حجاب: سورۃ النور آیت 30 اور 31 کی روشنی میں

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

حجاب کے لغوی معنی پردہ، اوٹ، نقاب، حیا، شرم اور لحاظ ہیں۔ اسی طرح ’’حجاب اٹھنا‘‘ کے معنی ہیں: پردہ اٹھنا، روک ہٹ جانا اور شرم نہ ہونا۔

قرآنِ حکیم سورۃ النور آیت (30) میں پہلے مومن مردوں سے کہا گیا ہے کہ: ’’کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، یقیناً اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے مردوں کو حجاب کا حکم دیتا ہے، اس کے بعد عورتوں کے حجاب کے بارے میں فرماتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اگر کہیں حجاب کا ذکر کرنا ہوتا ہے تو صرف عورتوں کا ذکر چھیڑا جاتا ہے، جبکہ مردوں کو حجاب کرنے سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔ کیا صرف عورت حجاب کے لئے مخصوص کی گئی ہے اور مرد کو بری قرار دیا گیا ہے؟
آئے روز نئے نئے اسکینڈلز معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں، جن میں اکثر مرد حضرات ہی ملوث پائے جاتے ہیں اور الزام عورت پر لگایا جاتا ہے کہ فحش ہے، بے حجاب گھومتی پھرتی ہے۔ کیا مرد نے کسی غیر محرم پر اچانک نظر پڑتے ہی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں؟ بلکہ عورت کے حسن و جمال کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔
اللہ بہت بڑا حکمت والا ہے، اسی لئے اپنے کلام میں پہلے مردوں کے حجاب کے بارے میں فرماتا ہے، لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں، خود کا محاسبہ نہیں کیا ہے۔ اگر مرد اپنے حجاب میں رہ کر زندگی گزاریں تو معاشرہ خود بخود صاف ستھرا تشکیل پا سکتا ہے اور کبھی فحاشی، عریانی اور بے راہ روی کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔

اسی طرح مذکورہ سورۃ کی آیت (31) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اپنی زینت کا اظہار نہ کریں اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے بکل مار لیا کریں۔‘‘
آیت پر غور کریں تو فرمایا گیا ہے کہ عورتوں سے بھی کہہ دیجیے۔ الغرض، سب سے پہلے مردوں کے حجاب کا حکم دیا گیا ہے، اس کے بعد عورتوں کا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شوپیاں میں پولیس کا گرلز بیڈمنٹن ٹورنامنٹ اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑنے،...

شمالی کشمیر خواتین کھیل میلے میں 900 سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت

جنگ نیوز ڈیسک سوپور/گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن سوپور میں...

بھارت کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار

روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 میں شروع...

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

تازہ ترین خبریں

شوپیاں میں پولیس کا گرلز بیڈمنٹن ٹورنامنٹ اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑنے،...

شمالی کشمیر خواتین کھیل میلے میں 900 سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت

جنگ نیوز ڈیسک سوپور/گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن سوپور میں...

بھارت کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار

روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 میں شروع...

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

حجاب: سورۃ النور آیت 30 اور 31 کی روشنی میں

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

حجاب کے لغوی معنی پردہ، اوٹ، نقاب، حیا، شرم اور لحاظ ہیں۔ اسی طرح ’’حجاب اٹھنا‘‘ کے معنی ہیں: پردہ اٹھنا، روک ہٹ جانا اور شرم نہ ہونا۔

قرآنِ حکیم سورۃ النور آیت (30) میں پہلے مومن مردوں سے کہا گیا ہے کہ: ’’کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، یقیناً اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے مردوں کو حجاب کا حکم دیتا ہے، اس کے بعد عورتوں کے حجاب کے بارے میں فرماتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اگر کہیں حجاب کا ذکر کرنا ہوتا ہے تو صرف عورتوں کا ذکر چھیڑا جاتا ہے، جبکہ مردوں کو حجاب کرنے سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔ کیا صرف عورت حجاب کے لئے مخصوص کی گئی ہے اور مرد کو بری قرار دیا گیا ہے؟
آئے روز نئے نئے اسکینڈلز معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں، جن میں اکثر مرد حضرات ہی ملوث پائے جاتے ہیں اور الزام عورت پر لگایا جاتا ہے کہ فحش ہے، بے حجاب گھومتی پھرتی ہے۔ کیا مرد نے کسی غیر محرم پر اچانک نظر پڑتے ہی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں؟ بلکہ عورت کے حسن و جمال کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔
اللہ بہت بڑا حکمت والا ہے، اسی لئے اپنے کلام میں پہلے مردوں کے حجاب کے بارے میں فرماتا ہے، لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں، خود کا محاسبہ نہیں کیا ہے۔ اگر مرد اپنے حجاب میں رہ کر زندگی گزاریں تو معاشرہ خود بخود صاف ستھرا تشکیل پا سکتا ہے اور کبھی فحاشی، عریانی اور بے راہ روی کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔

اسی طرح مذکورہ سورۃ کی آیت (31) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اپنی زینت کا اظہار نہ کریں اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے بکل مار لیا کریں۔‘‘
آیت پر غور کریں تو فرمایا گیا ہے کہ عورتوں سے بھی کہہ دیجیے۔ الغرض، سب سے پہلے مردوں کے حجاب کا حکم دیا گیا ہے، اس کے بعد عورتوں کا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں