میں شودر ہوا کرتے تھے جو ہاتھوں سے کام کرتے تھے ان کا شمار دلتو میں ہوتا ہے جو ہر طرح کے سماجی وسیاسی حقوق سے محروم رہیں جنہیں تعلیم تک حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی ان کی حیثیت محض ساز و سامان کسی سی تھی جنہیں باسانی خریدا اور بیچا جا سکتا تھا
ہندوستان کئی صدیوں سے طبقاتی نظام کی زد میں رہا ہے اس نظام کو ختم کرنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلی جس میں ایک اہم تحریک پونا معاہدہ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ معاہدہ 1932 عیسوی میں گاندھی جی اور امبیڈکر کے درمیان ہوا جس میں دلتوں کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کیا گیا ایک اچھا ادیب وہی ہوتا ہے جو اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہو اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پریم چند اپنے ماحول سے پوری طرح آشنا تھے اور اردو ادب میں وہ ایک انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے ناولوں اور افسانوں سے ہمیں اس وقت کے دلتو اور مزدور طبقوں کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے
پریم چند ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور نیچلے طبقے کے حوالے سے لکھا ہے۔
انہوں نے ہی ادب میں سب سے پہلے دیہاتوں کے لہلہاتے فصلوں باغو اور بہار کے موسم کے پیچھے چھپے دردناک ماحول کی عکاسی کی ہے۔
پریم چند کا ادب صرف ان کے عہد سے ہی مناسبت نہیں رکھتا بلکہ یہ ہر دور کے سیاسی سماجی اقتصادی حالات کو برتتا ہے
اردو ادب میں افسانہ نگاری کا سہرا پریم چند کے سر جاتا ہے ان کے افسانوں میں ہر دور کی سچائی ہماری روز مرہ کی زندگی اور ہمارے ماحول کی سچی عکاسی کی گئی ہے آج کئی برس گزر جانے کے بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے آج کی ہی بات کر رہے ہیں
پریم چند کا افسانہ کفن جس میں بھوک اور افلاس کو موضوع بنایا گیا ہے اس افسانے میں پریم چند نے اس حقیقت کو سامنے رکھا ہے کہ کس طرح بھوک انسان کو صحیح غلط میں فرق کرنا بھلا دیتی ہے اس کے ضمیر کو مار دیتی ہے افسانہ کفن میں مادھو گھیسو اور بدھیا تین مرکزی کردار ہیں بدھیا جو مادھو کی بیوی ہوتی ہے اور درد ذاہ سے تڑپ کر مر جاتی ہے لیکن افلاس کا یہ عالم ہے کہ بدھیا کو دینے کے لیے ان کے پاس کفن تک نہیں وہ گاؤں بھر میں کفن کے نام پر پیسے تحصیل کرتے ہیں اور کفن خریدنے بازار جاتے ہیں جہاں وہ بھوک اور لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر کفن کے بجائے اپنی پیٹ پوجا کرتے ہیں اور نشے میں دھت ہو کر سماجی بے حسی پر عالمانہ گفتگو کرتے ہیں کہ کفن لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتی یہی پانچ روپے اگر انہیں بدھیا کی زندگی میں ملے ہوتے تو شاید وہ اس کو بچا پاتے
آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مرنے پر کفن تو خریدنے میں مدد کرتے ہیں لیکن زندگی میں واہ مجبوروں کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے حالانکہ انسانیت کا تقاضہ ہے کہ جو صاحب حیثیت ہے وہ اپنے طور پر غریب بھائیوں کی مدد کریں آج ہم نے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم کسی کی مدد اس وقت کریں جب ان کو کفن کی ضرورت ہو؟
اسی تناظر میں ان کا دوسرا افسانہ اماوس کی رات ہے جس میں پریم چند نے ان لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے جو پیسے کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ پیسے کی پوجا کرتے ہیں
پریم چند نے اماوس کی رات میں ایک طرف ایک غریب پنڈت کو دکھاتے ہیں جس کے گھر میں اناج کا ایک دانہ تک نہیں جو بھوک سے مر رہا ہے دیوالی کے دن بھی اس کا گھر اندھیروں کی زد میں ہے جبکہ دوسری طرف لالا شنکر نامی ایک حکیم ہے جس کو صرف پیسے سے سروکار ہے جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے وہ صرف انہی کا علاج کرتا ہے ورنہ بیمار مرتا ہے تو مر جائے افسانے کے اس کردار میں مفاد پرستی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بغیر کسی جاتی مفاد کے وہ مرتے ہوئے لوگوں کاعلاج کرنے کو تیار نہیں ہوتا اگر اس کردار کا تجزیہ آج کے دور میں کیا جائے تو ہمارے آس پاس اس طرح کے کئی ڈاکٹر مل جائیں گے جو بیمار کے علاج کرنے سے زیادہ اہمیت پیسے اور مفاد پرستی کو دیتے ہیں اور ان کی مفاد پرستی کا یہ عالم ہے کہ ان کے طریقہ علاج میں نمایاں تبدیلی بھی محسوس ہونے لگتی ہے امیر اور غریب کا علاج کرتے وقت وہ تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پریم چند کا ادب صرف بیسویں صدی کا ادب ہی نہیں بلکہ دور حاضر تک کا سچا ادب ہے
ترقی پسند تحریک پریم چند کے زندگی کے آخری ایّام میں شروع ہوئی اور پریم چند خود بھی اس تحریک سے وابستہ ہوئے ان کا صدارتی خطبہ
"اب ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا زیادہ سونا اب موت کی علامت ہے”
اس خطبے سے ہی پریم چند کے نظریے کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ کس قدر کسان مزدوروں کی اچھی زندگیوں کے خواہشمند تھے اور ادب کو ایک آلے کی شکل میں استعمال کرتے تھے حالانکہ ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی باقاعدہ شروعات 1936 عیسوی میں ہوتی ہے لیکن ہم پریم چند کی فکشن کا مطالعہ کریں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پریم چند بہت پہلے سے ہی ترقی پسند تحریک کے موضوعات کو اپنے ناولوں اور افسانوں میں برتتے ہوئے آرہے ہیں۔ ان کی زندگی کا آخری مکمل ناول گودان اس کی عمدہ مثال ہے۔
ناول پریم چند کی زندگی کا سب سے بہترین ناول معنی جاتا ہے اس ناول میں انہوں نے ہے ہوری کو کسان کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا ہے گودان میں جو حالت ہوری کی تھی ولگ بھگ ہندوستان میں موجود ہر کسان کی تھی
کسان جنہیں ہم ان داتا کہتے ہیں وہی کئی دنوں تک بھوکا رہتا ہے پریم چند ہوری کو ایک لافانی کردار کے طور پر پیش کیا ہے ہوری ایک روایتی قدامت پرست کسان ہے جو زندگی بھر روایتوں کو نبھانے کی جدوجہد کرتا رہتا ہے دوسرے کسانوں کی طرح اس کا بھی رواں رواں قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور یہ قرض سود کی بدولت اصل رقم سے بھی دس گنا زیادہ بڑھ چکا ہے اس کے علاوہ ناول گودان میں پریم چن نے گاؤں کی پنچایتی نظام کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح پنچایت انصاف دینے کے بجائے اپنی ذاتی مفاد نکالتے ہیں اور غریبوں کا استحصال کرتے ہیں ہوری چونکہ غریب ہوتا ہے اس لیے جھنیا اور گوبر کی شادی پر پنچایت اس پر 100 روپے نقد اور غلہ دینے کا حکم دیتی ہے
جبکہ دوسری جانب داتا دین جو چمار کی بیٹی سلیہ سے ناجائز تعلقات بناتا ہے اس کی کوئی گرفت نہیں کرتا یہی حال آج کے دور میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں اگر کوئی اونچی ذات یا عہدے پر فائض فرد کوئی جرم انجام دیتا ہے تو اس کو چاہے تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پھر عدالت اسے اس کے گناہوں کی سزا دینے کے بجائے باعزت بری کر دیتی ہے اور سماج میں یہ شخص ایسے فخر یہ انداز سے گھومتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہو جبکہ اس کی بنسبت غریبوں کا استحصال کیا جاتا ہے حق پر ہونے کے باوجود انہیں انصاف ملنا مشکل سے مشکل تر بنا دیاجاتا ہے۔
طبقاتی تضاد کے علاوہ اس ناول کا ایک اہم موضوع غربت و افلاس اور مذہبی سختیوں پر طنز کیا گیا ہے ہوری کے کردار کے ذریعے انہوں نے کسانوں کی زبور حالی کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس طبقے کی مجبوری اور بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے زمینداروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ انہیں مذہبی رہنما مذہب کے نام پر لوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
مذہب کے نام پر سیدھے سادھے لوگوں کا استحصال کرنا ہمیشہ سے ایک سیوا رہا ہے اور اج بھی ان معصوم لوگوں کو مذہب کے نام پر استحصال کیا جا رہا ہے ۔گائے کو ہندو مذہب میں بہت اہمیت حاصل ہے اس لیے ہوری گائے کی سیوا کر کے پنئے کمانا چاہتا ہے لیکن قسمت کی ستم ظرفی کی وجہ سے گائے کی خدمت نہیں کر پاتا اور اپنی غربت کی وجہ سے مرنے کے بعد بھی اس کی یہ خواہش اس کے گھر والے پوری نہیں کر پاتے ایک کسان جس کے گھر فاقے کی نوبت ہو وہ اپنی ایسی کئی خواہشوں کو زمین تلے دفن کر دیتا ہے
بہر حال پریم چند نے ہمیشہ سے کسانوں مزدوروں اور نچلے طبقوں کے مسائل کو اپنی تخلیق کا حصہ بنایا ہے انہوں نے خواب دکھا تھا کہ کسانوں کی اپنی زمین کو کوئی زمیندار اپنی ضرورت کے تحت استعمال نہ کریں پریم چند کی زندگی میں تو یہ ممکن نہ ہو سکا لیکن ہندوستان کی آزادی کے بعد ایسی کئی پالیسیاں بنی جن میں کسانوں دلتوں کے حق کی بات کہی گئی۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ ادب میں ایک نئے رجحان نے جنم لینا شروع کیا ہے جس کو *دلت ادب* کے نام سے معصوم کیا جا رہا ہے دلت ادب کی شروعات مراٹھی زبان میں ہوئی اور دھیرے دھیرے یہ ادب دوسرے کئی زبانوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن ہم اس بات پر اگر گہرائی سے مطالعہ کریں تو ہمیں یہ احساس ہوگا کہ اردو زبان میں دلت ادب بہت پہلے سے موجود ہے پریم چند کے افسانوں اور ناولوں میں جگہ جگہ دلتو کے حق ان کے مسائل اور ان کی سماجی معاشی اور سیاسی حیثیت کی بات کہی گئی ہے
بحر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک ادیب وہ ہوتا ہے جس کی نظر ماضی حال اور مستقبل تینوں پر ہو اور پریم چند کے یہاں یہ تمام چیزیں موجود ہیں پریم چند کی عصری معنویت کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کی تخلیق ماضی، حال، اور مستقبل کا آئینہ دار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

کشمیریوں کا کشمیری پیشوا شیخ نور الدین نورانیؒ

  بلال بشیر بٹ کشمیر کی مذہبی تاریخ مختلف ادوار میں...

تازہ ترین خبریں

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

کشمیریوں کا کشمیری پیشوا شیخ نور الدین نورانیؒ

  بلال بشیر بٹ کشمیر کی مذہبی تاریخ مختلف ادوار میں...

پریم چند کی عصری معنویت- یوم وفات ہر خاص

 

 

 

شگفتہ پروین

بعض مورخین کا خیال ہے کہ آریاؤں کی آمد سے ہندوستان میں طبقاتی نظام کا آغاز ہوتا ہے ہندوستان میں موجود ذات پات چھوت ا چھوت کا یہ نظام بہت قدیم ہے لگ بھگ 3 ہزار پرانی کتاب مانو سمرتی میں ذات پات کے اس نظام کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے بڑا برہمن ہوتا ہے اور سب سے آخر میں شودر ہوا کرتے تھے جو ہاتھوں سے کام کرتے تھے ان کا شمار دلتو میں ہوتا ہے جو ہر طرح کے سماجی وسیاسی حقوق سے محروم رہیں جنہیں تعلیم تک حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی ان کی حیثیت محض ساز و سامان کسی سی تھی جنہیں باسانی خریدا اور بیچا جا سکتا تھا
ہندوستان کئی صدیوں سے طبقاتی نظام کی زد میں رہا ہے اس نظام کو ختم کرنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلی جس میں ایک اہم تحریک پونا معاہدہ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ معاہدہ 1932 عیسوی میں گاندھی جی اور امبیڈکر کے درمیان ہوا جس میں دلتوں کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کیا گیا ایک اچھا ادیب وہی ہوتا ہے جو اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہو اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پریم چند اپنے ماحول سے پوری طرح آشنا تھے اور اردو ادب میں وہ ایک انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے ناولوں اور افسانوں سے ہمیں اس وقت کے دلتو اور مزدور طبقوں کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے
پریم چند ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور نیچلے طبقے کے حوالے سے لکھا ہے۔
انہوں نے ہی ادب میں سب سے پہلے دیہاتوں کے لہلہاتے فصلوں باغو اور بہار کے موسم کے پیچھے چھپے دردناک ماحول کی عکاسی کی ہے۔
پریم چند کا ادب صرف ان کے عہد سے ہی مناسبت نہیں رکھتا بلکہ یہ ہر دور کے سیاسی سماجی اقتصادی حالات کو برتتا ہے
اردو ادب میں افسانہ نگاری کا سہرا پریم چند کے سر جاتا ہے ان کے افسانوں میں ہر دور کی سچائی ہماری روز مرہ کی زندگی اور ہمارے ماحول کی سچی عکاسی کی گئی ہے آج کئی برس گزر جانے کے بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے آج کی ہی بات کر رہے ہیں
پریم چند کا افسانہ کفن جس میں بھوک اور افلاس کو موضوع بنایا گیا ہے اس افسانے میں پریم چند نے اس حقیقت کو سامنے رکھا ہے کہ کس طرح بھوک انسان کو صحیح غلط میں فرق کرنا بھلا دیتی ہے اس کے ضمیر کو مار دیتی ہے افسانہ کفن میں مادھو گھیسو اور بدھیا تین مرکزی کردار ہیں بدھیا جو مادھو کی بیوی ہوتی ہے اور درد ذاہ سے تڑپ کر مر جاتی ہے لیکن افلاس کا یہ عالم ہے کہ بدھیا کو دینے کے لیے ان کے پاس کفن تک نہیں وہ گاؤں بھر میں کفن کے نام پر پیسے تحصیل کرتے ہیں اور کفن خریدنے بازار جاتے ہیں جہاں وہ بھوک اور لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر کفن کے بجائے اپنی پیٹ پوجا کرتے ہیں اور نشے میں دھت ہو کر سماجی بے حسی پر عالمانہ گفتگو کرتے ہیں کہ کفن لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتی یہی پانچ روپے اگر انہیں بدھیا کی زندگی میں ملے ہوتے تو شاید وہ اس کو بچا پاتے
آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مرنے پر کفن تو خریدنے میں مدد کرتے ہیں لیکن زندگی میں واہ مجبوروں کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے حالانکہ انسانیت کا تقاضہ ہے کہ جو صاحب حیثیت ہے وہ اپنے طور پر غریب بھائیوں کی مدد کریں آج ہم نے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم کسی کی مدد اس وقت کریں جب ان کو کفن کی ضرورت ہو؟
اسی تناظر میں ان کا دوسرا افسانہ اماوس کی رات ہے جس میں پریم چند نے ان لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے جو پیسے کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ پیسے کی پوجا کرتے ہیں
پریم چند نے اماوس کی رات میں ایک طرف ایک غریب پنڈت کو دکھاتے ہیں جس کے گھر میں اناج کا ایک دانہ تک نہیں جو بھوک سے مر رہا ہے دیوالی کے دن بھی اس کا گھر اندھیروں کی زد میں ہے جبکہ دوسری طرف لالا شنکر نامی ایک حکیم ہے جس کو صرف پیسے سے سروکار ہے جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے وہ صرف انہی کا علاج کرتا ہے ورنہ بیمار مرتا ہے تو مر جائے افسانے کے اس کردار میں مفاد پرستی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بغیر کسی جاتی مفاد کے وہ مرتے ہوئے لوگوں کاعلاج کرنے کو تیار نہیں ہوتا اگر اس کردار کا تجزیہ آج کے دور میں کیا جائے تو ہمارے آس پاس اس طرح کے کئی ڈاکٹر مل جائیں گے جو بیمار کے علاج کرنے سے زیادہ اہمیت پیسے اور مفاد پرستی کو دیتے ہیں اور ان کی مفاد پرستی کا یہ عالم ہے کہ ان کے طریقہ علاج میں نمایاں تبدیلی بھی محسوس ہونے لگتی ہے امیر اور غریب کا علاج کرتے وقت وہ تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پریم چند کا ادب صرف بیسویں صدی کا ادب ہی نہیں بلکہ دور حاضر تک کا سچا ادب ہے
ترقی پسند تحریک پریم چند کے زندگی کے آخری ایّام میں شروع ہوئی اور پریم چند خود بھی اس تحریک سے وابستہ ہوئے ان کا صدارتی خطبہ
"اب ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا زیادہ سونا اب موت کی علامت ہے”
اس خطبے سے ہی پریم چند کے نظریے کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ کس قدر کسان مزدوروں کی اچھی زندگیوں کے خواہشمند تھے اور ادب کو ایک آلے کی شکل میں استعمال کرتے تھے حالانکہ ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی باقاعدہ شروعات 1936 عیسوی میں ہوتی ہے لیکن ہم پریم چند کی فکشن کا مطالعہ کریں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پریم چند بہت پہلے سے ہی ترقی پسند تحریک کے موضوعات کو اپنے ناولوں اور افسانوں میں برتتے ہوئے آرہے ہیں۔ ان کی زندگی کا آخری مکمل ناول گودان اس کی عمدہ مثال ہے۔
ناول پریم چند کی زندگی کا سب سے بہترین ناول معنی جاتا ہے اس ناول میں انہوں نے ہے ہوری کو کسان کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا ہے گودان میں جو حالت ہوری کی تھی ولگ بھگ ہندوستان میں موجود ہر کسان کی تھی
کسان جنہیں ہم ان داتا کہتے ہیں وہی کئی دنوں تک بھوکا رہتا ہے پریم چند ہوری کو ایک لافانی کردار کے طور پر پیش کیا ہے ہوری ایک روایتی قدامت پرست کسان ہے جو زندگی بھر روایتوں کو نبھانے کی جدوجہد کرتا رہتا ہے دوسرے کسانوں کی طرح اس کا بھی رواں رواں قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور یہ قرض سود کی بدولت اصل رقم سے بھی دس گنا زیادہ بڑھ چکا ہے اس کے علاوہ ناول گودان میں پریم چن نے گاؤں کی پنچایتی نظام کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح پنچایت انصاف دینے کے بجائے اپنی ذاتی مفاد نکالتے ہیں اور غریبوں کا استحصال کرتے ہیں ہوری چونکہ غریب ہوتا ہے اس لیے جھنیا اور گوبر کی شادی پر پنچایت اس پر 100 روپے نقد اور غلہ دینے کا حکم دیتی ہے
جبکہ دوسری جانب داتا دین جو چمار کی بیٹی سلیہ سے ناجائز تعلقات بناتا ہے اس کی کوئی گرفت نہیں کرتا یہی حال آج کے دور میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں اگر کوئی اونچی ذات یا عہدے پر فائض فرد کوئی جرم انجام دیتا ہے تو اس کو چاہے تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پھر عدالت اسے اس کے گناہوں کی سزا دینے کے بجائے باعزت بری کر دیتی ہے اور سماج میں یہ شخص ایسے فخر یہ انداز سے گھومتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہو جبکہ اس کی بنسبت غریبوں کا استحصال کیا جاتا ہے حق پر ہونے کے باوجود انہیں انصاف ملنا مشکل سے مشکل تر بنا دیاجاتا ہے۔
طبقاتی تضاد کے علاوہ اس ناول کا ایک اہم موضوع غربت و افلاس اور مذہبی سختیوں پر طنز کیا گیا ہے ہوری کے کردار کے ذریعے انہوں نے کسانوں کی زبور حالی کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس طبقے کی مجبوری اور بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے زمینداروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ انہیں مذہبی رہنما مذہب کے نام پر لوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
مذہب کے نام پر سیدھے سادھے لوگوں کا استحصال کرنا ہمیشہ سے ایک سیوا رہا ہے اور اج بھی ان معصوم لوگوں کو مذہب کے نام پر استحصال کیا جا رہا ہے ۔گائے کو ہندو مذہب میں بہت اہمیت حاصل ہے اس لیے ہوری گائے کی سیوا کر کے پنئے کمانا چاہتا ہے لیکن قسمت کی ستم ظرفی کی وجہ سے گائے کی خدمت نہیں کر پاتا اور اپنی غربت کی وجہ سے مرنے کے بعد بھی اس کی یہ خواہش اس کے گھر والے پوری نہیں کر پاتے ایک کسان جس کے گھر فاقے کی نوبت ہو وہ اپنی ایسی کئی خواہشوں کو زمین تلے دفن کر دیتا ہے
بہر حال پریم چند نے ہمیشہ سے کسانوں مزدوروں اور نچلے طبقوں کے مسائل کو اپنی تخلیق کا حصہ بنایا ہے انہوں نے خواب دکھا تھا کہ کسانوں کی اپنی زمین کو کوئی زمیندار اپنی ضرورت کے تحت استعمال نہ کریں پریم چند کی زندگی میں تو یہ ممکن نہ ہو سکا لیکن ہندوستان کی آزادی کے بعد ایسی کئی پالیسیاں بنی جن میں کسانوں دلتوں کے حق کی بات کہی گئی۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ ادب میں ایک نئے رجحان نے جنم لینا شروع کیا ہے جس کو *دلت ادب* کے نام سے معصوم کیا جا رہا ہے دلت ادب کی شروعات مراٹھی زبان میں ہوئی اور دھیرے دھیرے یہ ادب دوسرے کئی زبانوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن ہم اس بات پر اگر گہرائی سے مطالعہ کریں تو ہمیں یہ احساس ہوگا کہ اردو زبان میں دلت ادب بہت پہلے سے موجود ہے پریم چند کے افسانوں اور ناولوں میں جگہ جگہ دلتو کے حق ان کے مسائل اور ان کی سماجی معاشی اور سیاسی حیثیت کی بات کہی گئی ہے
بحر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک ادیب وہ ہوتا ہے جس کی نظر ماضی حال اور مستقبل تینوں پر ہو اور پریم چند کے یہاں یہ تمام چیزیں موجود ہیں پریم چند کی عصری معنویت کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کی تخلیق ماضی، حال، اور مستقبل کا آئینہ دار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں