جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر، 28 ستمبر 2026 کو بی جے پی ارکان کے شدید احتجاج کے باوجود مکمل ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کر لی۔ 90 رکنی ایوان میں تقریباً 60 ارکان نے اس کی حمایت کی، جبکہ کانگریس اور پی ڈی پی نے بھی قرارداد کا ساتھ دیا۔
بی جے پی ارکان نے 2000 میں منظور شدہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ دوسری جانب، قانون سکریٹری اور چیف سکریٹری کی جانب سے مبینہ مخالفت نے بھی اسمبلی کی کارروائی کو متنازع بنا دیا۔
تاہم، اس سیاسی شور شرابے کے درمیان ایک اہم سوال ابھر کر سامنے آیا ہے: کیا منتخب نمائندوں کی آواز کو وہی اہمیت دی جائے گی جس کی جمہوری نظام میں توقع کی جاتی ہے؟
ریاستی درجے کی بحالی محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ عوام کے جمہوری حقوق، منتخب حکومت کے اختیارات اور انتظامی جواب دہی سے جڑا معاملہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، لیکن عوامی خواہشات کی ترجمانی کرنے والی قراردادوں کو محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نظرانداز کرنا جمہوری اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی 2000 میں خودمختاری اور نومبر 2024 میں ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تازہ قرارداد کو بھی وہی حشر دیکھنا پڑے گا یا اس بار اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
جمہوریت کا اصل امتحان قرارداد منظور کرنے میں نہیں، بلکہ منتخب ایوان کی آواز کا احترام کرنے میں ہے۔ اب گیند مرکز کی کورٹ میں ہے، جہاں سے آنے والا ردعمل جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔


