دو برسوں کے دوران JKPSC اور JKSSB نے ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں سے درخواستوں اور امتحانی فیس کی مد میں 82 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے۔ یہ محض سرکاری آمدنی کا معاملہ نہیں، بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کی جدوجہد، خاندانی قربانیوں اور ٹوٹتی بنتی امیدوں کی داستان ہے جو برسوں سے ایک باعزت روزگار کے منتظر ہیں۔
کشمیر کا تعلیم یافتہ نوجوان پہلے ہی بے روزگاری، معاشی دباؤ اور غیر یقینی مستقبل سے نبردآزما ہے۔ والدین اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم اور مسابقتی امتحانات کی تیاری پر صرف کرتے ہیں، مگر بھرتیوں میں تاخیر، امتحانات کی منسوخی اور بار بار درخواستیں جمع کرانے کی مجبوری ان کے حوصلوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
ایک امیدوار کے لئے امتحانی فیس شاید معمولی رقم ہو، لیکن ہزاروں امیدواروں کے لئے یہ ایک بھاری مالی بوجھ بن جاتی ہے، خصوصاً ان خاندانوں کے لئے جن کی آمدنی محدود ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نوجوان اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لئے مسلسل فیس ادا کر رہے ہیں تو کیا نظام ان کے وقت، محنت اور مالی قربانیوں کا مناسب صلہ دے رہا ہے؟
حکومت اور متعلقہ بھرتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ تقرریوں کا عمل شفاف، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد بنائیں۔ امتحانات کے انعقاد اور نتائج کے اعلان کے لئے واضح نظام وضع کیا جائے، غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور مستحق امیدواروں کو فیس میں مناسب رعایت فراہم کی جائے۔
روزگار کے مواقع پیدا کرنا محض انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل اور سماجی استحکام سے جڑا معاملہ ہے۔ سرکاری ملازمتوں کی محدود گنجائش کے پیش نظر نجی شعبے، ہنرمندی اور خود روزگار کے مواقع کو بھی فروغ دینا ناگزیر ہے۔
نوجوانوں کی امیدوں کو آمدنی کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں ایسا نظام فراہم کیا جانا چاہیے جہاں محنت کا صلہ روزگار، انتظار کا اختتام تقرری اور تعلیم کا حاصل ایک باوقار مستقبل ہو۔ آخر کسی نسل کو اپنے مستقبل کی امید زندہ رکھنے کے لئے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
زززز


