مزدوروں کےحقوق ہیں۔۔۔لیکن ملیں گے کب؟

 

شازیہ اختر
منڈی پونچھ

کسی گھر کا باپ جب صبح روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے تو اس کے قدموں کے ساتھ صرف اس کی اپنی امیدیں نہیں ہوتیں، بلکہ پورے خاندان کے خواب بھی جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے ہاتھوں میں دن بھر کی محنت ہوتی ہے اور دل میں یہ اطمنان کہ شام کو وہ گھر واپس لوٹے گا تو بچوں کے لئے روٹی، کتابیں اور ضروریاتِ زندگی کا سامان لے کر آئے گالیکن کبھی کبھی زندگی کا ایک لمحہ انسان سے اس کا چلنے کا اختیار ہی نہیں چھینتا، بلکہ پورے خاندان کو ایک ایسے امتحان میں ڈال دیتا ہے جس سے نکلنے کے لئے صرف حوصلہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ معاشرے، انتظامیہ اور ذمہ دار اداروں کے تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ واقععبدالرزاق بیگ کی زندگی سے جڑا ہوا ہے ایک محنت کش، جو اپنے گھر کے چھ افراد کا واحد سہارا تھا، 22 دسمبر 2025 کو روزی کمانے کے لئے گھر سے نکلا، مگر کام کے دوران ایک سرکاری عمارت کی تیسری منزل سے گرنے کے بعد اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ایک حادثہ، جس نے پوری زندگی بدل دی۔عبدالرزاق جو جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے گائوں چکھڑی بن کے رہائشی ہیں، ایک ٹھیکیدار کے ذریعے سرکاری عمارت کی تعمیر میں مزدوری کر رہے تھے۔ محنت مزدوری ان کا ذریعہ معاش تھی۔ اسی آمدنی سے وہ اپنے بچوں کی تعلیم، والدہ اور اہلیہ کی ضروریات اور گھر کے روزمرہ اخراجات پورے کرتے تھے۔
وہ دن اس کے لئے ایک عام دن کی طرح شروع ہوا تھا، مگر تعمیراتی کام کے دوران پیش آنے والے حادثے نے اسے شدید زخمی کر دیا۔حادثے کے بعد اسے فوری طور پر جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا، جہاں اس کا آپریشن بھی ہوا۔ خاندان نے علاج کی ہر ممکن کوشش کی، مگر صحت یابی کا سفر طویل ہوتا چلا گیا۔ تقریباً نو ماہ گزر چکے ہیں۔عبدالرزاق اب بھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔وہیل چیئر اور بستر اب اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔کل خودکفیل تھا، آج سہارے کا محتاج ہے۔ حادثے سے پہلے عبدالرزاق اپنے خاندان کے لئے سہارا تھا۔ آج وہ خود دوسروں کے سہارے کا محتاج ہے۔بیت الخلاء تک جانے کے لئے بھی اسے مدد درکار ہوتی ہے۔ گھر کے افراد مل کر اسے وہیل چیئر پر بٹھاتے ہیں۔ اسپتال تک لے جانا، چیک اپ کروانا، دوائیں خریدنا اور مسلسل علاج جاری رکھنا خاندان کے لئے ایک مستقل آزمائش بن چکا ہے۔
عبدالرزاق کی گفتگو میں درد ضرور ہے لیکن امید ابھی زندہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے نو ماہ ہو گئے بستر پر پڑے ہوئے۔ پہلے میں اپنے گھر والوں کا سہارا تھا، آج خود سہارا لینے پر مجبور ہوں۔ اگر علاج جاری رہا تو شاید میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکوں۔یہ جملہ دراصل اس شخص کی امید ہے جو حالات سے شکست کھانے کے باوجود زندگی سے دستبردار نہیں ہوا۔چار بچوں کے خواب عبدالرزاق کے ساتھ منسلک ہیںاُن کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے۔بڑی بیٹی دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہے، جبکہ دیگر بچے آٹھویں، پانچویں اور تیسری جماعت میں پڑھ رہے ہیں۔یہ بچے صرف اپنے والد کی صحت کے لئے فکرمند نہیں بلکہ ان کے مستقبل کے سوالات بھی ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ایک باپ کے لئے اس سے بڑی پریشانی شاید ہی کوئی ہو کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔حادثے سے پہلے ان کے والد ہی اسکول، مدرسے اور گھر کے دیگر اخراجات پورے کرتے تھے۔ آج علاج کے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ تعلیم اور دیگر ضروریات بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔
یہاں معاشرے کے لئے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔کیا کسی بچے کا مستقبل صرف اس لئے رک جانا چاہیے کہ اس کے والد روزگار کے دوران حادثے کا شکار ہو گئے؟چار لاکھ سے زائد خرچ ہوچکے ہیں مگر علاج ابھی جاری ہے اور سفر طویل ہے۔گھر کی جمع پونجی استعمال ہوئی، قرض لیا گیا اور رشتہ داروں سے مدد مانگی گئی، لیکن نو ماہ تک مسلسل علاج کے بعد وسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔اُن کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ چیک اپ پر تقریباً 40 ہزار روپے تک خرچ آ جاتا ہے۔اس وقت خاندان کو صرف ایک مرتبہ کی مالی امداد نہیں بلکہ ایک ایسے مستقل اور منظم تعاون کی ضرورت ہے جس سے عبدالرزاق کا علاج جاری رہ سکے اور ان کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔
عبدالرزاق کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ حادثے کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے خاندان کو مطلوبہ مالی مدد فراہم نہیں کی گئی۔اہل خانہ کے مطابق انہوں نے معاملہ پولیس تک بھی پہنچایا اور ایس ایس پی پونچھ کے ذریعے متعلقہ پولیس تھانے کو درخواست بھی دی تاہم انتظار کی گھڑیاں مزید لمبی ہیں۔یہاں ضروری ہے کہ اگر کسی تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والا مزدور دورانِ کام شدید حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اس معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے بھی اہم اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔اسی لئے تعمیراتی منصوبوں میں حفاظتی انتظامات، تربیت، حفاظتی سامان، کام کی جگہ کا معائنہ اور حادثے کی صورت میں فوری طبی و مالی معاونت کو محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ بنیادی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔
عبدالرزاق کا معاملہ انتظامیہ کے لئے بھی ایک اہم موقع ہے۔ضلع انتظامیہ اگر اس خاندان کی صورتحال کا فوری جائزہ لے، متعلقہ محکموں کے ذریعے علاج اور مالی معاونت کے امکانات تلاش کرے، مزدور کے قانونی حقوق کا جائزہ لے اور حادثے کے اسباب کی غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائے تو یہ ایک خاندان کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔مزدوروں سے متعلقہ شعبہ بھی اس بات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ عبدالرزاق کو مزدور قوانین کے تحت کسی معاوضے، بیمہ یا دیگر قانونی سہولت کا حق حاصل ہے یا نہیں۔یہ اقدام صرف عبدالرزاق کے لئے نہیں ہوگا بلکہ دیگر محنت کشوں کے لئے بھی ایک مثبت مثال بن سکتے ہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہر تعمیراتی ادارہ اپنے مزدوروں کے لئے حفاظتی انتظامات کو اولین ترجیح دے اور حادثے کی صورت میں متاثرہ کارکن اور اس کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہو۔یہ صرف قانونی ذمہ داری نہیں، انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک گھر کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دیں۔عبدالرزاق کے خاندان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت عملی مدد کی ہے۔اگر مخیر حضرات، سماجی تنظیمیں، کاروباری افراد، دینی ادارے اور مقامی لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اس خاندان کی مدد کریں تو عبدالرزاق کا علاج جاری رہ سکتا ہے، بچوں کی تعلیم رکنے سے بچ سکتی ہے اور گھر کا بنیادی نظام دوبارہ سنبھل سکتا ہے۔کبھی کبھی کسی انسان کی مدد کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کئی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی مدد بھی ایک بڑے بحران کو ٹال سکتی ہے۔
عبدالرزاق آج بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک دن دوبارہ اپنے بچوں کے سامنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔ان امید کو زندہ رکھنے کے لئے اب صرف الفاظ نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہیکیونکہعبدالرزاق کو صرف ہمدردی نہیں چاہیے،انہیںعلاج چاہیے، قانونی حقوق کا تحفظ چاہیے، بچوں کی تعلیم کا سہارا چاہیے اور اپنے گھر کو دوبارہ سنبھالنے کا موقع چاہیے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ہونے والے کام میں مزدوروں اور دیگر کام کرنے والوں کی حفاظت کا مکمل دھیان دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے اور کسی کو جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں یا پھر تاعمر کیلئے معذور ہونا پڑتا ہے۔ سرکاری سطح پر مزدوروں کی حفاظت کیلئے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔کوئی بڑے منصوبہ جات سیفٹی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں لیکن چھوٹے منصوبوں پر تحفظ کے معاملے میں کوتاہی برتی جاتی ہے اور پھر ایسے معاملات پیش آجاتے ہیں جو کسی نہ کسی کی جان لے لیتے ہیں ۔ متعلقہ شعبہ کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے تاکہ مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کو ہر وقت یقینی بنایا جا سکے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

مزدوروں کےحقوق ہیں۔۔۔لیکن ملیں گے کب؟

 

شازیہ اختر
منڈی پونچھ

کسی گھر کا باپ جب صبح روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے تو اس کے قدموں کے ساتھ صرف اس کی اپنی امیدیں نہیں ہوتیں، بلکہ پورے خاندان کے خواب بھی جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے ہاتھوں میں دن بھر کی محنت ہوتی ہے اور دل میں یہ اطمنان کہ شام کو وہ گھر واپس لوٹے گا تو بچوں کے لئے روٹی، کتابیں اور ضروریاتِ زندگی کا سامان لے کر آئے گالیکن کبھی کبھی زندگی کا ایک لمحہ انسان سے اس کا چلنے کا اختیار ہی نہیں چھینتا، بلکہ پورے خاندان کو ایک ایسے امتحان میں ڈال دیتا ہے جس سے نکلنے کے لئے صرف حوصلہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ معاشرے، انتظامیہ اور ذمہ دار اداروں کے تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ واقععبدالرزاق بیگ کی زندگی سے جڑا ہوا ہے ایک محنت کش، جو اپنے گھر کے چھ افراد کا واحد سہارا تھا، 22 دسمبر 2025 کو روزی کمانے کے لئے گھر سے نکلا، مگر کام کے دوران ایک سرکاری عمارت کی تیسری منزل سے گرنے کے بعد اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ایک حادثہ، جس نے پوری زندگی بدل دی۔عبدالرزاق جو جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے گائوں چکھڑی بن کے رہائشی ہیں، ایک ٹھیکیدار کے ذریعے سرکاری عمارت کی تعمیر میں مزدوری کر رہے تھے۔ محنت مزدوری ان کا ذریعہ معاش تھی۔ اسی آمدنی سے وہ اپنے بچوں کی تعلیم، والدہ اور اہلیہ کی ضروریات اور گھر کے روزمرہ اخراجات پورے کرتے تھے۔
وہ دن اس کے لئے ایک عام دن کی طرح شروع ہوا تھا، مگر تعمیراتی کام کے دوران پیش آنے والے حادثے نے اسے شدید زخمی کر دیا۔حادثے کے بعد اسے فوری طور پر جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا، جہاں اس کا آپریشن بھی ہوا۔ خاندان نے علاج کی ہر ممکن کوشش کی، مگر صحت یابی کا سفر طویل ہوتا چلا گیا۔ تقریباً نو ماہ گزر چکے ہیں۔عبدالرزاق اب بھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔وہیل چیئر اور بستر اب اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔کل خودکفیل تھا، آج سہارے کا محتاج ہے۔ حادثے سے پہلے عبدالرزاق اپنے خاندان کے لئے سہارا تھا۔ آج وہ خود دوسروں کے سہارے کا محتاج ہے۔بیت الخلاء تک جانے کے لئے بھی اسے مدد درکار ہوتی ہے۔ گھر کے افراد مل کر اسے وہیل چیئر پر بٹھاتے ہیں۔ اسپتال تک لے جانا، چیک اپ کروانا، دوائیں خریدنا اور مسلسل علاج جاری رکھنا خاندان کے لئے ایک مستقل آزمائش بن چکا ہے۔
عبدالرزاق کی گفتگو میں درد ضرور ہے لیکن امید ابھی زندہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے نو ماہ ہو گئے بستر پر پڑے ہوئے۔ پہلے میں اپنے گھر والوں کا سہارا تھا، آج خود سہارا لینے پر مجبور ہوں۔ اگر علاج جاری رہا تو شاید میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکوں۔یہ جملہ دراصل اس شخص کی امید ہے جو حالات سے شکست کھانے کے باوجود زندگی سے دستبردار نہیں ہوا۔چار بچوں کے خواب عبدالرزاق کے ساتھ منسلک ہیںاُن کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے۔بڑی بیٹی دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہے، جبکہ دیگر بچے آٹھویں، پانچویں اور تیسری جماعت میں پڑھ رہے ہیں۔یہ بچے صرف اپنے والد کی صحت کے لئے فکرمند نہیں بلکہ ان کے مستقبل کے سوالات بھی ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ایک باپ کے لئے اس سے بڑی پریشانی شاید ہی کوئی ہو کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔حادثے سے پہلے ان کے والد ہی اسکول، مدرسے اور گھر کے دیگر اخراجات پورے کرتے تھے۔ آج علاج کے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ تعلیم اور دیگر ضروریات بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔
یہاں معاشرے کے لئے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔کیا کسی بچے کا مستقبل صرف اس لئے رک جانا چاہیے کہ اس کے والد روزگار کے دوران حادثے کا شکار ہو گئے؟چار لاکھ سے زائد خرچ ہوچکے ہیں مگر علاج ابھی جاری ہے اور سفر طویل ہے۔گھر کی جمع پونجی استعمال ہوئی، قرض لیا گیا اور رشتہ داروں سے مدد مانگی گئی، لیکن نو ماہ تک مسلسل علاج کے بعد وسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔اُن کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ چیک اپ پر تقریباً 40 ہزار روپے تک خرچ آ جاتا ہے۔اس وقت خاندان کو صرف ایک مرتبہ کی مالی امداد نہیں بلکہ ایک ایسے مستقل اور منظم تعاون کی ضرورت ہے جس سے عبدالرزاق کا علاج جاری رہ سکے اور ان کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔
عبدالرزاق کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ حادثے کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے خاندان کو مطلوبہ مالی مدد فراہم نہیں کی گئی۔اہل خانہ کے مطابق انہوں نے معاملہ پولیس تک بھی پہنچایا اور ایس ایس پی پونچھ کے ذریعے متعلقہ پولیس تھانے کو درخواست بھی دی تاہم انتظار کی گھڑیاں مزید لمبی ہیں۔یہاں ضروری ہے کہ اگر کسی تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والا مزدور دورانِ کام شدید حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اس معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے بھی اہم اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔اسی لئے تعمیراتی منصوبوں میں حفاظتی انتظامات، تربیت، حفاظتی سامان، کام کی جگہ کا معائنہ اور حادثے کی صورت میں فوری طبی و مالی معاونت کو محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ بنیادی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔
عبدالرزاق کا معاملہ انتظامیہ کے لئے بھی ایک اہم موقع ہے۔ضلع انتظامیہ اگر اس خاندان کی صورتحال کا فوری جائزہ لے، متعلقہ محکموں کے ذریعے علاج اور مالی معاونت کے امکانات تلاش کرے، مزدور کے قانونی حقوق کا جائزہ لے اور حادثے کے اسباب کی غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائے تو یہ ایک خاندان کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔مزدوروں سے متعلقہ شعبہ بھی اس بات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ عبدالرزاق کو مزدور قوانین کے تحت کسی معاوضے، بیمہ یا دیگر قانونی سہولت کا حق حاصل ہے یا نہیں۔یہ اقدام صرف عبدالرزاق کے لئے نہیں ہوگا بلکہ دیگر محنت کشوں کے لئے بھی ایک مثبت مثال بن سکتے ہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہر تعمیراتی ادارہ اپنے مزدوروں کے لئے حفاظتی انتظامات کو اولین ترجیح دے اور حادثے کی صورت میں متاثرہ کارکن اور اس کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہو۔یہ صرف قانونی ذمہ داری نہیں، انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک گھر کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دیں۔عبدالرزاق کے خاندان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت عملی مدد کی ہے۔اگر مخیر حضرات، سماجی تنظیمیں، کاروباری افراد، دینی ادارے اور مقامی لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اس خاندان کی مدد کریں تو عبدالرزاق کا علاج جاری رہ سکتا ہے، بچوں کی تعلیم رکنے سے بچ سکتی ہے اور گھر کا بنیادی نظام دوبارہ سنبھل سکتا ہے۔کبھی کبھی کسی انسان کی مدد کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کئی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی مدد بھی ایک بڑے بحران کو ٹال سکتی ہے۔
عبدالرزاق آج بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک دن دوبارہ اپنے بچوں کے سامنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔ان امید کو زندہ رکھنے کے لئے اب صرف الفاظ نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہیکیونکہعبدالرزاق کو صرف ہمدردی نہیں چاہیے،انہیںعلاج چاہیے، قانونی حقوق کا تحفظ چاہیے، بچوں کی تعلیم کا سہارا چاہیے اور اپنے گھر کو دوبارہ سنبھالنے کا موقع چاہیے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ہونے والے کام میں مزدوروں اور دیگر کام کرنے والوں کی حفاظت کا مکمل دھیان دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے اور کسی کو جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں یا پھر تاعمر کیلئے معذور ہونا پڑتا ہے۔ سرکاری سطح پر مزدوروں کی حفاظت کیلئے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔کوئی بڑے منصوبہ جات سیفٹی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں لیکن چھوٹے منصوبوں پر تحفظ کے معاملے میں کوتاہی برتی جاتی ہے اور پھر ایسے معاملات پیش آجاتے ہیں جو کسی نہ کسی کی جان لے لیتے ہیں ۔ متعلقہ شعبہ کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے تاکہ مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کو ہر وقت یقینی بنایا جا سکے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں