
جنگ فیچر
بشکریہ: ایم این این
ہندوستان کی جمہوریت محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے۔ یہ جدید دنیا کی غیر معمولی انتظامی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ لوگ آباد ہیں اور جہاں لسانی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے بے پناہ تنوع پایا جاتا ہے، اتنے وسیع پیمانے پر باقاعدگی سے مسابقتی انتخابات کا انعقاد کسی معجزے سے کم نہیں۔
ہمالیہ کے ان دیہات سے، جہاں تک پہنچنے کے لئے دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، دور دراز جزیروں، صحراؤں اور گنجان آباد شہروں تک، ہندوستان نے ایک ایسا انتخابی ڈھانچہ قائم کیا ہے جس کی مثال دنیا کے بہت کم ممالک میں ملتی ہے۔ ہندوستان کا تجربہ ان جمہوریتوں کے لئے قیمتی اسباق فراہم کرتا ہے جو ووٹروں کی شرکت، انتخابی انتظامات اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔
تاہم اس غیر معمولی کامیابی کو بعض اوقات بین الاقوامی سطح پر پھیلائے جانے والے سنسنی خیز بیانیوں کے باعث پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے، جن میں پیچیدہ انتخابی طریقہ کار کو تشویش ناک سرخیوں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ حالیہ تنازع الیکشن کمیشن کی خصوصی جامع نظرثانی سے متعلق ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تقریباً تیرہ کروڑ ہندوستانیوں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیے گئے ہیں۔
ایسے دعوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ انتخابی فہرستوں میں ممکنہ طور پر پرانے یا غیر متعلقہ اندراجات کی نشاندہی کرنا اہل شہریوں کو مستقل طور پر حق رائے دہی سے محروم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
درست انتخابی فہرستوں کی اہمیت
ہر معتبر انتخابی نظام کے لئے درست اور تازہ ترین ووٹر فہرستوں کی موجودگی ضروری ہے۔ لوگ وفات پا جاتے ہیں، دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں، اپنے پتے تبدیل کرتے ہیں یا بعض اوقات ان کے نام ایک سے زیادہ مرتبہ انتخابی ریکارڈ میں درج ہو جاتے ہیں۔ باقاعدہ تصدیق کے بغیر انتخابی فہرستیں بتدریج غیر متعلقہ اندراجات سے بھر جاتی ہیں، جس سے انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ہندوستان کو اس چیلنج کا سامنا ایک غیر معمولی پیمانے پر ہے۔ ہزاروں انتخابی حلقوں میں پھیلے ہوئے کروڑوں رجسٹرڈ ووٹروں کے ریکارڈ کو درست رکھنا مسلسل انتظامی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ دو دہائیوں کے دوران آبادی میں ہونے والی تبدیلیاں ہی کروڑوں اندراجات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ہندوستان میں ہر سال لاکھوں افراد کی اموات ہوتی ہیں۔ اندرونی نقل مکانی بھی شہریوں کی معمول کی رہائش اور ووٹر رجسٹریشن کے مقام کو تبدیل کرتی ہے۔ مثال کے طور پر بہار سے دہلی منتقل ہونے والے کسی شخص کا نام پرانے انتخابی حلقے کی فہرست سے نکال کر نئے پتے پر درج کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔یہ حق رائے دہی سے محروم کرنا نہیں بلکہ انتخابی نظام کی سالمیت برقرار رکھنے کا ایک لازمی حصہ ہے، بشرطیکہ اہل شہریوں کو رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کا منصفانہ موقع حاصل رہے۔انتخابی نگرانی کا آئینی ڈھانچہ آئین کی دفعہ ۳۲۴ سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عوامی نمائندگی کا قانون ۱۹۵۰ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔لہٰذا خصوصی جامع نظرثانی بذات خود کوئی غیر آئینی عمل نہیں ہے۔ یہ انتخابی انتظام کا ایک طریقہ کار ہے، جس کی قانونی حیثیت قانون کے مطابق عمل درآمد، منصفانہ طریقہ کار اور مؤثر حفاظتی اقدامات پر منحصر ہے۔
اعداد و شمار کو سمجھنے کی ضرورت
یہ دعویٰ کہ تیرہ کروڑ ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، خصوصی جانچ کا متقاضی ہے۔ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران مختلف قسم کے اندراجات کی الگ الگ نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان میں وفات پا جانے والے ووٹر، رہائش تبدیل کرنے والے افراد، ایک سے زیادہ مرتبہ درج نام اور وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن کا تصدیقی عمل کے دوران سراغ نہیں مل پاتا۔ ان تمام زمروں کو خودکار طور پر ایسے اہل شہریوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا جنہیں مستقل طور پر حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا ہو۔ممکنہ طور پر غلط یا پرانے اندراجات کی ابتدائی نشاندہی اور تصدیق، اعتراضات اور اپیلوں کے بعد شائع ہونے والی حتمی انتخابی فہرست میں بھی واضح فرق ہے۔ اسی طرح صرف اس بنیاد پر بڑے اعداد و شمار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑی تعداد میں اموات اور نقل مکانی ہوئی ہے۔ تاریخی آبادیاتی اندازے بذات خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ کتنے اندراجات غلط ہیں، کتنے ووٹروں کے نام درست طریقے سے منتقل ہوئے ہیں یا کتنے اہل شہری غلطی سے فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں۔اس کا مناسب جواب شفاف اور الگ الگ زمروں پر مشتمل اعداد و شمار اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے قابل رسائی طریقہ کار ہے، جس کی جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کام کر رہا ہے۔
ہندوستان کے انتخابی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ وہ نہ صرف واقعی غیر متعلقہ اندراجات کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں۔
ہندوستان کی انتخابی مہارت دنیا بھر میں پہنچ رہی ہے
جس پہلو کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ توجہ ملنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہندوستان کا انتخابی تجربہ دوسرے ممالک کو اپنے انتخابی نظام بہتر بنانے میں کس طرح مدد فراہم کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بین الاقوامی تربیت اور تعاون کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ سال ۲۰۱۱ میں قائم ہونے والے ہندوستانی بین الاقوامی ادارہ برائے جمہوریت و انتخابی انتظام کے ذریعے ہندوستان نے الیکشن کمیشن کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ۱۴۱ ممالک کے تقریباً تین ہزار انتخابی عہدیداروں کو تربیت فراہم کی ہے۔ ان پروگراموں میں انتخابی منصوبہ بندی، ووٹروں کی تعلیم، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ اور انتخابی انتظامات شامل ہیں۔ ہندوستان نے ۲۸ ممالک کے انتخابی اداروں اور تین بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے معاہدے بھی کیے ہیں۔اس تعاون کا جغرافیائی دائرہ بھی متاثر کن ہے۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، لاطینی امریکہ اور بحرالکاہل کے ممالک کے انتخابی اداروں نے ہندوستان کے تربیتی اور معلومات کے تبادلے کے اقدامات میں حصہ لیا ہے۔ ہندوستان نے بھوٹان، نیپال اور نمیبیا سمیت مختلف ممالک کو ان کی ضروریات کے مطابق تیار کردہ برقی ووٹنگ مشینیں بھی فراہم کی ہیں، جبکہ کئی دوسرے ممالک کو ووٹنگ میں استعمال ہونے والی انمٹ سیاہی فراہم کی گئی ہے۔ ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کے دوران ہندوستان نے بین الاقوامی انتخابی نمائندوں کا خیرمقدم کیا تاکہ وہ اس کے انتخابی طریقہ کار کا مشاہدہ کر سکیں اور اس کے انتظامی تجربے سے سیکھ سکیں۔ یہ عملی شکل میں جمہوری تعاون ہے۔ ہندوستان محض اپنی انتخابی کامیابیوں کا جشن نہیں منا رہا بلکہ ان ممالک کے ساتھ اپنا عملی علم اور تجربہ بھی بانٹ رہا ہے جو اپنے اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ جمہوریت اور انتخابی انتظام سے متعلق ۲۰۲۶ کے دہلی اعلامیے نے بھی شفاف، جامع اور تکنیکی طور پر مؤثر انتخابی نظاموں کے قیام میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔
جانچ پڑتال جمہوریت کی طاقت ہے
خصوصی جامع نظرثانی سے متعلق جاری تنازع یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی جواب دہی کیوں اہم ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے ووٹروں کے غلط طور پر اخراج، دستاویزی تقاضوں اور انتخابی انتظامیہ کی آزادی سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے نظرثانی کے عمل کا دفاع کیا ہے، جبکہ عدالتوں نے بعض مخصوص طریقہ کار سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ ان خدشات کو خودکار طور پر مسترد کرنے کے بجائے ان کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ملک گیر سطح پر دانستہ طور پر ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے الزامات کو بھی کافی شواہد کے بغیر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔
دہلی میں بے گھر ہونے والے اور پہلے انتخابی فہرستوں سے رہ جانے والے ووٹروں کی مدد کے لئے خصوصی رجسٹریشن مہمات سمیت حالیہ اقدامات اس بات کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں کہ انتخابی فہرستوں کو انتظامی طور پر بے خطا سمجھنے کے بجائے ان میں موجود غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔متنازع دعوؤں کا ہندوستان کی جانب سے سب سے مضبوط جواب محض لفظی محاذ آرائی نہیں بلکہ قابل رسائی شواہد، شفاف طریقہ کار، آزاد عدالتی نگرانی اور حقیقی غلطیوں کی بروقت اصلاح ہے۔
ایک جمہوری کامیابی جس کا تحفظ ضروری ہے
ہندوستان کی انتخابی کامیابی ہر پانچ سال بعد انتخابات کرانے سے کہیں آگے کی حقیقت ہے۔ اس میں ایک وسیع جمہوری ڈھانچے کو برقرار رکھنا، غیر معمولی تنوع کو سموئے رکھنا، انتخابی عملے کی تربیت، ٹیکنالوجی کا استعمال اور بدلتے ہوئے آبادیاتی حالات کے مطابق طریقہ کار میں مسلسل بہتری لانا شامل ہے۔ دنیا کے بہت کم ممالک اس پیمانے پر انتخابی نظام چلاتے ہیں۔ ابھرتی ہوئی جمہوریتوں کے لئے ہندوستان کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ بہت بڑی آبادی، دشوار گزار جغرافیہ اور نمایاں معاشی تفاوت باقاعدہ اور مسابقتی انتخابات کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں بنتے۔ مستحکم جمہوریتوں کے لئے بھی ہندوستان انتخابی انتظامات میں ہم آہنگی، ووٹروں تک رسائی اور ادارہ جاتی موافقت کے حوالے سے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔ اس لئے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق تنازع کو زیادہ شفافیت اور زیادہ جامع انتظامی طریقہ کار کے ذریعے ہندوستان کی جمہوری ساکھ مضبوط بنانے کے ایک موقع میں تبدیل ہونا چاہیے۔ انتخابی نظام کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کوئی ملک کتنے ووٹروں کو رجسٹر کر سکتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ہر اہل شہری کے جمہوری عمل میں شرکت کے موقع کا کس قدر قابل اعتماد انداز میں تحفظ کرتا ہے۔ ہندوستان پہلے ہی ثابت کر چکا ہے کہ جمہوریت غیر معمولی پیمانے پر کامیابی سے کام کر سکتی ہے۔ اس کی اگلی کامیابی یہ دکھانا ہونی چاہیے کہ وسعت، درستگی، جواب دہی اور شمولیت ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔ یہ کامیابی صرف ہندوستان کے جمہوری مستقبل ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا میں انتخابی جمہوریت کے مستقبل کے لئے بھی ایک اہم خدمت ہوگی۔


