جنگ نیوز
سری نگر/جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیم محکمہ نے کالجوں اور کتب خانوں میں موجود 4249 ’قابلِ اعتراض‘ کتابوں کو گردش سے ہٹا دیا ہے۔ یہ تفصیلات حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں ایک سوال کے تحریری جواب میں پیش کیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہٹائی گئی کتابوں میں 3996 کشمیر جبکہ 253 جموں ڈویژن سے تعلق رکھتی ہیں، یعنی تقریباً 94 فیصد اخراج کشمیر ڈویژن میں ہوا۔ اب تک مجموعی طور پر 2181582 کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں 1248641 کشمیر اور 932941 جموں میں شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق ایس او 203 کے تحت باضابطہ طور پر ممنوع قرار دی گئی 19 کتابوں کی 518 نقول بھی ہٹائی گئی ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ قابلِ اعتراض مواد کی جانچ کا عمل تاحال جاری ہے اور یہ ایک وقت طلب مشق ہے۔ اس کے مطابق جانچ کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آئینی اقدار، علمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج، ذمہ دار شہری شعور اور ملک کی خودمختاری و سالمیت کے احترام پر مبنی ماحول برقرار رکھنا ہے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کتابوں کی جانچ کے لئے مقررہ ہدایات کے تحت ایک واضح اور معروضی معیار بھی اختیار کیا ہے۔


