جنگ نیوز
سرینگر، 5 اکتوبر: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کسی بھی تنظیم کی کامیابی کی بنیاد داخلی نظم و ضبط، آئین اور قواعد کی پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’نیا کشمیر منشور‘‘، پارٹی کا ایجنڈا اور آئین تنظیم کے اہم اثاثے ہیں اور ہر کارکن پر ان کی پاسداری لازم ہے۔
وہ نوائے صبح کمپلیکس میں سرینگر ضلعی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں پارٹی جنرل سیکریٹری حاجی علی محمد ساگر، صوبائی صدر شوکت احمد میر، چیف ترجمان و ایم ایل اے زڈی بل تنویـر صادق، ایم ایل اے عیدگاہ حاجی مبارک گل، ایم ایل اے حبہ کدل شمیمہ فردوس، ایم ایل اے چنہ پورہ مشتاق گورو، ایم ایل اے حضرت بل سلمان علی ساگر، ایم ایل اے لال چوک احسن پردیسی، وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر مدثر شاہمیری، اقلیتی سیل کنوینر جگدیش سنگھ آزاد، ویمنز ونگ کی صوبائی صدر انجینئر صابیہ قادری، YNC کے صوبائی صدر مشتاق میر اور تمام بلاک صدور شریک تھے۔ اجلاس کا اہتمام ضلعی صدر پیر آفاق احمد نے کیا۔
اجلاس میں پارٹی سرگرمیوں، تنظیمی پروگراموں، عوامی مسائل، ترقیاتی کاموں اور تنظیم کو نچلی سطح پر مزید فعال بنانے پر غور کیا گیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی آئین کے مطابق ذمہ داریاں ادا کریں اور عوام سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ انہوں نے شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے اصول ’’عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں اور اقتدار عوام کا حق ہے‘‘ کو سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے نوجوان نسل کو کشمیر کی تاریخ اور ماضی میں عوام کو درپیش ظلم، جبر، استحصال، غربت اور محرومی سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ عوامی خدمت نیشنل کانفرنس کی سیاست کا بنیادی مقصد ہے اور کارکن مشکلات کے وقت عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے مسائل متعلقہ فورم پر اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نیشنل کانفرنس حکومت محدود اختیارات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے اور ترقیاتی عمل آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔


