مغربی جمہوریت کے چرچے اور ان کا پس پردہ فرعونی کردار۔

 

 

 

طفیل مگسی

انیسویں اور بیسویں صدی کی تاریخ مغربی تہذیب کے ان دعووں کو بے نقاب کرتی ہے جن میں وہ خود کو انسان دوستی تہذیب یافتہ بنانے کے مشن اور آزاد تجارت کا علمبردار قرار دیتی تھی حقیقت میں یہ تہذیب مادہ پرستی نسلی برتری اور الحادی فکر کے امتزاج سے جنم لینے والی ایک ایسی طاقت تھی جس نے غیر یورپی اقوام کو محض وسائل مزدور اور قابل استحصال مخلوق سمجھا کانگو فری اسٹیٹ سے لے کر بنگال کے قحط لیبیا کے ارتکازی کیمپوں نمیبیا کے ہیریرو قتل عام جلیانوالہ باغ ایر لینڈ کے قحط الجیریا کینیا آسٹریلیا شمالی امریکہ چین کی افیون جنگوں اور پھر جدید دور میں فلسـ ــطین عراق افغانستان ایران عرب ممالک وینزویلا اور سوڈان تک یہ سلسلہ ایک ہی فکری ڈھانچے کی پیداوار ہے۔
1884 85 کی برلن کانفرنس میں یورپی طاقتوں نے افریقہ کو آپس میں بانٹتے ہوئے بیلجیئم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کو کانگو کا بلا شرکت غیرے مالک تسلیم کر لیا اس قدم کو سلیوری کے خاتمے اور مقامی آبادی کی فلاح کے نام پر پیش کیا گیا مگر حقیقت میں یہ ہاتھی دانت اور بالخصوص صنعتی انقلاب کی ربڑ کی مانگ کو پورا کرنے کی خونی مہم تھی لیوپولڈ نے کانگو کو اپنی ذاتی جائیداد بنا لیا فورس پبلک نامی فوجی فورس نے مقامی مردوں عورتوں اور بچوں کو زنجیروں میں جکڑ کر جنگلات میں ربڑ جمع کرنے پر مجبور کیا کوٹا پورا نہ ہونے پر گردنیں کاٹی گئیں گھروں کو آگ لگا دی گئی اور بچوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر حکام کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کیے گئے تاکہ یہ ثابت ہو کہ بارود سزا کے لئے استعمال ہوا ہے اندازا 10000000 لوگ اس خطے کی تقریبا آدھی آبادی قتل عام قحط اور بیماریوں کا شکار ہو گئے یورپ جو خود کو عقل اور اخلاقیات کا سرچشمہ کہتا تھا اس کے ایک حکمران نے اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹس بھرنے اور برسلز میں محلات تعمیر کرنے کے لئے ایک پوری نسل کو مٹا دیا یہ ظلم محض اقتصادی لالچ نہیں تھا بلکہ انسان کو اشیاء کی طرح استعمال کرنے والی مادہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ تھا جس میں مقامی آبادی کو انسان ہی نہیں سمجھا گیا۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی راج نے جنوبی ایشیا کے وسائل کو اپنے جنگی مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال کیا 1943 کا بنگال قحط قدرتی آفت نہیں بلکہ انسان ساختہ سانحہ تھا جاپان کے برما پر قبضے کے بعد برطانوی جنگی کابینہ نے ڈینائل پالیسی نافذ کی ساحلی اضلاع سے چاول ضبط کیا گیا یا تباہ کر دیا گیا تقریبا 45000 سے 66000 کشتیاں غرق یا ضبط کر لی گئیں جب بنگال بھوک سے تڑپ رہا تھا تو برطانیہ ہندوستان سے غلہ برآمد کرتا رہا اور امداد بھیجنے سے انکار کر دیا ونسٹن چرچل نے ہندوستانیوں کو بھیانک قوم قرار دیا اور قحط کے دوران طنزیہ پوچھا کہ گاندھی ابھی تک زندہ کیوں ہے نتیجہ 3000000 سے 4000000 انسانوں کی موت یہ انٹائیٹلمنٹ فیلئر تھا غذا موجود تھی مگر لوگوں کے پاس خریدنے کی صلاحیت ختم کر دی گئی تھی برطانوی حکمرانوں نے جنگ کی ضروریات کو انسانی جانوں پر ترجیح دی اور نسلی حقارت کو کھلے عام ظاہر کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تہذیب مادہ اور اقتدار کے سوا کچھ نہیں جانتی تھی۔
1929 سے 1934 تک سیرینییکا میں اطالوی فاشسٹ حکومت نے سِنوسی مزاحمت کو کچلنے کے لئے منظم نسل کشی کی کنوئیں زہر آلود کیے گئے دیہات جلائے گئے اور تقریبا 100000 سے 110000 افراد کو صحرائی کیمپوں کی طرف جبری مارچ پر مجبور کیا گیا تقریبا 50000 سے 70000 لوگ بھوک پیاس اور بیماریوں سے مر گئے سیرینییکا کی بدو آبادی کا تقریبا آدھا حصہ ختم ہو گیا یہ کیمپ محض قید خانے نہیں تھے بلکہ انسانوں کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کے مراکز تھے جہاں فاشسٹ سوچ نے مقامی لوگوں کو غیر انسانی مخلوق قرار دے کر ان کے وجود کو مٹانے کا فیصلہ کیا۔
1904 میں جنرل لوتھر فان ٹروتھا نے حکم دیا کہ ہر ہیریرو عورت یا بچہ کو گولی مار دی جائے انہیں صحرائے اوماہیکے کی طرف دھکیل دیا گیا کنوئیں زہر آلود کیے گئے ہیریرو آبادی 80000 سے 15000 رہ گئی تقریبا 80 فیصد خاتمہ یہ نسل کشی کھلے عام کی گئی اور بعد میں اسے بھلا دیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یورپی تہذیب نے یہاں بھی اپنی برتری کا ثبوت پیش کیا اور انسانیت کو نظر انداز کر دیا۔
1919 میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ہزاروں بے ہتھیار لوگ امن سے جمع تھے جنرل ڈائر نے بغیر تنبیہ کے مشین گنوں سے فائرنگ کرائی تنگ راستوں میں فرار ناممکن تھا سینکڑوں مرد عورتیں اور بچے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے زخمیوں کو طبی امداد سے محروم رکھا گیا یہ واقعہ مقامی آبادی کو دہشت زدہ کرنے اور برطانوی اقتدار کو قائم رکھنے کا طریقہ تھا جو مادہ اور طاقت کی پرستش سے جنم لیتا ہے
ایر لینڈ کا عظیم قحط انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی پالیسیوں کا نتیجہ تھا آلو کی فصل خراب ہونے کے باوجود برطانیہ نے خوراک کی برآمد جاری رکھی اور امداد روک دی لاکھوں آئرش بھوک اور بیماری سے مر گئے یا اپنے گھروں سے نکل کر دور بھاگ گئے یہ بھی وہی سوچ تھی جو بنگال میں دیکھی گئی کہ کمتر سمجھی جانے والی قوم کی جان کی کوئی قیمت نہیں
الجیریا میں فرانسیسی استعمار نے ایک صدی سے زائد عرصے تک مقامی آبادی کو کچلا 1954 سے 1962 تک کی جنگ آزادی میں فرانسیسی فوج نے تشدد کے کیمپ قائم کیے دیہات جلائے اور لاکھوں الجیرین قتل کیے یا بے گھر کر دیے تشدد کے طریقے اتنے سخت تھے کہ انسانی جسم کو آزمائش گاہ بنا دیا گیا یہ سب تہذیب اور آزادی کے نام پر ہوا مگر اصل محرک زمین وسائل اور نسلی غرور تھا
کینیا میں ماؤ ماؤ بغاوت کے دوران برطانوی حکام نے ہزاروں کینیا کے لوگوں کو ارتکازی کیمپوں میں بند کر دیا تشدد کے ذریعے اعترافات لئے گئے اور مقامی آبادی کو دہشت کا نشانہ بنایا گیا لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور بہت سے مر گئے یہ بھی کانگو اور لیبیا والے ماڈل کی جدید شکل تھی جہاں مزاحمت کو ختم کرنے کے لئے پوری قوم کو نشانہ بنایا گیا
آسٹریلیا میں یورپی آباد کاروں نے آبائی آبادی کو تقریبا ختم کر دیا زہریلے کنویں بیماریاں اور براہ راست قتل عام کے ذریعے لاکھوں آبائی لوگ ہلاک ہوئے بچوں کو زبردستی والدین سے چھین کر یورپی خاندانوں میں دیا گیا تاکہ ان کی ثقافت مٹا دی جائے یہ نسل کشی صدیوں تک چلتی رہی اور آج بھی اس کے اثرات موجود ہیں
شمالی امریکہ میں یورپی نوآبادیات نے مقامی قبائل کی زمینیں چھین لیں اور منظم طریقے سے انہیں ختم کیا بیماریاں جنگ اور جبری ہجرت کے ذریعے لاکھوں لوگ مر گئے یہ سب مادہ پرستی اور سفید فام برتری کے نظریے کی پیداوار تھی۔
چین میں افیون کی جنگیں برطانوی تجارتی مفاد کی انتہا تھیں چین نے افیون کی درآمد روکنے کی کوشش کی تو برطانیہ نے جنگ چھیڑ دی اور چین کو مجبور کیا کہ وہ زہریلی افیون قبول کرے اس سے لاکھوں چینی تباہ ہوئے اور ملک کمزور پڑ گیا تجارت کے نام پر ایک پوری قوم کو نشے کا عادی بنایا گیا یہ بھی وہی سوچ ہے جو انسان کو منافع کا ذریعہ سمجھتی ہے
جدید دور فلسـ ــطین غــ ــزہ عراق افغانستان ایران عرب ممالک وینزویلا اور سوڈان تباہی کا تسلسل میں اسی مادہ پرستانہ اور نسلی برتری کا نظریہ بیسویں صدی کے بعد بھی جاری رہا فلسـ ــطین میں مغربی حمایت یافتہ قبضے اور مسلسل جنگوں نے لاکھوں فلسـ ــطینیوں کو بے گھر کیا شہید کیا اور ایک پوری قوم کو صدیوں پر محیط مصیبت میں مبتلا کر دیا خاص طور پر غــ ــزہ میں بار بار ہونے والے حملوں میں ہزاروں بے گناہ بچے عورتیں اور مرد شہید کیے گئے ہسپتال اسکول اور رہائشی علاقے مسمار کیے گئے یہ سب خود دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہوا مگر حقیقت میں یہ ایک قوم کو مسلسل کمزور کرنے اور اس کی مزاحمت کو کچلنے کی پالیسی تھی جدید ہتھیاروں اور میڈیا کے پردے میں وہی پرانی سوچ چھپی ہوئی ہے جو کانگو میں ہاتھ کاٹنے والی تھی۔
عراق میں 2003 کی جنگ نے ایک پوری ریاست کو تباہ کر دیا لاکھوں عراقی ہلاک ہوئے بنیادی ڈھانچہ مسمار ہوا اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی گئی جمہوریت اور آزاد دنیا کے نام پر کی گئی یہ مداخلت درحقیقت تیل کے ذخائر اور علاقائی تسلط کی ہوس تھی افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ نے لاکھوں افغانوں کی جان لی دیہات جلا دیے گئے اور ایک پوری نسل کو جنگ اور غربت میں دھکیل دیا گیا ایران کے خلاف مسلسل پابندیاں دباؤ اور بالواسطہ مداخلتیں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جنہوں نے اقتصادی تباہی اور انسانی مصائب پیدا کیے ہیں۔
دنیا بھر میں جنگیں کروا کر عرب ممالک کی صورتحال کو منتشر رکھنا بھی اسی استعماری لالچ کا حصہ ہے عرب کے تیل پر قبضہ کرنے کے لئے مسلسل فتنے اور جنگوں کے بیج بوئے جاتے ہیں تاکہ علاقہ کمزور رہے اور مغربی طاقتیں اس کے وسائل پر قابض رہ سکیں وینزویلا کے تیل پر قبضہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے اس کی معیشت کو تباہ کر کے اس کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا گیا سوڈان کا سونا بھی اسی ہوس کا نشانہ ہے جہاں جنگوں اور عدم استحکام کے ذریعے وسائل کی لوٹ مار آسان بنائی جاتی ہے یہ سب چالیں ہیں جو صدیوں پرانی استعماری ہوس کو زندہ رکھتی ہیں تیل سونا اور دیگر وسائل کی خاطر قوموں کو تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انسانی حقوق کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
ان تمام جنگوں میں مغربی طاقتوں نے انسانی حقوق آزادی اور تہذیب کے نعرے لگائے مگر نتیجہ ہمیشہ تباہی لاکھوں ہلاکتیں اور پوری معاشروں کا خاتمہ رہا یہ وہی فکر ہے جو کانگو میں ہاتھ کاٹنے بنگال میں قحط پیدا کرنے اور لیبیا میں کیمپ قائم کرنے والی تھی صرف طریقہ کار جدید ہو گیا ہے۔
مغرب کی آج کی ترقی اور دولت کا اصل راز صدیوں پر محیط استعماری لوٹ مار ہے یورپی طاقتوں نے افریقہ ایشیا اور امریکہ کی دولت کو زبردستی چھینا کانگو کی ربڑ اور ہاتھی دانت بنگال کا چاول اور کپاس ہندوستان کا سونا اور مصالحہ جات افریقہ کا سونا ہیرے تیل تانبا اور انسانی مزدور سب کچھ یورپ کی صنعتوں اور بنکوں میں منتقل کیا گیا یہ لوٹ مار محض تجارت نہیں تھی بلکہ مسلح ڈاکہ تھا جس میں پوری قومیں تباہ کر دی گئیں اور ان کے وسائل یورپی شہروں کی رونق بن گئے بغیر اس خون آلود دولت کے مغرب کی صنعتی انقلاب اور آج کی خوشحالی ممکن ہی نہ ہوتی۔
افریقہ کے وسائل پر ڈاکہ مغربی ترقی کی بنیاد رہا ہے کانگو سے لے کر نائجیریا انگولا اور جنوبی افریقہ تک ہر جگہ معدنیات اور زرعی پیداوار کو زبردستی نکالا گیا مقامی آبادی کو غلام بنا کر کام پر لگایا گیا یا قتل کر دیا گیا آج بھی افریقہ کے تیل ہیروں اور نایاب دھاتوں کی آمدنی مغربی کمپنیوں کے پاس جاتی ہے جبکہ افریقی عوام غربت اور جنگوں میں جکڑے رہتے ہیں یہ ڈاکہ کبھی بند نہیں ہوا صرف شکل بدلتی رہی ہے پرانے فوجی قبضے کی جگہ اب معاہدے اور کمپنیاں آ گئی ہیں مگر لوٹ کا سلسلہ وہی ہے۔
آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے ادارے جدید استعماری آلات ہیں یہ ادارے قرضوں کی سخت شرائط کے ذریعے مشرقی ممالک کی معیشتوں کو قابو میں رکھتے ہیں مقامی کرنسی کو کمزور کرتے ہیں سرکاری اداروں کی نجکاری پر مجبور کرتے ہیں اور قدرتی وسائل کی فروخت کو آسان بناتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ممالک ہمیشہ مقروض رہتے ہیں اور ان کی دولت مغرب کی طرف بہتی رہتی ہے جمعیت اقوام انسانی حقوق کے نام پر مداخلت کرتی ہے مگر اصل میں مغربی مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ ادارے پرانی نوآبادیاتی پالیسیوں کا تازہ روپ ہیں جو بغیر فوج کے ہی پوری قوموں کو معاشی غلام بنا دیتے ہیں۔
لیکن دیسی لبرل دانشور اس ساری تاریخ کو نظر انداز کر کے مغرب کی ترقی کو ناچ گانے ہم جنس پرستی اور مذہب دشمنی میں ڈھونڈتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ مغرب اس لئے آگے بڑھا کہ اس نے مذہب کو چھوڑ دیا رقص اور بے راہ روی کو اپنا لیا حالانکہ یہ سراسر جہالت ہے مغرب کی دولت خون اور لوٹ مار سے بنی ہے نہ کہ تہذیبی انحطاط سے جو لوگ اس حقیقت کو چھپا کر مغربی طرز زندگی کی نقالی کو ترقی کا راستہ بتاتے ہیں وہ درحقیقت استعماری ذہنیت کے غلام ہیں اور اپنے معاشرے کو گمراہ کر رہے ہیں حقیقی ترقی اپنے وسائل کے تحفظ اور اپنی تہذیب کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے نہ کہ اجنبی برائیوں کی نقل میں۔
کانگو کے کٹے ہوئے ہاتھ بنگال کی سڑکوں پر مرنے والے لاکھوں لیبیا کے کیمپوں کی بھوک نمیبیا کے صحرا میں تڑپتے لوگ جلیانوالہ باغ کے خون ایر لینڈ کی بھوک الجیریا کے تشدد کینیا کے کیمپ آسٹریلیا کے مٹائے گئے قبائل امریکہ کی ختم شدہ اقوام چین کی افیون غــ ــزہ کے مسمار شدہ گھر عراق کی تباہ شدہ شہر افغانستان کے لاکھوں شہید عرب کے منتشر ممالک وینزویلا کے قابض شدہ تیل سوڈان کے لوٹے گئے سونے اور آج کے آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے قرضوں کے نیچے دبے ہوئے ممالک یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب مغربی تہذیب کی مادہ پرستی اور الحادی فکر اخلاقی اقدار سے خالی ہو جائے تو وہ نسل کشی جنگ تباہی اور معاشی غلامی کے سوا کچھ نہیں چھوڑتی یہ تہذیب انسانیت سے دور دراز کا تعلق بھی نہیں رکھتی اس کا اصل محرک اقتدار وسائل اور نسلی برتری رہا ہے آج بھی یہی سلسلہ جاری ہے اور جب تک مادہ پرستی کو انسانیت پر ترجیح دی جاتی رہے گی تباہی کا یہ چکر نہیں رکے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

مغربی جمہوریت کے چرچے اور ان کا پس پردہ فرعونی کردار۔

 

 

 

طفیل مگسی

انیسویں اور بیسویں صدی کی تاریخ مغربی تہذیب کے ان دعووں کو بے نقاب کرتی ہے جن میں وہ خود کو انسان دوستی تہذیب یافتہ بنانے کے مشن اور آزاد تجارت کا علمبردار قرار دیتی تھی حقیقت میں یہ تہذیب مادہ پرستی نسلی برتری اور الحادی فکر کے امتزاج سے جنم لینے والی ایک ایسی طاقت تھی جس نے غیر یورپی اقوام کو محض وسائل مزدور اور قابل استحصال مخلوق سمجھا کانگو فری اسٹیٹ سے لے کر بنگال کے قحط لیبیا کے ارتکازی کیمپوں نمیبیا کے ہیریرو قتل عام جلیانوالہ باغ ایر لینڈ کے قحط الجیریا کینیا آسٹریلیا شمالی امریکہ چین کی افیون جنگوں اور پھر جدید دور میں فلسـ ــطین عراق افغانستان ایران عرب ممالک وینزویلا اور سوڈان تک یہ سلسلہ ایک ہی فکری ڈھانچے کی پیداوار ہے۔
1884 85 کی برلن کانفرنس میں یورپی طاقتوں نے افریقہ کو آپس میں بانٹتے ہوئے بیلجیئم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کو کانگو کا بلا شرکت غیرے مالک تسلیم کر لیا اس قدم کو سلیوری کے خاتمے اور مقامی آبادی کی فلاح کے نام پر پیش کیا گیا مگر حقیقت میں یہ ہاتھی دانت اور بالخصوص صنعتی انقلاب کی ربڑ کی مانگ کو پورا کرنے کی خونی مہم تھی لیوپولڈ نے کانگو کو اپنی ذاتی جائیداد بنا لیا فورس پبلک نامی فوجی فورس نے مقامی مردوں عورتوں اور بچوں کو زنجیروں میں جکڑ کر جنگلات میں ربڑ جمع کرنے پر مجبور کیا کوٹا پورا نہ ہونے پر گردنیں کاٹی گئیں گھروں کو آگ لگا دی گئی اور بچوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر حکام کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کیے گئے تاکہ یہ ثابت ہو کہ بارود سزا کے لئے استعمال ہوا ہے اندازا 10000000 لوگ اس خطے کی تقریبا آدھی آبادی قتل عام قحط اور بیماریوں کا شکار ہو گئے یورپ جو خود کو عقل اور اخلاقیات کا سرچشمہ کہتا تھا اس کے ایک حکمران نے اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹس بھرنے اور برسلز میں محلات تعمیر کرنے کے لئے ایک پوری نسل کو مٹا دیا یہ ظلم محض اقتصادی لالچ نہیں تھا بلکہ انسان کو اشیاء کی طرح استعمال کرنے والی مادہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ تھا جس میں مقامی آبادی کو انسان ہی نہیں سمجھا گیا۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی راج نے جنوبی ایشیا کے وسائل کو اپنے جنگی مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال کیا 1943 کا بنگال قحط قدرتی آفت نہیں بلکہ انسان ساختہ سانحہ تھا جاپان کے برما پر قبضے کے بعد برطانوی جنگی کابینہ نے ڈینائل پالیسی نافذ کی ساحلی اضلاع سے چاول ضبط کیا گیا یا تباہ کر دیا گیا تقریبا 45000 سے 66000 کشتیاں غرق یا ضبط کر لی گئیں جب بنگال بھوک سے تڑپ رہا تھا تو برطانیہ ہندوستان سے غلہ برآمد کرتا رہا اور امداد بھیجنے سے انکار کر دیا ونسٹن چرچل نے ہندوستانیوں کو بھیانک قوم قرار دیا اور قحط کے دوران طنزیہ پوچھا کہ گاندھی ابھی تک زندہ کیوں ہے نتیجہ 3000000 سے 4000000 انسانوں کی موت یہ انٹائیٹلمنٹ فیلئر تھا غذا موجود تھی مگر لوگوں کے پاس خریدنے کی صلاحیت ختم کر دی گئی تھی برطانوی حکمرانوں نے جنگ کی ضروریات کو انسانی جانوں پر ترجیح دی اور نسلی حقارت کو کھلے عام ظاہر کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تہذیب مادہ اور اقتدار کے سوا کچھ نہیں جانتی تھی۔
1929 سے 1934 تک سیرینییکا میں اطالوی فاشسٹ حکومت نے سِنوسی مزاحمت کو کچلنے کے لئے منظم نسل کشی کی کنوئیں زہر آلود کیے گئے دیہات جلائے گئے اور تقریبا 100000 سے 110000 افراد کو صحرائی کیمپوں کی طرف جبری مارچ پر مجبور کیا گیا تقریبا 50000 سے 70000 لوگ بھوک پیاس اور بیماریوں سے مر گئے سیرینییکا کی بدو آبادی کا تقریبا آدھا حصہ ختم ہو گیا یہ کیمپ محض قید خانے نہیں تھے بلکہ انسانوں کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کے مراکز تھے جہاں فاشسٹ سوچ نے مقامی لوگوں کو غیر انسانی مخلوق قرار دے کر ان کے وجود کو مٹانے کا فیصلہ کیا۔
1904 میں جنرل لوتھر فان ٹروتھا نے حکم دیا کہ ہر ہیریرو عورت یا بچہ کو گولی مار دی جائے انہیں صحرائے اوماہیکے کی طرف دھکیل دیا گیا کنوئیں زہر آلود کیے گئے ہیریرو آبادی 80000 سے 15000 رہ گئی تقریبا 80 فیصد خاتمہ یہ نسل کشی کھلے عام کی گئی اور بعد میں اسے بھلا دیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یورپی تہذیب نے یہاں بھی اپنی برتری کا ثبوت پیش کیا اور انسانیت کو نظر انداز کر دیا۔
1919 میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ہزاروں بے ہتھیار لوگ امن سے جمع تھے جنرل ڈائر نے بغیر تنبیہ کے مشین گنوں سے فائرنگ کرائی تنگ راستوں میں فرار ناممکن تھا سینکڑوں مرد عورتیں اور بچے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے زخمیوں کو طبی امداد سے محروم رکھا گیا یہ واقعہ مقامی آبادی کو دہشت زدہ کرنے اور برطانوی اقتدار کو قائم رکھنے کا طریقہ تھا جو مادہ اور طاقت کی پرستش سے جنم لیتا ہے
ایر لینڈ کا عظیم قحط انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی پالیسیوں کا نتیجہ تھا آلو کی فصل خراب ہونے کے باوجود برطانیہ نے خوراک کی برآمد جاری رکھی اور امداد روک دی لاکھوں آئرش بھوک اور بیماری سے مر گئے یا اپنے گھروں سے نکل کر دور بھاگ گئے یہ بھی وہی سوچ تھی جو بنگال میں دیکھی گئی کہ کمتر سمجھی جانے والی قوم کی جان کی کوئی قیمت نہیں
الجیریا میں فرانسیسی استعمار نے ایک صدی سے زائد عرصے تک مقامی آبادی کو کچلا 1954 سے 1962 تک کی جنگ آزادی میں فرانسیسی فوج نے تشدد کے کیمپ قائم کیے دیہات جلائے اور لاکھوں الجیرین قتل کیے یا بے گھر کر دیے تشدد کے طریقے اتنے سخت تھے کہ انسانی جسم کو آزمائش گاہ بنا دیا گیا یہ سب تہذیب اور آزادی کے نام پر ہوا مگر اصل محرک زمین وسائل اور نسلی غرور تھا
کینیا میں ماؤ ماؤ بغاوت کے دوران برطانوی حکام نے ہزاروں کینیا کے لوگوں کو ارتکازی کیمپوں میں بند کر دیا تشدد کے ذریعے اعترافات لئے گئے اور مقامی آبادی کو دہشت کا نشانہ بنایا گیا لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور بہت سے مر گئے یہ بھی کانگو اور لیبیا والے ماڈل کی جدید شکل تھی جہاں مزاحمت کو ختم کرنے کے لئے پوری قوم کو نشانہ بنایا گیا
آسٹریلیا میں یورپی آباد کاروں نے آبائی آبادی کو تقریبا ختم کر دیا زہریلے کنویں بیماریاں اور براہ راست قتل عام کے ذریعے لاکھوں آبائی لوگ ہلاک ہوئے بچوں کو زبردستی والدین سے چھین کر یورپی خاندانوں میں دیا گیا تاکہ ان کی ثقافت مٹا دی جائے یہ نسل کشی صدیوں تک چلتی رہی اور آج بھی اس کے اثرات موجود ہیں
شمالی امریکہ میں یورپی نوآبادیات نے مقامی قبائل کی زمینیں چھین لیں اور منظم طریقے سے انہیں ختم کیا بیماریاں جنگ اور جبری ہجرت کے ذریعے لاکھوں لوگ مر گئے یہ سب مادہ پرستی اور سفید فام برتری کے نظریے کی پیداوار تھی۔
چین میں افیون کی جنگیں برطانوی تجارتی مفاد کی انتہا تھیں چین نے افیون کی درآمد روکنے کی کوشش کی تو برطانیہ نے جنگ چھیڑ دی اور چین کو مجبور کیا کہ وہ زہریلی افیون قبول کرے اس سے لاکھوں چینی تباہ ہوئے اور ملک کمزور پڑ گیا تجارت کے نام پر ایک پوری قوم کو نشے کا عادی بنایا گیا یہ بھی وہی سوچ ہے جو انسان کو منافع کا ذریعہ سمجھتی ہے
جدید دور فلسـ ــطین غــ ــزہ عراق افغانستان ایران عرب ممالک وینزویلا اور سوڈان تباہی کا تسلسل میں اسی مادہ پرستانہ اور نسلی برتری کا نظریہ بیسویں صدی کے بعد بھی جاری رہا فلسـ ــطین میں مغربی حمایت یافتہ قبضے اور مسلسل جنگوں نے لاکھوں فلسـ ــطینیوں کو بے گھر کیا شہید کیا اور ایک پوری قوم کو صدیوں پر محیط مصیبت میں مبتلا کر دیا خاص طور پر غــ ــزہ میں بار بار ہونے والے حملوں میں ہزاروں بے گناہ بچے عورتیں اور مرد شہید کیے گئے ہسپتال اسکول اور رہائشی علاقے مسمار کیے گئے یہ سب خود دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہوا مگر حقیقت میں یہ ایک قوم کو مسلسل کمزور کرنے اور اس کی مزاحمت کو کچلنے کی پالیسی تھی جدید ہتھیاروں اور میڈیا کے پردے میں وہی پرانی سوچ چھپی ہوئی ہے جو کانگو میں ہاتھ کاٹنے والی تھی۔
عراق میں 2003 کی جنگ نے ایک پوری ریاست کو تباہ کر دیا لاکھوں عراقی ہلاک ہوئے بنیادی ڈھانچہ مسمار ہوا اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی گئی جمہوریت اور آزاد دنیا کے نام پر کی گئی یہ مداخلت درحقیقت تیل کے ذخائر اور علاقائی تسلط کی ہوس تھی افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ نے لاکھوں افغانوں کی جان لی دیہات جلا دیے گئے اور ایک پوری نسل کو جنگ اور غربت میں دھکیل دیا گیا ایران کے خلاف مسلسل پابندیاں دباؤ اور بالواسطہ مداخلتیں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جنہوں نے اقتصادی تباہی اور انسانی مصائب پیدا کیے ہیں۔
دنیا بھر میں جنگیں کروا کر عرب ممالک کی صورتحال کو منتشر رکھنا بھی اسی استعماری لالچ کا حصہ ہے عرب کے تیل پر قبضہ کرنے کے لئے مسلسل فتنے اور جنگوں کے بیج بوئے جاتے ہیں تاکہ علاقہ کمزور رہے اور مغربی طاقتیں اس کے وسائل پر قابض رہ سکیں وینزویلا کے تیل پر قبضہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے اس کی معیشت کو تباہ کر کے اس کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا گیا سوڈان کا سونا بھی اسی ہوس کا نشانہ ہے جہاں جنگوں اور عدم استحکام کے ذریعے وسائل کی لوٹ مار آسان بنائی جاتی ہے یہ سب چالیں ہیں جو صدیوں پرانی استعماری ہوس کو زندہ رکھتی ہیں تیل سونا اور دیگر وسائل کی خاطر قوموں کو تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انسانی حقوق کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
ان تمام جنگوں میں مغربی طاقتوں نے انسانی حقوق آزادی اور تہذیب کے نعرے لگائے مگر نتیجہ ہمیشہ تباہی لاکھوں ہلاکتیں اور پوری معاشروں کا خاتمہ رہا یہ وہی فکر ہے جو کانگو میں ہاتھ کاٹنے بنگال میں قحط پیدا کرنے اور لیبیا میں کیمپ قائم کرنے والی تھی صرف طریقہ کار جدید ہو گیا ہے۔
مغرب کی آج کی ترقی اور دولت کا اصل راز صدیوں پر محیط استعماری لوٹ مار ہے یورپی طاقتوں نے افریقہ ایشیا اور امریکہ کی دولت کو زبردستی چھینا کانگو کی ربڑ اور ہاتھی دانت بنگال کا چاول اور کپاس ہندوستان کا سونا اور مصالحہ جات افریقہ کا سونا ہیرے تیل تانبا اور انسانی مزدور سب کچھ یورپ کی صنعتوں اور بنکوں میں منتقل کیا گیا یہ لوٹ مار محض تجارت نہیں تھی بلکہ مسلح ڈاکہ تھا جس میں پوری قومیں تباہ کر دی گئیں اور ان کے وسائل یورپی شہروں کی رونق بن گئے بغیر اس خون آلود دولت کے مغرب کی صنعتی انقلاب اور آج کی خوشحالی ممکن ہی نہ ہوتی۔
افریقہ کے وسائل پر ڈاکہ مغربی ترقی کی بنیاد رہا ہے کانگو سے لے کر نائجیریا انگولا اور جنوبی افریقہ تک ہر جگہ معدنیات اور زرعی پیداوار کو زبردستی نکالا گیا مقامی آبادی کو غلام بنا کر کام پر لگایا گیا یا قتل کر دیا گیا آج بھی افریقہ کے تیل ہیروں اور نایاب دھاتوں کی آمدنی مغربی کمپنیوں کے پاس جاتی ہے جبکہ افریقی عوام غربت اور جنگوں میں جکڑے رہتے ہیں یہ ڈاکہ کبھی بند نہیں ہوا صرف شکل بدلتی رہی ہے پرانے فوجی قبضے کی جگہ اب معاہدے اور کمپنیاں آ گئی ہیں مگر لوٹ کا سلسلہ وہی ہے۔
آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے ادارے جدید استعماری آلات ہیں یہ ادارے قرضوں کی سخت شرائط کے ذریعے مشرقی ممالک کی معیشتوں کو قابو میں رکھتے ہیں مقامی کرنسی کو کمزور کرتے ہیں سرکاری اداروں کی نجکاری پر مجبور کرتے ہیں اور قدرتی وسائل کی فروخت کو آسان بناتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ممالک ہمیشہ مقروض رہتے ہیں اور ان کی دولت مغرب کی طرف بہتی رہتی ہے جمعیت اقوام انسانی حقوق کے نام پر مداخلت کرتی ہے مگر اصل میں مغربی مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ ادارے پرانی نوآبادیاتی پالیسیوں کا تازہ روپ ہیں جو بغیر فوج کے ہی پوری قوموں کو معاشی غلام بنا دیتے ہیں۔
لیکن دیسی لبرل دانشور اس ساری تاریخ کو نظر انداز کر کے مغرب کی ترقی کو ناچ گانے ہم جنس پرستی اور مذہب دشمنی میں ڈھونڈتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ مغرب اس لئے آگے بڑھا کہ اس نے مذہب کو چھوڑ دیا رقص اور بے راہ روی کو اپنا لیا حالانکہ یہ سراسر جہالت ہے مغرب کی دولت خون اور لوٹ مار سے بنی ہے نہ کہ تہذیبی انحطاط سے جو لوگ اس حقیقت کو چھپا کر مغربی طرز زندگی کی نقالی کو ترقی کا راستہ بتاتے ہیں وہ درحقیقت استعماری ذہنیت کے غلام ہیں اور اپنے معاشرے کو گمراہ کر رہے ہیں حقیقی ترقی اپنے وسائل کے تحفظ اور اپنی تہذیب کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے نہ کہ اجنبی برائیوں کی نقل میں۔
کانگو کے کٹے ہوئے ہاتھ بنگال کی سڑکوں پر مرنے والے لاکھوں لیبیا کے کیمپوں کی بھوک نمیبیا کے صحرا میں تڑپتے لوگ جلیانوالہ باغ کے خون ایر لینڈ کی بھوک الجیریا کے تشدد کینیا کے کیمپ آسٹریلیا کے مٹائے گئے قبائل امریکہ کی ختم شدہ اقوام چین کی افیون غــ ــزہ کے مسمار شدہ گھر عراق کی تباہ شدہ شہر افغانستان کے لاکھوں شہید عرب کے منتشر ممالک وینزویلا کے قابض شدہ تیل سوڈان کے لوٹے گئے سونے اور آج کے آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے قرضوں کے نیچے دبے ہوئے ممالک یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب مغربی تہذیب کی مادہ پرستی اور الحادی فکر اخلاقی اقدار سے خالی ہو جائے تو وہ نسل کشی جنگ تباہی اور معاشی غلامی کے سوا کچھ نہیں چھوڑتی یہ تہذیب انسانیت سے دور دراز کا تعلق بھی نہیں رکھتی اس کا اصل محرک اقتدار وسائل اور نسلی برتری رہا ہے آج بھی یہی سلسلہ جاری ہے اور جب تک مادہ پرستی کو انسانیت پر ترجیح دی جاتی رہے گی تباہی کا یہ چکر نہیں رکے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں