جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان انعام النبی نے بجلی واجبات کی وصولی کی حکومتی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں پیش کردہ تازہ اعداد و شمار عام صارفین اور سرکاری اداروں کے ساتھ مختلف رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔
انعام النبی کے مطابق، جموں و کشمیر حکومت کے محکموں اور مرکزی حکومت کے اداروں پر مجموعی طور پر4385کروڑ کے بجلی واجبات بقایا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معمولی بل کی عدم ادائیگی پر عام صارفین اور تجارتی اداروں کے بجلی کنکشن منقطع کیے جا سکتے ہیں، لیکن سرکاری اداروں کے ہزاروں کروڑ کے بقایاجات پر وہی سختی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام سے بروقت ادائیگی کا تقاضا نہیں کرسکتی جبکہ اس کے اپنے ادارے بھاری واجبات جمع کرتے رہیں۔ انعام النبی نے سرکاری اور مرکزی اداروں سے بقایاجات کی مقررہ مدت میں وصولی اور محکمہ وار بقایا رقم، اس کی مدت اور وصولی کے لئے کی گئی کارروائی کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عام صارفین کے خلاف کارروائی سے پہلے حکومت کو اپنے اداروں کے بقایاجات کی وصولی یقینی بنانی چاہیے۔


