جموں و کشمیر کو ایک مکمل ریاست سے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانا ایک غیر معمولی اور غیر صحت مند اقدام تھا۔ نظریاتی اختلافات سے قطع نظر، اس فیصلے نے وفاقی ڈھانچے، جمہوری نمائندگی اور عوامی اختیارات سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
بلاشبہ جموں و کشمیر نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بدترین حالات کا سامنا کیا۔ عسکریت پسندی، تشدد اور انسانی جانوں کے اتلاف نے یہاں کے سماجی اور سیاسی ماحول کو بری طرح متاثر کیا۔ تاہم، 2024 کے اسمبلی انتخابات نے ایک نئی امید پیدا کی۔ بائیکاٹ کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے عوام نے88.63 فیصد ووٹنگ میں حصہ لیا۔ یہ گزشتہ تین دہائیوں میں ایک پُرامن ترین انتخاب تھا، جس کے دوران ایک بھی گولی نہیں چلی۔
عوام کی اس جمہوری وابستگی کا جواب منتخب اسمبلی کو بااختیار بنا کر دیا جانا چاہیے تھا۔ ووٹ ڈالنے کا مقصد محض نمائندوں کا انتخاب نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جو عوامی مسائل کے حل کے لئے مؤثر اختیارات رکھتی ہو۔
ریاستی حیثیت کی بحالی اسی سمت میں پہلا اور اہم قدم ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کا احترام کرتے ہوئے اس عمل کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل کیا جانا چاہیے۔ ریاستی حیثیت محض انتظامی درجہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد، جمہوری وقار اور وفاقی اصولوں سے وابستگی کی علامت ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان اختلافات کے حل کے لئے سڑکوں کے بجائے ایک بااختیار اسمبلی کو مکالمے کا مرکز بنایا جائے۔ مضبوط جمہوری ادارے ہی عوامی شکایات اور سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں حل کرنے کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کو عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے سے مشروط کرنا بھی کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ عمر عبداللہ نے اشارہ کیا ہے، ایسا کرنا بالواسطہ طور پر پاکستان اور اس کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کو جموں و کشمیر کے آئینی مستقبل پر اثرانداز ہونے کا موقع دینے کے مترادف ہوگا۔
جموں و کشمیر کے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے محض امن و امان کافی نہیں، بلکہ جمہوری حقوق، بااختیار اداروں اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی ضروری ہے۔ 2024 کے انتخابات نے ایک نئی شروعات کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عوامی اعتماد کا احترام کرتے ہوئے ریاستی حیثیت بحال کرے اور جموں و کشمیر کو ملک کے وفاقی اور جمہوری نظام میں اس کا جائز مقام واپس دے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی میں مزید تاخیر
ریاستی حیثیت کی بحالی میں مزید تاخیر
جموں و کشمیر کو ایک مکمل ریاست سے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانا ایک غیر معمولی اور غیر صحت مند اقدام تھا۔ نظریاتی اختلافات سے قطع نظر، اس فیصلے نے وفاقی ڈھانچے، جمہوری نمائندگی اور عوامی اختیارات سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
بلاشبہ جموں و کشمیر نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بدترین حالات کا سامنا کیا۔ عسکریت پسندی، تشدد اور انسانی جانوں کے اتلاف نے یہاں کے سماجی اور سیاسی ماحول کو بری طرح متاثر کیا۔ تاہم، 2024 کے اسمبلی انتخابات نے ایک نئی امید پیدا کی۔ بائیکاٹ کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے عوام نے88.63 فیصد ووٹنگ میں حصہ لیا۔ یہ گزشتہ تین دہائیوں میں ایک پُرامن ترین انتخاب تھا، جس کے دوران ایک بھی گولی نہیں چلی۔
عوام کی اس جمہوری وابستگی کا جواب منتخب اسمبلی کو بااختیار بنا کر دیا جانا چاہیے تھا۔ ووٹ ڈالنے کا مقصد محض نمائندوں کا انتخاب نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جو عوامی مسائل کے حل کے لئے مؤثر اختیارات رکھتی ہو۔
ریاستی حیثیت کی بحالی اسی سمت میں پہلا اور اہم قدم ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کا احترام کرتے ہوئے اس عمل کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل کیا جانا چاہیے۔ ریاستی حیثیت محض انتظامی درجہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد، جمہوری وقار اور وفاقی اصولوں سے وابستگی کی علامت ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان اختلافات کے حل کے لئے سڑکوں کے بجائے ایک بااختیار اسمبلی کو مکالمے کا مرکز بنایا جائے۔ مضبوط جمہوری ادارے ہی عوامی شکایات اور سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں حل کرنے کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کو عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے سے مشروط کرنا بھی کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ عمر عبداللہ نے اشارہ کیا ہے، ایسا کرنا بالواسطہ طور پر پاکستان اور اس کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کو جموں و کشمیر کے آئینی مستقبل پر اثرانداز ہونے کا موقع دینے کے مترادف ہوگا۔
جموں و کشمیر کے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے محض امن و امان کافی نہیں، بلکہ جمہوری حقوق، بااختیار اداروں اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی ضروری ہے۔ 2024 کے انتخابات نے ایک نئی شروعات کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عوامی اعتماد کا احترام کرتے ہوئے ریاستی حیثیت بحال کرے اور جموں و کشمیر کو ملک کے وفاقی اور جمہوری نظام میں اس کا جائز مقام واپس دے۔


