ایک رات، ایک آپریشن اور زندگی کا بڑا سبق

 

 

اظہر حاجنی
ٹیلی ویژن پریزنٹر، براڈکاسٹر اور کلچرل ایکٹیوسٹ

یہ 15 ستمبر کی ایک خوش گوار سہ پہر تھی جب میں سرینگر کے تاریخی ٹیگور ہال میں”انجینئرز ڈے” کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب کی نظامت (اینکرنگ) کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ہال تالیوں کی گونج اور مہمانوں کی موجودگی سے چہچہا رہا تھا کہ اچانک گھر سے ایک فون کال نے میرے قدم زمین پر جکڑ دیے۔ دوسری طرف سے اطلاع ملی کہ میرے کمسن فرزند کو شدید پیٹ درد کے ساتھ بخار کی شکایت ہے۔ اسکول میں دی گئی ابتدائی دوا سے کچھ دیر کے لئے افاقہ تو ہوا تھا، لیکن درد پھر سے لوٹ آیا تھا۔ تقریب کے دوران ہی میں نے اپنے قریبی دوست اور بچوں کے معروف معالج ڈاکٹر جاوید سے رابطہ کیا، جنہوں نے فون پر ہی کچھ ابتدائی ادویات تجویز کیں۔ تقریب ختم ہونے کے بعد میں دوائیں لے کر گھر پہنچا۔ شدید تھکن سے چور، میں نے سوچا کہ شاید بچہ Tution نہ جانے یا کسی اور بات پر بہانہ کر رہا ہے—جیسا کہ بچوں کی عام فطرت ہوتی ہے—مگر جب بخار کی تصدیق ہوئی تو میرا دل بیٹھ گیا۔

بچے کی تکلیف میں جب کوئی کمی نہ آئی تو میں نے اپنے قریبی دوست اور ماہر امراضِ اطفال پروفیسر ڈاکٹر ریاض ملک کو فون کیا۔ اس دن منگل کا روز تھا اور ان کا کلینک بند تھا، لیکن ایک شفیق ڈاکٹر اور سچے دوست کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف میرا فون سنا بلکہ گھر بیٹھے ہی فون پر بچے کا کلینیکل معائنہ کرنے کا طریقہ بتایا۔ جب میں نے ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بچے کا معائنہ کیا تو انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ معاملہ ‘اپینڈیسائٹس’ (Appendicitis) کا ہو سکتا ہے اور مشورہ دیا کہ فوراً بچوں کے ہسپتال کا رخ کیا جائے۔

گڑی گھڑی کا امتحان دیکھیے کہ عین اسی وقت میری اپنی گاڑی ایک رشتہ دار کی ضروری تقریب میں استعمال کے لئے گئی ہوئی تھی۔ اضطراب کے اس عالم میں ایک قریبی فیملی فرینڈ کو زحمت دی جو فوراً گاڑی لے کر پہنچے۔ یہاں ایک دل چسپ اور حیران کن موڑ یہ تھا کہ میرا وہ بچہ، جو عام طور پر عام بچوں کی طرح ڈاکٹر کے پاس جانے سے سخت کتراتا اور ڈرتا ہے، اس رات خود بار بار ضد کر رہا تھا کہ مجھے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔ شاید یہ اوپر والے کی کوئی خاص منشا تھی کہ اس معصوم کی ضد کے بہانے اسے بروقت شفاخانے تک پہنچا دیا گیا۔
جب ہم سرینگر کے اس جدید اور شاندار چلڈرن ہسپتال پہنچے، تو پہلی ہی نظر میں اس کی عالی شان اور دلکش عمارت دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ سرکار نے ہمارے بچوں کے لئے کتنی خوبصورت اور معیاری سہولت فراہم کی ہے—یہ بالکل کسی اعلیٰ درجے کے پرائیویٹ ہسپتال کا گمان دیتی ہے۔ ہسپتال پہنچتے ہی میں نے وہاں کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور اپنے دیرینہ دوست ڈاکٹر شیخ اسحاق سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر آر ایم او ڈاکٹر طارق کو متحرک کر دیا۔ ڈاکٹر طارق نے انتہائی کم وقت میں ہسپتال کے ایک ہونہار اور لائق ریڈیولوجسٹ سے میرے بچے کا الٹراسونوگرافی (USG) کروایا۔ جیسے ہی ریڈیولوجسٹ نے مشین بچے کے پیٹ پر رکھی، اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ معاملہ گمبھیر ہے۔ اس نے فوری طور پر بتایا کہ اپینڈیکس کافی سوج چکا ہے اور فوری سرجری ناگزیر ہے۔
یہ سنتے ہی ہمارے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ رات کے اوقات میں بڑے ہسپتالوں میں صرف جونیئر اسٹاف ہوتا ہے۔ لیکن میرا یہ وسوسہ اس وقت غلط ثابت ہوا جب ڈاکٹر طارق نے میری ملاقات ہسپتال میں موجود ایک نہایت ذہین، قابل اور بااعتماد سرجن ڈاکٹر شاہد بانڈے سے کروائی۔ ڈاکٹر شاہد نے نہ صرف تمام رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا بلکہ مجھے ذاتی طور پر وہ پختہ یقین دلایا جو ایک پریشان حال باپ کو اس وقت درکار ہوتا ہے:

> "آپ بے فکر رہیے، آپ کا بچہ اب بالکل سیف ہاتھوں میں ہے!”
مگر سرجری کے اس فیصلے سے قبل، دہلی میں مقیم میرے ایک اور عزیز دوست اور نامور ای این ٹی سرجن ڈاکٹر جمیل منظور شاہ سے فون پر رابطہ ہوا۔ ڈاکٹر جمیل اس پورے معاملے کو لے کر خاصے فکرمند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرجن کا انتہائی قابل ہونا ضروری ہے اور اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ آیا واقعی فی الفور سرجری کی ضرورت ہے یا سیکنڈ اوپینین کے لئے تھوڑا وقت لیا جا سکتا ہے—اور اس مقصد کے لئے اس وقت ایک سی ٹی اسکن (CT Scan) کی ضرورت تھی۔
یہی پر یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ اس 500 بستروں پر مشتمل اتنے بڑے اور شاندار ہسپتال میں جہاں علاج کا معیار اتنا بلند ہے، اگر ایک سی ٹی اسکن کی سہولت بھی دستیاب ہو جائے تو معاملات کتنے آسان ہو جائیں۔ آج کے اس جدید دور میں جہاں تشخیص علاج کا نصف حصہ ہے، اس اہم ترین چلڈرن ہسپتال میں سی ٹی اسکن جیسی بنیادی سہولت کا ہونا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہسپتال کے روایتی ایکس رے سیکشن کو بھی اگر جدید تقاضوں سے آراستہ کر دیا جائے تو یہ اس شاندار ادارے کے شایانِ شان ہوگا۔

خیر، سی ٹی اسکن کے بغیر ہی، اپنے ایک اور معتبر طبی دوست ڈاکٹر نوید نذیر سے صلاح مشورہ کرنے اور اللہ کی ذات پر توکل کرنے کے بعد سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔
جب آپریشن تھیٹر کے باہر جراحی کا عمل جاری تھا، تو وہ لمحے ہم میاں بیوی کے لئے کڑے امتحان کے تھے۔ سرجیکل ٹیم کے ایک فرد کی طرف سے کچھ ایسے خوفزدہ کرنے والے کلمات کہے گئے کہ بچے نے شام کو کچھ کھایا تھا، گلے میں پائپ ڈالنی ہے اور خطرات بہت زیادہ ہیں—یہ سنتے ہی میری شریکِ حیات بدحواس ہو کر زار و قطار رونے لگیں۔ وہ خوف اور پریشانی کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھیں کہ جانے ہمارے لختِ جگر پر کیا گزرے گی۔ انتظار کی وہ گھڑیاں ایک ایک لمحہ بھاری محسوس ہو رہی تھیں۔

اسی کشمکش میں، میں نے اپنے دوست ڈاکٹر طارق سے گزارش کی کہ اندر ذرا معلوم کریں کہ کیا صورتحال ہے۔ ڈاکٹر طارق نے جب اندر جراحی کے عمل سے متعلق دریافت کیا، تو معلوم ہوا کہ اللہ کا بڑا کرم رہا ہے—اور شاید بچے کی وہ ضد اور ہمارا بروقت ہسپتال پہنچنا اسی الٰہی منشا کا حصہ تھا کہ بچے کو کسی مزید بڑے خطرے میں مبتلا ہونے سے بچا لیا گیا۔ ڈاکٹرز نے بعد میں بتایا کہ اپینڈیکس کی حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ وہ بس پھٹنے کے قریب تھا اور اس کے اندر سے تقریباً 50 ملی لیٹر پیپ خارج ہوا! صورتحال کی اس نزاکت کو دیکھتے ہوئے سرجری کے بعد ڈاکٹرز نے ہمیں مبارکباد دی اور کہا کہ اگر تھوڑی سی بھی اور تاخیر ہو جاتی تو معاملہ بہت زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔
آج جب میرا بچہ اللہ کے فضل و کرم اور کامیاب لیپروسکوپک سرجری کے بعد بالکل صحت مند ہے، تو یہ واقعہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا سبق چھوڑ گیا ہے۔ اس واقعے نے ہمیں سکھایا کہ بچوں کے معاملے میں خود سے علاج کرنا (Self-medication)، یا بغیر کسی ماہر ڈاکٹر کے مشورے اور کلینیکل معائنے کے گھر پر ادویات دیتے رہنا کس قدر جان لیوا اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بیماری کی صحیح تشخیص اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی اصل بچاؤ ہے۔ لہٰذا، جب بھی بچے کو—بلکہ بڑوں کو بھی—کوئی ایسی تکلیف ہو، تو کبھی غفلت نہ برتیں اور فوری طور پر قریبی شفاخانے یا ماہر ڈاکٹر کے کلینک کا رخ کریں۔
اس پورے سفر میں جس محبت، پیشہ ورانہ مہارت اور خلوص کے ساتھ میرے بچے کی دیکھ بھال کی گئی، اس کے لئے میں ہسپتال کے ہر فرد—تمام ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف، صفائی کارکنوں سے لے کر بڑے سے بڑے ایڈمنسٹریٹر اور معالج—کا تہہ دل سے اور تاحیات مشکور ہوں۔ یہ ہسپتال اور یہاں کا عملہ واقعی اس بات کا مستحق ہے کہ ان کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہا جائے۔

حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں جو شاندار انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ سرینگر کا یہ چلڈرن ہسپتال، جو پیر پنجال سے لے کر کپوارہ اور کیرن تک کے دور دراز علاقوں کے بچوں کے لئے ایک شفا کا مرکز ہے، اپنی مثال آپ ہے۔ اس وقت جب جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں سیشن جاری ہے، بطور ایک شہری اور میڈیا سے وابستہ فرد ہونے کے ناطے، یہ ایک مخلصانہ تجویز ہے کہ ہمارے لائق اور باصلاحیت اراکینِ اسمبلی بھی اس نکتے پر توجہ دیں۔ اگر اس ہسپتال میں سی ٹی اسکن اور جدید تشخیصی آلات کی دستیابی کو یقینی بنا دیا جائے،

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایک رات، ایک آپریشن اور زندگی کا بڑا سبق

 

 

اظہر حاجنی
ٹیلی ویژن پریزنٹر، براڈکاسٹر اور کلچرل ایکٹیوسٹ

یہ 15 ستمبر کی ایک خوش گوار سہ پہر تھی جب میں سرینگر کے تاریخی ٹیگور ہال میں”انجینئرز ڈے” کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب کی نظامت (اینکرنگ) کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ہال تالیوں کی گونج اور مہمانوں کی موجودگی سے چہچہا رہا تھا کہ اچانک گھر سے ایک فون کال نے میرے قدم زمین پر جکڑ دیے۔ دوسری طرف سے اطلاع ملی کہ میرے کمسن فرزند کو شدید پیٹ درد کے ساتھ بخار کی شکایت ہے۔ اسکول میں دی گئی ابتدائی دوا سے کچھ دیر کے لئے افاقہ تو ہوا تھا، لیکن درد پھر سے لوٹ آیا تھا۔ تقریب کے دوران ہی میں نے اپنے قریبی دوست اور بچوں کے معروف معالج ڈاکٹر جاوید سے رابطہ کیا، جنہوں نے فون پر ہی کچھ ابتدائی ادویات تجویز کیں۔ تقریب ختم ہونے کے بعد میں دوائیں لے کر گھر پہنچا۔ شدید تھکن سے چور، میں نے سوچا کہ شاید بچہ Tution نہ جانے یا کسی اور بات پر بہانہ کر رہا ہے—جیسا کہ بچوں کی عام فطرت ہوتی ہے—مگر جب بخار کی تصدیق ہوئی تو میرا دل بیٹھ گیا۔

بچے کی تکلیف میں جب کوئی کمی نہ آئی تو میں نے اپنے قریبی دوست اور ماہر امراضِ اطفال پروفیسر ڈاکٹر ریاض ملک کو فون کیا۔ اس دن منگل کا روز تھا اور ان کا کلینک بند تھا، لیکن ایک شفیق ڈاکٹر اور سچے دوست کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف میرا فون سنا بلکہ گھر بیٹھے ہی فون پر بچے کا کلینیکل معائنہ کرنے کا طریقہ بتایا۔ جب میں نے ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بچے کا معائنہ کیا تو انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ معاملہ ‘اپینڈیسائٹس’ (Appendicitis) کا ہو سکتا ہے اور مشورہ دیا کہ فوراً بچوں کے ہسپتال کا رخ کیا جائے۔

گڑی گھڑی کا امتحان دیکھیے کہ عین اسی وقت میری اپنی گاڑی ایک رشتہ دار کی ضروری تقریب میں استعمال کے لئے گئی ہوئی تھی۔ اضطراب کے اس عالم میں ایک قریبی فیملی فرینڈ کو زحمت دی جو فوراً گاڑی لے کر پہنچے۔ یہاں ایک دل چسپ اور حیران کن موڑ یہ تھا کہ میرا وہ بچہ، جو عام طور پر عام بچوں کی طرح ڈاکٹر کے پاس جانے سے سخت کتراتا اور ڈرتا ہے، اس رات خود بار بار ضد کر رہا تھا کہ مجھے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔ شاید یہ اوپر والے کی کوئی خاص منشا تھی کہ اس معصوم کی ضد کے بہانے اسے بروقت شفاخانے تک پہنچا دیا گیا۔
جب ہم سرینگر کے اس جدید اور شاندار چلڈرن ہسپتال پہنچے، تو پہلی ہی نظر میں اس کی عالی شان اور دلکش عمارت دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ سرکار نے ہمارے بچوں کے لئے کتنی خوبصورت اور معیاری سہولت فراہم کی ہے—یہ بالکل کسی اعلیٰ درجے کے پرائیویٹ ہسپتال کا گمان دیتی ہے۔ ہسپتال پہنچتے ہی میں نے وہاں کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور اپنے دیرینہ دوست ڈاکٹر شیخ اسحاق سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر آر ایم او ڈاکٹر طارق کو متحرک کر دیا۔ ڈاکٹر طارق نے انتہائی کم وقت میں ہسپتال کے ایک ہونہار اور لائق ریڈیولوجسٹ سے میرے بچے کا الٹراسونوگرافی (USG) کروایا۔ جیسے ہی ریڈیولوجسٹ نے مشین بچے کے پیٹ پر رکھی، اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ معاملہ گمبھیر ہے۔ اس نے فوری طور پر بتایا کہ اپینڈیکس کافی سوج چکا ہے اور فوری سرجری ناگزیر ہے۔
یہ سنتے ہی ہمارے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ رات کے اوقات میں بڑے ہسپتالوں میں صرف جونیئر اسٹاف ہوتا ہے۔ لیکن میرا یہ وسوسہ اس وقت غلط ثابت ہوا جب ڈاکٹر طارق نے میری ملاقات ہسپتال میں موجود ایک نہایت ذہین، قابل اور بااعتماد سرجن ڈاکٹر شاہد بانڈے سے کروائی۔ ڈاکٹر شاہد نے نہ صرف تمام رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا بلکہ مجھے ذاتی طور پر وہ پختہ یقین دلایا جو ایک پریشان حال باپ کو اس وقت درکار ہوتا ہے:

> "آپ بے فکر رہیے، آپ کا بچہ اب بالکل سیف ہاتھوں میں ہے!”
مگر سرجری کے اس فیصلے سے قبل، دہلی میں مقیم میرے ایک اور عزیز دوست اور نامور ای این ٹی سرجن ڈاکٹر جمیل منظور شاہ سے فون پر رابطہ ہوا۔ ڈاکٹر جمیل اس پورے معاملے کو لے کر خاصے فکرمند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرجن کا انتہائی قابل ہونا ضروری ہے اور اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ آیا واقعی فی الفور سرجری کی ضرورت ہے یا سیکنڈ اوپینین کے لئے تھوڑا وقت لیا جا سکتا ہے—اور اس مقصد کے لئے اس وقت ایک سی ٹی اسکن (CT Scan) کی ضرورت تھی۔
یہی پر یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ اس 500 بستروں پر مشتمل اتنے بڑے اور شاندار ہسپتال میں جہاں علاج کا معیار اتنا بلند ہے، اگر ایک سی ٹی اسکن کی سہولت بھی دستیاب ہو جائے تو معاملات کتنے آسان ہو جائیں۔ آج کے اس جدید دور میں جہاں تشخیص علاج کا نصف حصہ ہے، اس اہم ترین چلڈرن ہسپتال میں سی ٹی اسکن جیسی بنیادی سہولت کا ہونا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہسپتال کے روایتی ایکس رے سیکشن کو بھی اگر جدید تقاضوں سے آراستہ کر دیا جائے تو یہ اس شاندار ادارے کے شایانِ شان ہوگا۔

خیر، سی ٹی اسکن کے بغیر ہی، اپنے ایک اور معتبر طبی دوست ڈاکٹر نوید نذیر سے صلاح مشورہ کرنے اور اللہ کی ذات پر توکل کرنے کے بعد سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔
جب آپریشن تھیٹر کے باہر جراحی کا عمل جاری تھا، تو وہ لمحے ہم میاں بیوی کے لئے کڑے امتحان کے تھے۔ سرجیکل ٹیم کے ایک فرد کی طرف سے کچھ ایسے خوفزدہ کرنے والے کلمات کہے گئے کہ بچے نے شام کو کچھ کھایا تھا، گلے میں پائپ ڈالنی ہے اور خطرات بہت زیادہ ہیں—یہ سنتے ہی میری شریکِ حیات بدحواس ہو کر زار و قطار رونے لگیں۔ وہ خوف اور پریشانی کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھیں کہ جانے ہمارے لختِ جگر پر کیا گزرے گی۔ انتظار کی وہ گھڑیاں ایک ایک لمحہ بھاری محسوس ہو رہی تھیں۔

اسی کشمکش میں، میں نے اپنے دوست ڈاکٹر طارق سے گزارش کی کہ اندر ذرا معلوم کریں کہ کیا صورتحال ہے۔ ڈاکٹر طارق نے جب اندر جراحی کے عمل سے متعلق دریافت کیا، تو معلوم ہوا کہ اللہ کا بڑا کرم رہا ہے—اور شاید بچے کی وہ ضد اور ہمارا بروقت ہسپتال پہنچنا اسی الٰہی منشا کا حصہ تھا کہ بچے کو کسی مزید بڑے خطرے میں مبتلا ہونے سے بچا لیا گیا۔ ڈاکٹرز نے بعد میں بتایا کہ اپینڈیکس کی حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ وہ بس پھٹنے کے قریب تھا اور اس کے اندر سے تقریباً 50 ملی لیٹر پیپ خارج ہوا! صورتحال کی اس نزاکت کو دیکھتے ہوئے سرجری کے بعد ڈاکٹرز نے ہمیں مبارکباد دی اور کہا کہ اگر تھوڑی سی بھی اور تاخیر ہو جاتی تو معاملہ بہت زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔
آج جب میرا بچہ اللہ کے فضل و کرم اور کامیاب لیپروسکوپک سرجری کے بعد بالکل صحت مند ہے، تو یہ واقعہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا سبق چھوڑ گیا ہے۔ اس واقعے نے ہمیں سکھایا کہ بچوں کے معاملے میں خود سے علاج کرنا (Self-medication)، یا بغیر کسی ماہر ڈاکٹر کے مشورے اور کلینیکل معائنے کے گھر پر ادویات دیتے رہنا کس قدر جان لیوا اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بیماری کی صحیح تشخیص اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی اصل بچاؤ ہے۔ لہٰذا، جب بھی بچے کو—بلکہ بڑوں کو بھی—کوئی ایسی تکلیف ہو، تو کبھی غفلت نہ برتیں اور فوری طور پر قریبی شفاخانے یا ماہر ڈاکٹر کے کلینک کا رخ کریں۔
اس پورے سفر میں جس محبت، پیشہ ورانہ مہارت اور خلوص کے ساتھ میرے بچے کی دیکھ بھال کی گئی، اس کے لئے میں ہسپتال کے ہر فرد—تمام ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف، صفائی کارکنوں سے لے کر بڑے سے بڑے ایڈمنسٹریٹر اور معالج—کا تہہ دل سے اور تاحیات مشکور ہوں۔ یہ ہسپتال اور یہاں کا عملہ واقعی اس بات کا مستحق ہے کہ ان کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہا جائے۔

حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں جو شاندار انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ سرینگر کا یہ چلڈرن ہسپتال، جو پیر پنجال سے لے کر کپوارہ اور کیرن تک کے دور دراز علاقوں کے بچوں کے لئے ایک شفا کا مرکز ہے، اپنی مثال آپ ہے۔ اس وقت جب جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں سیشن جاری ہے، بطور ایک شہری اور میڈیا سے وابستہ فرد ہونے کے ناطے، یہ ایک مخلصانہ تجویز ہے کہ ہمارے لائق اور باصلاحیت اراکینِ اسمبلی بھی اس نکتے پر توجہ دیں۔ اگر اس ہسپتال میں سی ٹی اسکن اور جدید تشخیصی آلات کی دستیابی کو یقینی بنا دیا جائے،

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں