روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ نے صرف یورپ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن، خوراک، توانائی اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بھارت کا محض امن کی اپیل کرنے سے آگے بڑھ کر دونوں فریقوں کے درمیان عملی سفارتی رابطے کی کوشش کرنا عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے جنگ کے ابتدائی دور ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے کہا تھا کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے‘‘۔ اب صورت حال یہ ہے کہ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا کے مطابق کیف کو موصول ہونے والی تجاویز میں بھارت کی تجویز سب سے زیادہ جامع ہے، جبکہ صدر پوتن نے بھی کہا ہے کہ مودی مسلسل جنگ کے خاتمے کا مسئلہ اٹھاتے ہیں اور ان کے پاس ’’بہت اچھے خیالات‘‘ ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی واضح کیا ہے کہ بھارت محض امن کی وکالت تک محدود نہیں بلکہ روس اور یوکرین دونوں سے بات چیت کررہا ہے۔
یہ تبدیلی محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ جنگ کا کوئی مستقل حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر تلاش کرنا ہوگا۔ تاہم بھارت کے لئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی رسائی اور دونوں جانب موجود سفارتی روابط کو کس طرح نتیجہ خیز مذاکرات میں تبدیل کرسکتا ہے۔اس جنگ کے اثرات براہِ راست عالمی خوراک اور توانائی کے تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرین دونوں اناج کے بڑے برآمد کنندگان ہیں اور بندرگاہوں، جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی رسد کے خدشات بڑھائے ہیں۔ بلیک سی میں کشیدگی سے اناج کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف یورپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ، بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ بھارت نے اسی تناظر میں خوراک، کھاد اور توانائی کے تحفظ کو اہمیت دی ہے۔
اسی لئے بھارت کو وسیع اور پیچیدہ سیاسی سوالات کے ساتھ ساتھ ایسے عملی معاملات پر توجہ دینی چاہیے جن پر دونوں فریق فوری طور پر اتفاق کرسکتے ہیں۔ اناج کی ترسیل، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ، بحیرۂ اسود میں تجارتی جہاز رانی اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ایسے شعبے ہیں جہاں محدود پیش رفت بھی وسیع تر مذاکرات کے لئے اعتماد سازی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یوکرین نے بھی توانائی اور زرعی شعبے سے متعلق جنگ بندی اور بلیک سی میں جنگ بندی کی تجاویز پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔بھارت کے لئے یہ کردار آسان نہیں ہوگا۔ روس کے ساتھ اس کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جبکہ یوکرین اور مغربی ممالک کے اپنے مفادات اور تحفظات ہیں۔ روس سے بھارتی تیل کی خریداری نے بھی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بعض اوقات حساسیت پیدا کی ہے۔ ایسے ماحول میں بھارت کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کی سفارت کاری عملی طور پر بھی متوازن دکھائی دے اور اسے کسی ایک فریق کی حمایت کے طور پر نہ دیکھا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کے پاس روس یا یوکرین پر امریکہ یا چین جتنا اثر و رسوخ نہیں۔ لیکن سفارت کاری ہمیشہ طاقت کے حجم سے نہیں، بعض اوقات اعتماد، رابطے اور مسلسل مکالمے سے بھی آگے بڑھتی ہے۔ بھارت اگر دونوں فریقوں کو مذاکرات کی طرف لانے میں محدود ہی سہی، مگر قابلِ عمل کردار ادا کرتا ہے تو یہ عالمی امن کے لئے مفید ہوگا۔
بھارت کے لئے اصل امتحان اب یہ ہے کہ ’’جنگ نہیں، امن کا دور‘‘ کی اپیل کو عملی سفارت کاری میں کس حد تک تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر نئی دہلی اناج، توانائی، جہاز رانی اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی جیسے قابلِ عمل معاملات سے آغاز کرتے ہوئے وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرسکے تو اس کی سفارتی کوششیں محض بیانات نہیں رہیں گی بلکہ امن کے ایک ممکنہ راستے کا حصہ بن سکتی ہیں۔
بھارت کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار
بھارت کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار
روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ نے صرف یورپ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن، خوراک، توانائی اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بھارت کا محض امن کی اپیل کرنے سے آگے بڑھ کر دونوں فریقوں کے درمیان عملی سفارتی رابطے کی کوشش کرنا عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے جنگ کے ابتدائی دور ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے کہا تھا کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے‘‘۔ اب صورت حال یہ ہے کہ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا کے مطابق کیف کو موصول ہونے والی تجاویز میں بھارت کی تجویز سب سے زیادہ جامع ہے، جبکہ صدر پوتن نے بھی کہا ہے کہ مودی مسلسل جنگ کے خاتمے کا مسئلہ اٹھاتے ہیں اور ان کے پاس ’’بہت اچھے خیالات‘‘ ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی واضح کیا ہے کہ بھارت محض امن کی وکالت تک محدود نہیں بلکہ روس اور یوکرین دونوں سے بات چیت کررہا ہے۔
یہ تبدیلی محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ جنگ کا کوئی مستقل حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر تلاش کرنا ہوگا۔ تاہم بھارت کے لئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی رسائی اور دونوں جانب موجود سفارتی روابط کو کس طرح نتیجہ خیز مذاکرات میں تبدیل کرسکتا ہے۔اس جنگ کے اثرات براہِ راست عالمی خوراک اور توانائی کے تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرین دونوں اناج کے بڑے برآمد کنندگان ہیں اور بندرگاہوں، جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی رسد کے خدشات بڑھائے ہیں۔ بلیک سی میں کشیدگی سے اناج کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف یورپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ، بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ بھارت نے اسی تناظر میں خوراک، کھاد اور توانائی کے تحفظ کو اہمیت دی ہے۔
اسی لئے بھارت کو وسیع اور پیچیدہ سیاسی سوالات کے ساتھ ساتھ ایسے عملی معاملات پر توجہ دینی چاہیے جن پر دونوں فریق فوری طور پر اتفاق کرسکتے ہیں۔ اناج کی ترسیل، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ، بحیرۂ اسود میں تجارتی جہاز رانی اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ایسے شعبے ہیں جہاں محدود پیش رفت بھی وسیع تر مذاکرات کے لئے اعتماد سازی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یوکرین نے بھی توانائی اور زرعی شعبے سے متعلق جنگ بندی اور بلیک سی میں جنگ بندی کی تجاویز پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔بھارت کے لئے یہ کردار آسان نہیں ہوگا۔ روس کے ساتھ اس کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جبکہ یوکرین اور مغربی ممالک کے اپنے مفادات اور تحفظات ہیں۔ روس سے بھارتی تیل کی خریداری نے بھی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بعض اوقات حساسیت پیدا کی ہے۔ ایسے ماحول میں بھارت کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کی سفارت کاری عملی طور پر بھی متوازن دکھائی دے اور اسے کسی ایک فریق کی حمایت کے طور پر نہ دیکھا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کے پاس روس یا یوکرین پر امریکہ یا چین جتنا اثر و رسوخ نہیں۔ لیکن سفارت کاری ہمیشہ طاقت کے حجم سے نہیں، بعض اوقات اعتماد، رابطے اور مسلسل مکالمے سے بھی آگے بڑھتی ہے۔ بھارت اگر دونوں فریقوں کو مذاکرات کی طرف لانے میں محدود ہی سہی، مگر قابلِ عمل کردار ادا کرتا ہے تو یہ عالمی امن کے لئے مفید ہوگا۔
بھارت کے لئے اصل امتحان اب یہ ہے کہ ’’جنگ نہیں، امن کا دور‘‘ کی اپیل کو عملی سفارت کاری میں کس حد تک تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر نئی دہلی اناج، توانائی، جہاز رانی اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی جیسے قابلِ عمل معاملات سے آغاز کرتے ہوئے وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرسکے تو اس کی سفارتی کوششیں محض بیانات نہیں رہیں گی بلکہ امن کے ایک ممکنہ راستے کا حصہ بن سکتی ہیں۔


