
پیر اقبال رشید
کشمیر میں شادی کبھی سادگی، محبت، خلوص اور دو خاندانوں کے باہمی تعلق کا نام تھی۔ محدود وسائل میں بھی لوگ خوشی مناتے تھے، رشتہ دار جمع ہوتے تھے، بزرگ دعائیں دیتے تھے اور ایک نئی زندگی کا سفر سادگی کے ساتھ شروع ہوتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ شادی کی یہ سادگی کہیں گم ہوتی جارہی ہے۔ اب بعض شادیوں میں خوشی سے زیادہ نمائش، رسم و رواج اور سماجی مقابلہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ شادی کتنی خوشی سے ہوئی؛ سوال یہ بن گیا ہے کہ شادی پر کتنا خرچ ہوا؟ لباس کتنا مہنگا تھا؟ زیورات کتنے تھے؟ کھانا کتنا شاندار تھا؟ گاڑیاں کتنی تھیں اور تقریب کتنی بڑی تھی؟
یہی سوچ ہمارے معاشرے کو ایک خطرناک دوڑ کی طرف لے جارہی ہے۔
ایک خاندان نے شادی پر بھاری خرچ کیا تو دوسرے خاندان پر بھی دباؤ پیدا ہوگیا کہ وہ اس سے کم نہ کرے۔ پھر تیسرا خاندان پہلے دونوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں خوشی کا ایک موقع رفتہ رفتہ دکھاوے کے مقابلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر متوسط اور کم آمدنی والے خاندان ہوتے ہیں۔ جن والدین نے برسوں بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور مستقبل کے لئے رقم جمع کی ہوتی ہے، وہ بعض اوقات چند روزہ تقریبات پر اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بعض قرض لیتے ہیں، بعض اپنی جمع پونجی ختم کرتے ہیں اور بعض صرف اس خوف سے غیر ضروری اخراجات برداشت کرتے ہیں کہ کہیں معاشرہ انہیں ’’کم حیثیت‘‘ نہ سمجھے۔
آخر یہ ’’لوگ‘‘ کون ہیں جن کے لئے ہم اپنی زندگی بھر کی کمائی خرچ کردیتے ہیں؟
یہ سوال ہر والدین کو خود سے پوچھنا چاہیے۔
شادی کے بعد اگر گھر پر قرض کا بوجھ ہو، والدین پریشان ہوں اور مستقبل کے منصوبے متاثر ہوں تو چند گھنٹوں کی مصنوعی شان و شوکت کس کام کی؟
افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ ہر سال شادیوں کے ساتھ نئی نئی رسومات شامل ہوتی جارہی ہیں۔ جو رسم کل تک ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں تھی، آج اسے بعض لوگ شادی کی لازمی ضرورت سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ رسم چند خاندانوں سے نکل کر پورے معاشرے پر سماجی دباؤ بن جاتی ہے۔
یہ سلسلہ کہیں رکنا چاہیے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر نئی رسم روایت نہیں ہوتی، ہر مہنگی چیز عزت نہیں ہوتی اور ہر بڑی تقریب کامیاب شادی کی علامت نہیں ہوتی۔
شادی دو انسانوں کی زندگی کا آغاز ہے، کسی خاندان کی مالی حیثیت دکھانے کا مقابلہ نہیں۔
ہمارے بزرگوں نے محدود وسائل کے باوجود ایسی شادیاں کیں جن کی یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ نہ بڑے ہال تھے، نہ مہنگی سجاوٹ، نہ سوشل میڈیا پر نمائش، نہ کھانے کے درجنوں پکوان؛ مگر محبت تھی، خلوص تھا، اپنائیت تھی اور دعائیں تھیں۔
آج سہولتیں بڑھ گئی ہیں لیکن شاید سکون کم ہوگیا ہے۔
ہمیں اپنی خوشیوں کو دوسروں کی توقعات کا غلام بنانے کے بجائے اپنی استطاعت کے مطابق منانا ہوگا۔ والدین کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی شادی سادگی سے کریں، بغیر اس خوف کے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
معاشرے کی اصلاح ہمیشہ کسی ایک بڑے فیصلے سے نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹے چھوٹے اجتماعی فیصلوں سے ہوتی ہے۔ اگر چند خاندان غیر ضروری رسومات ترک کریں گے تو دوسروں کے لئے بھی راستہ آسان ہوگا۔ اگر لوگ شادی کو آسان بنائیں گے تو آنے والی نسلوں پر غیر ضروری معاشی دباؤ کم ہوگا۔
کشمیر کو شادیوں میں مقابلے کی نہیں، سادگی کی ضرورت ہے؛ نمود و نمائش کی نہیں، خلوص کی ضرورت ہے؛ فضول خرچی کی نہیں، مستقبل کی فکر کی ضرورت ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی اولاد کو چند گھنٹوں کی نمائش دیں گے یا پوری زندگی کا محفوظ مستقبل؟
شادی خوشی کا موقع ہے۔
اسے قرض، دکھاوے اور معاشرتی دباؤ کا بوجھ نہ بنائیں۔
کیونکہ اگر خوشی منانے کے بعد کئی سال تک قرض اتارنا پڑے تو پھر سوال صرف شادی کے اخراجات کا نہیں رہتا، بلکہ پورے معاشرتی رویے پر سوال اٹھتا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ سے نکل کر یہ سوچیں کہ "ہماری آنے والی نسلیں کیا بھگتیں گی”؟


