مریضوں کی مجبوری سے منافع خوری

بھارت میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی خریداری کے نرخوں کے درمیان غیر معمولی فرق نے صحت عامہ کے نظام میں موجود ایک سنگین خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بعض ادویات، بالخصوص سرطان کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں کی قیمتِ خرید (PTR) اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) کے درمیان 1000 فیصد تک کے فرق پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

اس کاروباری طریقۂ کار میں دوا ساز کمپنیاں اسپتالوں کو کم قیمت پر ادویات فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کی خوردہ قیمت غیر معمولی طور پر زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔ اسپتال اس فرق سے بھاری منافع حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو ایسی ادویات کے لئے بھی زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے جو اسپتالوں کو کہیں کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب نجی اسپتال مریضوں کو اپنی ہی فارمیسی سے ادویات خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح مریضوں کے پاس قیمتوں کا موازنہ کرنے یا سستی متبادل ادویات حاصل کرنے کا موقع نہیں رہتا۔ نتیجتاً کم قیمت اور یکساں مؤثر ادویات محض اس لئے نظرانداز ہو جاتی ہیں کہ ان سے اسپتالوں کو کم منافع حاصل ہوتا ہے۔ سرطان اور دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، کیونکہ طویل علاج کے اخراجات پہلے ہی خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔ ادویات کی غیر ضروری مہنگائی مریضوں کو علاج ادھورا چھوڑنے یا دواؤں کا استعمال محدود کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اس مسئلے کی بنیادی وجہ Drug (Prices Control) Order, 2013 میں موجود ضابطہ جاتی خلا ہے، جو مقررہ ادویات کی آخری قیمت تو محدود کرتا ہے، لیکن اسپتالوں کے تجارتی منافع پر مؤثر پابندی عائد نہیں کرتا۔ نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (NPPA) کی 2019 کی ایک آزمائشی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ منافع کی حد مقرر کرنے سے قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ اس دوران 42 غیر مقررہ سرطان مخالف ادویات کے تجارتی منافع پر 30 فیصد کی حد عائد کی گئی، جس کے بعد 526 برانڈز کی قیمتوں میں 91 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ادویات پر یکساں شرح سے منافع مقرر کرنے کی تجویز ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم مہنگی ادویات پر نسبتاً کم منافع کی شرح نافذ کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ اسپتالوں کو زیادہ قیمت والی دوائیں ترجیح دینے کی ترغیب نہ ملے۔ حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی خرید و فروخت میں شفافیت یقینی بنائے، غیر ضروری منافع خوری پر قابو پائے اور مریضوں کو سستی متبادل ادویات کے انتخاب کا حق فراہم کرے۔

ادویات محض تجارتی اشیا نہیں بلکہ انسانی زندگی بچانے کا ذریعہ ہیں۔ کسی مریض کی بیماری اور مجبوری کو منافع کمانے کا وسیلہ بننے سے روکنا حکومت، اسپتالوں اور دوا ساز کمپنیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صحت کے شعبے میں منافع کی گنجائش ضرور ہونی چاہیے، مگر انسانی زندگی کی قیمت پر نہیں۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

تازہ ترین خبریں

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

مریضوں کی مجبوری سے منافع خوری

بھارت میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی خریداری کے نرخوں کے درمیان غیر معمولی فرق نے صحت عامہ کے نظام میں موجود ایک سنگین خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بعض ادویات، بالخصوص سرطان کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں کی قیمتِ خرید (PTR) اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) کے درمیان 1000 فیصد تک کے فرق پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

اس کاروباری طریقۂ کار میں دوا ساز کمپنیاں اسپتالوں کو کم قیمت پر ادویات فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کی خوردہ قیمت غیر معمولی طور پر زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔ اسپتال اس فرق سے بھاری منافع حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو ایسی ادویات کے لئے بھی زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے جو اسپتالوں کو کہیں کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب نجی اسپتال مریضوں کو اپنی ہی فارمیسی سے ادویات خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح مریضوں کے پاس قیمتوں کا موازنہ کرنے یا سستی متبادل ادویات حاصل کرنے کا موقع نہیں رہتا۔ نتیجتاً کم قیمت اور یکساں مؤثر ادویات محض اس لئے نظرانداز ہو جاتی ہیں کہ ان سے اسپتالوں کو کم منافع حاصل ہوتا ہے۔ سرطان اور دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، کیونکہ طویل علاج کے اخراجات پہلے ہی خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔ ادویات کی غیر ضروری مہنگائی مریضوں کو علاج ادھورا چھوڑنے یا دواؤں کا استعمال محدود کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اس مسئلے کی بنیادی وجہ Drug (Prices Control) Order, 2013 میں موجود ضابطہ جاتی خلا ہے، جو مقررہ ادویات کی آخری قیمت تو محدود کرتا ہے، لیکن اسپتالوں کے تجارتی منافع پر مؤثر پابندی عائد نہیں کرتا۔ نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (NPPA) کی 2019 کی ایک آزمائشی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ منافع کی حد مقرر کرنے سے قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ اس دوران 42 غیر مقررہ سرطان مخالف ادویات کے تجارتی منافع پر 30 فیصد کی حد عائد کی گئی، جس کے بعد 526 برانڈز کی قیمتوں میں 91 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ادویات پر یکساں شرح سے منافع مقرر کرنے کی تجویز ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم مہنگی ادویات پر نسبتاً کم منافع کی شرح نافذ کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ اسپتالوں کو زیادہ قیمت والی دوائیں ترجیح دینے کی ترغیب نہ ملے۔ حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی خرید و فروخت میں شفافیت یقینی بنائے، غیر ضروری منافع خوری پر قابو پائے اور مریضوں کو سستی متبادل ادویات کے انتخاب کا حق فراہم کرے۔

ادویات محض تجارتی اشیا نہیں بلکہ انسانی زندگی بچانے کا ذریعہ ہیں۔ کسی مریض کی بیماری اور مجبوری کو منافع کمانے کا وسیلہ بننے سے روکنا حکومت، اسپتالوں اور دوا ساز کمپنیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صحت کے شعبے میں منافع کی گنجائش ضرور ہونی چاہیے، مگر انسانی زندگی کی قیمت پر نہیں۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں