اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس محض ایک سالانہ سفارتی اجتماع نہیں، بلکہ ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی امن، بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے لئے یہ آخری اجلاس ہے، جن کا دور کار جنگوں، وباؤں، موسمیاتی آفات اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے اثرات کے درمیان گزرا۔
1945 میں عالمی جنگوں کی روک تھام اور امن کے قیام کے مقصد سے قائم ہونے والا یہ ادارہ آج اپنی تاریخ کے ایک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ 2025 میں 35 ممالک میں 65 سے زائد مسلح تنازعات کا ریکارڈ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی امن کو لاحق خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ طاقتور ممالک کی یک طرفہ کارروائیاں، جوہری دھمکیاں، اقتصادی پابندیاں اور بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں اقوام متحدہ کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ بھی اصلاحات کا متقاضی ہے، کیونکہ اس کی مستقل رکنیت اور ویٹو کا اختیار آج کی عالمی سیاسی حقیقتوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی یوکرین، غزہ اور خلیج فارس کے تنازعات کے حل کے لئے کوئی مشترکہ لائحۂ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ عالمی رہنماؤں کی تقاریر میں الزام تراشی اور باہمی اختلافات نمایاں رہے، جبکہ عام شہری جنگوں اور انسانی بحرانوں کی قیمت ادا کرتے رہے۔ایسے ماحول میں اقوام متحدہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسے محض قراردادیں منظور کرنے والے ادارے کے بجائے ایسا مؤثر پلیٹ فارم بننا ہوگا جو عالمی تنازعات کے حل، انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے میں عملی کردار ادا کرے۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی عالمی تعاون کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ٹیکنالوجی جہاں ترقی کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، وہیں نگرانی، غلط معلومات اور عدم مساوات جیسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک کی مساوی شرکت ضروری ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت اور نئے سکریٹری جنرل کے انتخاب کا عمل جنوبی ایشیا کے لئے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ نئے سربراہ کو ایک ایسے ادارے کی قیادت سنبھالنی ہوگی جو مالی مشکلات، سیاسی اختلافات اور اعتماد کے بحران سے دوچار ہے۔
81 برس کی عمر میں اقوام متحدہ غیر متعلق نہیں ہوا، بلکہ اسے نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی اصل کمزوری اصولوں کی کمی نہیں، بلکہ طاقتور ممالک کی جانب سے ان اصولوں پر غیر مستقل عمل درآمد ہے۔آج دنیا کو کم نہیں بلکہ زیادہ مؤثر کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی بقا اور افادیت اسی میں ہے کہ اسے زیادہ نمائندہ، جواب دہ اور عملی طور پر مؤثر بنایا جائے، تاکہ عالمی وعدے محض تقاریر تک محدود نہ رہیں بلکہ امن، انصاف اور انسانی تحفظ کی صورت میں سامنے آئیں۔


