ایران سے” خطرات” کی آڑ میں اقتصادی تعاون کی خواہش نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (UAE) کو ستمبر 2020 میں ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات محدود عوامی رابطوں اور پسِ پردہ سفارت کاری تک محدود رہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا ابوظہبی کا حالیہ دورہ خطے میں بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور متحدہ عرب امارات و سعودی عرب اپنے کشیدہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مسابقت اور یمن و سوڈان کی خانہ جنگیوں میں مختلف کرداروں نے حالیہ مہینوں میں اختلافات کو بڑھایا تھا۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں، بالخصوص متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے امریکی دفاعی سرپرستی پر مکمل انحصار کی حدود بھی واضح کر دی ہیں۔ اسی تناظر میں ابوظہبی نے اسرائیل سے فضائی دفاعی نظام اور ڈرون مخالف ٹیکنالوجی حاصل کی، جبکہ اسرائیل کے لئے خلیج میں ایک مضبوط عرب شراکت دار تزویراتی اور سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم، اس بڑھتے تعاون کے ساتھ کئی تضادات بھی موجود ہیں۔ اسرائیل متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی سازوسامان فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس سے لبنان اور شام جیسے ممالک میں جاری تنازعات ختم نہیں ہوں گے، جن میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا بھی کردار رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابراہیمی معاہدے فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع عرب عوام کی رائے پر مسلسل اثرانداز ہو رہی ہے۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں مضبوطی ایک نئی علاقائی حقیقت ضرور ہے، لیکن پائیدار امن محض دفاعی معاہدوں اور اقتصادی شراکت داری سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک فلسطین کے مسئلے اور خطے کے بنیادی تنازعات کا سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاتا، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور سلامتی کی کوششیں نامکمل رہیں گی۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی قربت
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی قربت
ایران سے” خطرات” کی آڑ میں اقتصادی تعاون کی خواہش نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (UAE) کو ستمبر 2020 میں ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات محدود عوامی رابطوں اور پسِ پردہ سفارت کاری تک محدود رہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا ابوظہبی کا حالیہ دورہ خطے میں بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور متحدہ عرب امارات و سعودی عرب اپنے کشیدہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مسابقت اور یمن و سوڈان کی خانہ جنگیوں میں مختلف کرداروں نے حالیہ مہینوں میں اختلافات کو بڑھایا تھا۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں، بالخصوص متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے امریکی دفاعی سرپرستی پر مکمل انحصار کی حدود بھی واضح کر دی ہیں۔ اسی تناظر میں ابوظہبی نے اسرائیل سے فضائی دفاعی نظام اور ڈرون مخالف ٹیکنالوجی حاصل کی، جبکہ اسرائیل کے لئے خلیج میں ایک مضبوط عرب شراکت دار تزویراتی اور سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم، اس بڑھتے تعاون کے ساتھ کئی تضادات بھی موجود ہیں۔ اسرائیل متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی سازوسامان فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس سے لبنان اور شام جیسے ممالک میں جاری تنازعات ختم نہیں ہوں گے، جن میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا بھی کردار رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابراہیمی معاہدے فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع عرب عوام کی رائے پر مسلسل اثرانداز ہو رہی ہے۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں مضبوطی ایک نئی علاقائی حقیقت ضرور ہے، لیکن پائیدار امن محض دفاعی معاہدوں اور اقتصادی شراکت داری سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک فلسطین کے مسئلے اور خطے کے بنیادی تنازعات کا سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاتا، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور سلامتی کی کوششیں نامکمل رہیں گی۔


