
بلال بشیربٹ
bilalbashirbhat@gmail.com
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے خفیہ دورے، جس کی اب دونوں ممالک نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
نیتن یاہو نے اتوار 27 ستمبر کو ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ اماراتی حکومت نے اس ملاقات کی باضابطہ تصدیق ایک روز بعد کی۔
امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ امارات نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کے دفتر نے بھی بتایا کہ اماراتی صدر کی دعوت پر ہونے والے اس دورے کا مقصد باہمی روابط کو مضبوط بنانا اور علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں جاری جنگ و تباہی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور بدلتے ہوئے سفارتی اتحاد خطے کی سیاسی حکمت عملیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اس ملاقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے فلسطینی علاقوں میں اقدامات پر عرب دنیا کے بیشتر حصوں میں شدید تشویش کے باوجود دونوں ممالک باہمی رابطوں کو برقرار رکھنے کو اہمیت دیتے ہیں۔
اس دورے کو اسرائیلی اخبار ’ہاریتز‘ کی ایک رپورٹ کے بعد خصوصی توجہ حاصل ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شیخ محمد نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو حماس کے ممکنہ بڑے حملے سے خبردار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اطلاع اسرائیلی خفیہ اداروں یا فوج تک نہیں پہنچائی گئی۔
نیتن یاہو نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے مبینہ انتباہ کی تصدیق نہیں کی، تاہم اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے ذرائع برقرار ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی بعض رپورٹس میں اشارہ دیا گیا کہ 7 اکتوبر سے متعلق تنازع بھی ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات کے موضوعات میں شامل تھا، تاہم اماراتی حکومت کے سرکاری بیان میں اس معاملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ’معاہدۂ ابراہیم‘ Ibrahim Accordکے تحت باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس معاہدے نے عرب دنیا اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک نے اقتصادی اور سفارتی روابط کو فروغ دیا ہے، جبکہ سلامتی اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کے ذرائع بھی برقرار رکھے ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ اماراتی روابط پر اس کے امریکہ کے ساتھ وسیع تر تعلقات اور مسلسل عدم استحکام سے دوچار خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوششوں کے اثرات بھی نمایاں رہے ہیں۔
اب اصل سوال کی جانب آتے ہیں۔ ’وسیع تر اسرائیل‘ Greater Israelکی اصطلاح اسرائیل کے علاقائی عزائم سے متعلق مباحث میں ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ سیاسی اور مذہبی تناظر میں اس اصطلاح کے مختلف مفاہیم بیان کیے جاتے ہیں۔ بعض مواقع پر اسے علاقائی توسیع کے تصور سے جوڑا جاتا ہے، تاہم اس کی کوئی ایک متفقہ اور عالمی طور پر تسلیم شدہ تعریف موجود نہیں۔ اسرائیل کی سرحدوں، یہودی بستیوں اور طویل مدتی سیاسی مقاصد سے متعلق مباحث میں بھی یہ اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔
اگرچہ نیتن یاہو کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بذات خود کسی علاقائی توسیع کے منصوبے کا ثبوت نہیں، تاہم اس ملاقات نے اسرائیل کی علاقائی پالیسی کی سمت اور عرب ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے ممکنہ اثرات سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
بالآخر، اس دورے کی اہمیت محض ایک سفارتی ملاقات تک محدود نہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی حکومتوں کو درپیش پیچیدہ فیصلوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انہیں سلامتی کے خدشات، سیاسی دباؤ اور خطے کے مستقبل سے متعلق متضاد تصورات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔


