
ابراہیم آتش
سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا آر ایس ایس اب نریندر مودی کی جگہ کسی دوسرے رہنما کو وزیراعظم بنانا چاہتی ہے؟ موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات سے بھی ایسے اشارے ملتے ہیں۔ اس دوڑ میں امیت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ اور دیویندر فڈنویس کے نام زیرِ بحث ہیں۔ تاہم، مودی کو اقتدار سے ہٹانا آر ایس ایس کے لئے آسان نہیں ہوگا۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی 240 نشستوں تک محدود رہ گئی، جس کے بعد مودی کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے۔ آر ایس ایس کو خدشہ ہے کہ اگلے انتخابات میں مودی کی قیادت پارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تنظیم نہیں چاہتی کہ بی جے پی اقتدار سے باہر ہو، کیونکہ اس کے بیشتر مفادات پارٹی سے وابستہ ہیں۔
مودی دور میں رام مندر کی تعمیر، دفعہ 370 کی منسوخی اور تین طلاق کے قانون سمیت آر ایس ایس کے کئی اہم مقاصد پورے ہوئے، لیکن اب تنظیم کو نئے سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کی سو سالہ تاریخ میں نظریاتی اتحاد نمایاں رہا ہے، تاہم وقت کے ساتھ کارکنوں کے رہن سہن میں تبدیلی نے بھی کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔
موجودہ حالات میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو اندرون اور بیرون ملک تنقید کا سامنا ہے۔ موہن بھاگوت کا یہ کہنا کہ جو ہندو مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کا تصور کرتا ہے، وہ حقیقی ہندو نہیں، تنظیم کی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کرناٹک کے وزیر داخلہ پرینک کھرگے نے آر ایس ایس کی رجسٹریشن، مالی وسائل اور سرگرمیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے حساب کتاب اور ضروری اجازت ناموں کا مطالبہ کیا ہے۔
آر ایس ایس اور بی جے پی پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ مساجد، درگاہوں، قبرستانوں اور مدارس کے خلاف کارروائیوں، بلڈوزر مہم اور ماب لنچنگ کے واقعات نے ملک کی شبیہ کو متاثر کیا۔ تاہم، اب دلتوں کے حقوق اور ریزرویشن کے معاملے پر بھی ہندو قوم پرست تنظیموں کو مخالفت کا سامنا ہے۔
مدھیہ پردیش میں بھیم آرمی کے داؤد یادو ساگر نے 19 ستمبر کو ایک ریلی منعقد کی، جسے روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے دلتوں کے حقوق پر زور دیا۔ جنتر منتر پر نوجوان طلبہ کی جانب سے آر ایس ایس کے خلاف نعرے بازی بھی بڑھتی ہوئی ناراضی کی عکاسی کرتی ہے۔
حالیہ دنوں بھوپال میں آر ایس ایس کے اجلاس میں دتاتریہ ہوسبلے نے کہا کہ کسی کو پیدائش کی بنیاد پر اونچا یا نیچا نہیں سمجھنا چاہیے۔ موہن بھاگوت بھی دلتوں کے ریزرویشن اور سماجی مساوات کی حمایت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک دلتوں کو معاشرے میں مساوی مقام اور عزت حاصل نہیں ہوتی، ریزرویشن جاری رہنا چاہیے۔
یہ بیانات سماجی مساوات کی جانب اشارے ضرور ہیں، لیکن اصل امتحان انہیں عملی شکل دینے کا ہے۔ آر ایس ایس کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے نظریات اور عملی اقدامات میں حقیقی ہم آہنگی موجود ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی برقرار ہے کہ کیا تنظیم بدلتے سیاسی حالات میں مودی کی قیادت پر نظرثانی کرے گی؟


