معلومات کے سیلاب میں صحافت ہی اعتبار کی ضمانت

 

 

انوراگ بترا

عالمی یومِ خبر کے موقع پر اس حقیقت کا اعادہ ضروری ہے کہ مختلف تکنیکی انقلابات کے باوجود صحافت آج بھی زندہ ہے اور معاشرے میں اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اب مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد کے ساتھ بارہا صحافت کے خاتمے کی پیش گوئیاں کی گئیں، لیکن ہر بار اس نے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال کر اپنی بقا ثابت کی۔
ہندوستانی صحافت اس استقامت کی نمایاں مثال ہے، جہاں تحقیقاتی رپورٹنگ، حقائق کی چھان بین اور صحافیوں کی روزمرہ محنت عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسی کہانیاں بھی منظرِ عام پر لائی جاتی ہیں جو شاید سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل نہ کر سکیں، لیکن عوامی آگاہی کے لئے ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔
صحافت کو خبر کی رفتار، سنسنی خیزی اور مقبولیت کے پیمانوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم یہ خامیاں صحافت کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس کی ناگزیر ضرورت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ غلط معلومات اور ڈیجیٹل شور کے اس دور میں صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مستقبل کی صحافت کا انحصار اعتبار، اصل رپورٹنگ اور تصدیق شدہ معلومات پر ہوگا۔ نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے بھی اسے اپنے بنیادی مقصد، یعنی عوام کو باخبر رکھنے اور اقتدار کے ایوانوں کو جواب دہ بنانے، سے وابستہ رہنا ہوگا۔
اسے کئی بار مردہ قرار دیا گیا، لیکن ہر بار اس نے ان پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا۔ ریڈیو کی آمد پر اخبارات کی اہمیت کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، ٹیلی ویژن کو ریڈیو کا متبادل قرار دیا گیا، انٹرنیٹ کو مطبوعہ صحافت کا قاتل سمجھا گیا اور سوشل میڈیا کے بارے میں کہا گیا کہ اب نیوز رومز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ آج مصنوعی ذہانت کو بھی صحافت کے لئے ایک نئے وجودی خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ بدلتے رہے، پیش گوئیاں دہرائی جاتی رہیں، لیکن صحافت ہر نئے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتی رہی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک ضرورت آج بھی برقرار ہے: کسی نہ کسی کو یہ معلوم کرنا اور ثابت کرنا ہے کہ حقیقت میں ہوا کیا ہے۔
صحافت محض اطلاعات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ رپورٹنگ، تصدیق، سوال اٹھانے، تحقیق، پس منظر کی وضاحت اور شائع شدہ مواد کے لئے جواب دہی کا تقاضا کرتی ہے۔
ہندوستان کی بعض اہم ترین خبریں اور انکشافات ان صحافیوں کی بدولت سامنے آئے جنہوں نے دستاویزات کی کھوج، ذرائع سے روابط اور مشکل سوالات اٹھانے کے لئے ہفتوں اور مہینوں صرف کیے۔ بیرونِ ملک خفیہ کھاتوں، سیاسی فنڈنگ، کارپوریٹ نظم و نسق، مالی بے ضابطگیوں اور ادارہ جاتی فیصلوں سے متعلق تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ معیاری رپورٹنگ ایسے حقائق کو بے نقاب کر سکتی ہے جو بصورتِ دیگر پردۂ اخفا میں رہ جاتے۔
تاہم صحافت کی اصل طاقت صرف صفحۂ اول پر شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹوں میں نہیں بلکہ ہندوستان بھر میں ہزاروں صحافیوں کی روزمرہ محنت میں بھی پوشیدہ ہے۔
یہ صحافی عدالتوں، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی کارروائیوں پر نظر رکھتے ہیں، دیہات سے خبریں لاتے ہیں، اسپتالوں اور جامعات کے مسائل اجاگر کرتے ہیں، مقامی انتظامیہ سے سوال کرتے ہیں اور قدرتی آفات کے دوران زمینی حقائق سامنے لاتے ہیں۔ وہ عام شہریوں کی آواز بنتے ہیں جن کی بات شاید کبھی ایوانِ اقتدار تک نہ پہنچ پاتی۔
اس میں سے بیشتر کام سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل نہیں کرتا، لیکن اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ بعض انتہائی قیمتی صحافت وہی ہے جس کا مقصد محض مقبولیت نہیں بلکہ درست معلومات، مسلسل جدوجہد اور حقائق سے وابستگی ہوتا ہے۔
اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہندوستانی صحافت تنقید سے بالاتر ہے۔ ذرائع ابلاغ کے بعض حصے خبر کی رفتار، تماشے اور ناظرین کی دلچسپی کے اعداد و شمار سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ ٹیلی ویژن مباحثے بعض اوقات اصل موضوع سے زیادہ شور مچاتے ہیں، سنسنی خیز سرخیاں گہرائی کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں اور سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ میں درست خبر دینے کی ذمہ داری متاثر ہو جاتی ہے۔
ایک پراعتماد ذرائع ابلاغ کی صنعت کو اپنی ان خامیوں کا اعتراف کرنا چاہیے، لیکن صحافت پر تنقید کو اس کی موت کا اعلان نہیں بننا چاہیے۔
موجودہ اطلاعاتی ماحول نے پیشہ ورانہ صحافت کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ آج اسمارٹ فون رکھنے والا تقریباً ہر شخص لاکھوں افراد تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ افواہیں چند منٹوں میں دنیا بھر میں پھیل سکتی ہیں، جبکہ تخلیقی مصنوعی ذہانت لمحوں میں ایسی تحریریں، تصاویر، آوازیں اور ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہوں۔
اب مسئلہ معلومات کی کمی نہیں رہا۔
اصل مسئلہ اعتبار کا ہے۔
قارئین اور ناظرین کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، کیا اس کی تصدیق کی گئی ہے؟ اس کے حق میں کیا شواہد موجود ہیں؟ کیا دوسرے فریق کا مؤقف بھی سنا گیا ہے؟ کیا کوئی شخص اس اطلاع کے ساتھ اپنا نام اور ساکھ وابستہ کرنے کے لئے تیار ہے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب صحافت دیتی ہے۔
مستقبل کا نیوز روم محض زیادہ مواد تیار کرکے یا چند سیکنڈ پہلے خبر شائع کرکے کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کی اصل مسابقتی برتری اعتبار، اصل رپورٹنگ، مہارت، تصدیق اور واقعات کے پس منظر کی وضاحت میں ہوگی۔
مصنوعی ذہانت نیوز رومز کو تبدیل کرے گی۔ یہ تحقیق، ترجمے، مواد کی تیاری اور خبروں کی ترسیل میں معاون ثابت ہوگی۔ کاروباری ماڈل اور ذرائع ابلاغ کی صورتیں بدلیں گی، بعض ادارے ختم ہوں گے اور نئے ادارے وجود میں آئیں گے۔ لیکن یہ صحافت کی موت نہیں بلکہ تبدیل ہوتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا ایک اور مرحلہ ہوگا۔
اخبارات کی شکل بدل سکتی ہے، ٹیلی ویژن تبدیل ہو سکتا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نئی صورت اختیار کر سکتے ہیں، لیکن صحافت کسی ایک ذریعے کی محتاج نہیں۔
اس کا وجود اس لئے ہے کہ معاشروں کو ایسے افراد کی ضرورت رہتی ہے جو مشکل سوالات اٹھائیں، شواہد کا جائزہ لیں، طاقت کے مراکز کو جواب دہ بنائیں اور شہریوں کو ان حقائق سے آگاہ کریں جن تک وہ خود رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
جب تک حکومتیں قائم ہیں، کمپنیاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں، ادارے فیصلے کرتے ہیں اور لوگ اپنے گرد و پیش کی دنیا کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں، صحافت کا مقصد اور ضرورت برقرار رہے گی۔
لہٰذا عالمی یومِ خبر پر شاید ہمیں یہ سوال کرنا چھوڑ دینا چاہیے کہ آیا صحافت زندہ رہے گی یا نہیں، کیونکہ صحافت نے ہر دور میں اپنی بقا ثابت کی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

معلومات کے سیلاب میں صحافت ہی اعتبار کی ضمانت

 

 

انوراگ بترا

عالمی یومِ خبر کے موقع پر اس حقیقت کا اعادہ ضروری ہے کہ مختلف تکنیکی انقلابات کے باوجود صحافت آج بھی زندہ ہے اور معاشرے میں اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اب مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد کے ساتھ بارہا صحافت کے خاتمے کی پیش گوئیاں کی گئیں، لیکن ہر بار اس نے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال کر اپنی بقا ثابت کی۔
ہندوستانی صحافت اس استقامت کی نمایاں مثال ہے، جہاں تحقیقاتی رپورٹنگ، حقائق کی چھان بین اور صحافیوں کی روزمرہ محنت عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسی کہانیاں بھی منظرِ عام پر لائی جاتی ہیں جو شاید سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل نہ کر سکیں، لیکن عوامی آگاہی کے لئے ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔
صحافت کو خبر کی رفتار، سنسنی خیزی اور مقبولیت کے پیمانوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم یہ خامیاں صحافت کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس کی ناگزیر ضرورت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ غلط معلومات اور ڈیجیٹل شور کے اس دور میں صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مستقبل کی صحافت کا انحصار اعتبار، اصل رپورٹنگ اور تصدیق شدہ معلومات پر ہوگا۔ نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے بھی اسے اپنے بنیادی مقصد، یعنی عوام کو باخبر رکھنے اور اقتدار کے ایوانوں کو جواب دہ بنانے، سے وابستہ رہنا ہوگا۔
اسے کئی بار مردہ قرار دیا گیا، لیکن ہر بار اس نے ان پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا۔ ریڈیو کی آمد پر اخبارات کی اہمیت کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، ٹیلی ویژن کو ریڈیو کا متبادل قرار دیا گیا، انٹرنیٹ کو مطبوعہ صحافت کا قاتل سمجھا گیا اور سوشل میڈیا کے بارے میں کہا گیا کہ اب نیوز رومز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ آج مصنوعی ذہانت کو بھی صحافت کے لئے ایک نئے وجودی خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ بدلتے رہے، پیش گوئیاں دہرائی جاتی رہیں، لیکن صحافت ہر نئے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتی رہی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک ضرورت آج بھی برقرار ہے: کسی نہ کسی کو یہ معلوم کرنا اور ثابت کرنا ہے کہ حقیقت میں ہوا کیا ہے۔
صحافت محض اطلاعات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ رپورٹنگ، تصدیق، سوال اٹھانے، تحقیق، پس منظر کی وضاحت اور شائع شدہ مواد کے لئے جواب دہی کا تقاضا کرتی ہے۔
ہندوستان کی بعض اہم ترین خبریں اور انکشافات ان صحافیوں کی بدولت سامنے آئے جنہوں نے دستاویزات کی کھوج، ذرائع سے روابط اور مشکل سوالات اٹھانے کے لئے ہفتوں اور مہینوں صرف کیے۔ بیرونِ ملک خفیہ کھاتوں، سیاسی فنڈنگ، کارپوریٹ نظم و نسق، مالی بے ضابطگیوں اور ادارہ جاتی فیصلوں سے متعلق تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ معیاری رپورٹنگ ایسے حقائق کو بے نقاب کر سکتی ہے جو بصورتِ دیگر پردۂ اخفا میں رہ جاتے۔
تاہم صحافت کی اصل طاقت صرف صفحۂ اول پر شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹوں میں نہیں بلکہ ہندوستان بھر میں ہزاروں صحافیوں کی روزمرہ محنت میں بھی پوشیدہ ہے۔
یہ صحافی عدالتوں، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی کارروائیوں پر نظر رکھتے ہیں، دیہات سے خبریں لاتے ہیں، اسپتالوں اور جامعات کے مسائل اجاگر کرتے ہیں، مقامی انتظامیہ سے سوال کرتے ہیں اور قدرتی آفات کے دوران زمینی حقائق سامنے لاتے ہیں۔ وہ عام شہریوں کی آواز بنتے ہیں جن کی بات شاید کبھی ایوانِ اقتدار تک نہ پہنچ پاتی۔
اس میں سے بیشتر کام سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل نہیں کرتا، لیکن اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ بعض انتہائی قیمتی صحافت وہی ہے جس کا مقصد محض مقبولیت نہیں بلکہ درست معلومات، مسلسل جدوجہد اور حقائق سے وابستگی ہوتا ہے۔
اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہندوستانی صحافت تنقید سے بالاتر ہے۔ ذرائع ابلاغ کے بعض حصے خبر کی رفتار، تماشے اور ناظرین کی دلچسپی کے اعداد و شمار سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ ٹیلی ویژن مباحثے بعض اوقات اصل موضوع سے زیادہ شور مچاتے ہیں، سنسنی خیز سرخیاں گہرائی کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں اور سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ میں درست خبر دینے کی ذمہ داری متاثر ہو جاتی ہے۔
ایک پراعتماد ذرائع ابلاغ کی صنعت کو اپنی ان خامیوں کا اعتراف کرنا چاہیے، لیکن صحافت پر تنقید کو اس کی موت کا اعلان نہیں بننا چاہیے۔
موجودہ اطلاعاتی ماحول نے پیشہ ورانہ صحافت کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ آج اسمارٹ فون رکھنے والا تقریباً ہر شخص لاکھوں افراد تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ افواہیں چند منٹوں میں دنیا بھر میں پھیل سکتی ہیں، جبکہ تخلیقی مصنوعی ذہانت لمحوں میں ایسی تحریریں، تصاویر، آوازیں اور ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہوں۔
اب مسئلہ معلومات کی کمی نہیں رہا۔
اصل مسئلہ اعتبار کا ہے۔
قارئین اور ناظرین کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، کیا اس کی تصدیق کی گئی ہے؟ اس کے حق میں کیا شواہد موجود ہیں؟ کیا دوسرے فریق کا مؤقف بھی سنا گیا ہے؟ کیا کوئی شخص اس اطلاع کے ساتھ اپنا نام اور ساکھ وابستہ کرنے کے لئے تیار ہے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب صحافت دیتی ہے۔
مستقبل کا نیوز روم محض زیادہ مواد تیار کرکے یا چند سیکنڈ پہلے خبر شائع کرکے کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کی اصل مسابقتی برتری اعتبار، اصل رپورٹنگ، مہارت، تصدیق اور واقعات کے پس منظر کی وضاحت میں ہوگی۔
مصنوعی ذہانت نیوز رومز کو تبدیل کرے گی۔ یہ تحقیق، ترجمے، مواد کی تیاری اور خبروں کی ترسیل میں معاون ثابت ہوگی۔ کاروباری ماڈل اور ذرائع ابلاغ کی صورتیں بدلیں گی، بعض ادارے ختم ہوں گے اور نئے ادارے وجود میں آئیں گے۔ لیکن یہ صحافت کی موت نہیں بلکہ تبدیل ہوتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا ایک اور مرحلہ ہوگا۔
اخبارات کی شکل بدل سکتی ہے، ٹیلی ویژن تبدیل ہو سکتا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نئی صورت اختیار کر سکتے ہیں، لیکن صحافت کسی ایک ذریعے کی محتاج نہیں۔
اس کا وجود اس لئے ہے کہ معاشروں کو ایسے افراد کی ضرورت رہتی ہے جو مشکل سوالات اٹھائیں، شواہد کا جائزہ لیں، طاقت کے مراکز کو جواب دہ بنائیں اور شہریوں کو ان حقائق سے آگاہ کریں جن تک وہ خود رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
جب تک حکومتیں قائم ہیں، کمپنیاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں، ادارے فیصلے کرتے ہیں اور لوگ اپنے گرد و پیش کی دنیا کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں، صحافت کا مقصد اور ضرورت برقرار رہے گی۔
لہٰذا عالمی یومِ خبر پر شاید ہمیں یہ سوال کرنا چھوڑ دینا چاہیے کہ آیا صحافت زندہ رہے گی یا نہیں، کیونکہ صحافت نے ہر دور میں اپنی بقا ثابت کی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں