
شاہد حسین
شوپیاں میں کنیزِ زہرا فاؤنڈیشن کے تعاون سے اکتیس بچیوں کے سادہ نکاح ایک مثبت اور قابلِ تقلید معاشرتی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ صرف اکتیس خاندانوں کی خوشی کا موقع نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے ایک اہم پیغام بھی ہے کہ شادی کو فضول خرچی، دکھاوے اور غیر ضروری رسم و رواج کی دوڑ بنانے کے بجائے سادگی، تعاون اور آسانی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ فاؤنڈیشن کی بانیہ محترمہ افراح عصمت قادریہ صاحبہ اور ان کی پوری ٹیم کی یہ کاوش اسی سوچ کو عملی شکل دیتی ہے۔
اصل سوال اکتیس نکاح کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا ہے۔ ہم نے نکاح جیسے آسان اور مبارک عمل کو اتنا مشکل کیوں بنا دیا ہے؟ مہنگے لباس، بڑی دعوتیں، غیر ضروری تقریبات، مختلف رسومات، جہیز اور ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف نے شادی کو کئی خاندانوں کے لئے ایک بڑے مالی بوجھ میں تبدیل کر دیا ہے۔ بعض والدین اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرتے، قرض لیتے یا برسوں کی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں تاکہ معاشرے کے بنائے ہوئے غیر ضروری معیار پر پورا اتر سکیں۔
وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔ ایک بڑی اور مہنگی شادی سے زیادہ اہم وہ نکاح ہے جو نئے جوڑے کے لئے سکون، برکت اور ذمہ داری کے سفر کا آغاز بنے۔ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری استطاعت کیا ہے اور ہمارے عمل سے کسی دوسرے خاندان کے لئے کتنی آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ بیٹی کسی خاندان پر مالی بوجھ نہیں۔ اس کی عزت اس بات سے نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے والدین نے شادی پر کتنی رقم خرچ کی، کتنا جہیز دیا یا کتنے مہمان بلائے۔ بیٹی کی اصل خوشی عزت، محبت، محفوظ مستقبل اور اچھے گھر میں ہے۔ اگر معاشرہ اس بنیادی حقیقت کو سمجھ لے تو شادیوں سے جڑا بہت سا غیر ضروری بوجھ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔
جہیز اور غیر ضروری مطالبات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین سے اپنی استطاعت سے بڑھ کر سامان، زیورات، فرنیچر یا دیگر اشیا کی توقع کرنا شادی کو خوشی کے بجائے سماجی مجبوری بنا دیتا ہے۔ ہمیں ایسی روایت قائم کرنی چاہیے جس میں جہیز مطالبہ نہ ہو، سادگی شرمندگی نہ ہو اور کم خرچ شادی کو کم تر نہ سمجھا جائے۔
یہ تبدیلی صرف دولہے اور دلہن کے خاندان نہیں لا سکتے۔ پوری برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جو خاندان سادہ نکاح کرے، اس کا مذاق اڑانے کے بجائے حوصلہ بڑھایا جائے۔ جو نوجوان غیر ضروری مطالبات سے انکار کرے، اسے کم تر سمجھنے کے بجائے اس کے فیصلے کی قدر کی جائے۔ معاشرتی معیار بدلنے کا آغاز کسی ایک خاندان سے ہی ہوتا ہے۔
شوپیاں سے اٹھنے والا یہ پیغام پورے کشمیر تک پہنچنا چاہیے: نکاح آسان کریں، فضول رسموں کو ختم کریں، دکھاوے کی حوصلہ شکنی کریں، غیر ضروری مطالبات سے گریز کریں اور ضرورت مند خاندانوں کا سہارا بنیں۔ شادی کوئی مقابلہ نہیں جس میں ایک خاندان دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرے؛ یہ دو خاندانوں کو جوڑنے اور ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھنے کا موقع ہے۔
نوجوان نسل اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ نوجوان لڑکے غیر ضروری مطالبات سے انکار کریں، نوجوان لڑکیاں شادی کو دکھاوے کی دوڑ نہ بنائیں، والدین اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ نہ کریں اور رشتہ دار دوسروں کی شادیوں کو اپنی مالی حیثیت کے پیمانے سے نہ پرکھیں۔ اگر یہ چھوٹے فیصلے عام ہو جائیں تو معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
کنیزِ زہرا فاؤنڈیشن کی بانیہ افراح عصمت قادریہ صاحبہ کی مسلسل کوشش یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ معاشرتی اصلاح کے لئے ہمیشہ بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک فرد کی نیت، ایک چھوٹی کوشش اور ایک درست قدم بھی کئی خاندانوں کے لئے آسانی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ضرورت مند خاندان کی مالی مدد، کسی غیر ضروری رسم سے دستبرداری یا سادہ نکاح کا فیصلہ بھی معاشرتی اصلاح کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
اس کاوش کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مزید خاندان کہیں کہ وہ بھی اپنی بیٹیوں کی شادی سادگی سے کریں گے، نوجوان غیر ضروری مطالبات سے انکار کریں گے اور صاحبِ استطاعت افراد ضرورت مند خاندانوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے۔ تب یہ اکتیس نکاح صرف اکتیس خاندانوں کی خوشی نہیں رہیں گے بلکہ ایک مثبت معاشرتی سوچ کے آغاز کی علامت بن جائیں گے۔
کشمیر کو ایسی مثالوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں بیٹی کی شادی والدین کے لئے خوف اور مالی آزمائش نہ ہو، سادہ نکاح کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور کسی غریب خاندان کو اس لئے شرمندہ نہ کیا جائے کہ وہ مہنگی شادی نہیں کر سکتا۔ شوپیاں میں اکتیس بیٹیوں کے نکاح اسی بڑے خواب کی طرف ایک چھوٹا مگر معنی خیز قدم ہیں۔
ہمیں صرف مبارک باد دے کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے بلکہ اس واقعے کے پیغام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہیے۔ نکاح آسان کریں، رسموں کا بوجھ کم کریں، دکھاوے کو ختم کریں، غیر ضروری مطالبات سے گریز کریں اور بیٹیوں کے لئے آسانی پیدا کریں۔
اکتیس بیٹیاں آج اپنے نئے سفر پر روانہ ہوئی ہیں؛ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی یہ خوشی ہمارے معاشرے میں ایک نئی اور مثبت سوچ کا آغاز بھی بنے۔ کنیزِ زہرا فاؤنڈیشن کی بانیہ محترمہ افراح عصمت قادریہ صاحبہ اور پوری ٹیم اس قابلِ قدر اور انسان دوست کاوش پر مبارک باد اور خصوصی تحسین کی مستحق ہیں۔


