جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر، یکم اکتوبر: یوتھ نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر مشتاق میر نے کہا ہے کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو درپیش مسائل، بالخصوص روزگار، تعلیمی سہولیات، بھرتیوں اور ریزرویشن سے متعلق معاملات حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
وہ پارٹی ہیڈکوارٹر میں اننت ناگ، بڈگام اور گاندربل کے 43 نومنتخب بلاک صدور کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر یوتھ ونگ کی سرگرمیوں اور تنظیم کو مزید مستحکم بنانے کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشتاق میر نے الزام لگایا کہ 2015 سے 2024 کے اواخر تک نوجوانوں کو روزگار اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھا گیا، جبکہ مقدمات اور گرفتاریوں نے بھی ان کے مستقبل کو متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اقتدار سنبھالتے ہی خود روزگار، مقامی نوجوانوں کے لئے بھرتیوں میں تیزی اور ریزرویشن سمیت دیگر مسائل کے حل کو ترجیح دی، تاہم مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا نظام اور محدود اختیارات ان اقدامات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق پیش کردہ قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عوام کی آئینی اور جمہوری خواہش قرار دیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاستی درجے کی بحالی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
اس موقع پر یوتھ ونگ کے صوبائی نائب صدر فاضل بٹ، صوبائی سکریٹری شیخ اویس اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے، جبکہ اجلاس کا اہتمام صوبائی جوائنٹ سکریٹری بلال احمد نے کیا۔


