
پیر اقبال رشید
گزشتہ ہفتے پی ایم شری حکومت بوائز ہائی سکول دردسن، زون کرالہ پورہ کے اسٹاف اور طلبہ کے ہمراہ سادھنا کیفی، کرناہ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ سفر محض ایک سیر و تفریح نہیں تھا بلکہ قدرت کے حسین مناظر، پہاڑی راستوں اور وادیٔ کرناہ کی دلکشی کو قریب سے دیکھنے کا ایک یادگار تجربہ بھی ثابت ہوا۔
پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہماری بسیں صبح تقریباً آٹھ بجے اسکول سے روانہ ہوئیں۔ سفر کا آغاز ہوا تو راستے میں کرالہ پورہ کے مصروف بازار، بٹہ پورہ کی چڑھائی، راوتھ پورہ کی وڈر، پنزگام کی ناہموار اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور سڑکیں اور چوکی بل سے آگے کے دلکش مناظر ہمارے سفر کو مزید دلچسپ بناتے گئے۔
بس میں موجود بچے خاصے پُرجوش تھے۔ کہیں قہقہے گونج رہے تھے، کہیں بچے کھڑکیوں سے باہر جھانک کر قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اساتذہ بھی بچوں کی خوشی میں شریک تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سفر محض ایک منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ راستے کے ہر موڑ پر ایک نئی خوبصورتی دریافت کرنے کا سفر ہے۔
قدرت کا شاہکار—سادھنا کیفی
جوں ہی ہماری بس ٹی پی سے آگے کی جانب روانہ ہوئی، اچانک منظرنامہ ہی بدل گیا۔ دل کی دھڑکنیں جیسے ایک لمحے کے لیے تھم سی گئیں۔ پہاڑوں کی بلندیاں، گہری وادیاں، بادلوں کی قربت اور چاروں طرف پھیلی قدرتی خوبصورتی دیکھ کر بے اختیار زبان سے نکلا:
واہ! کیا نظارہ ہے!
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قدرت نے اپنے تمام رنگ اسی مقام پر بکھیر دیے ہوں۔ راستے کا ہر موڑ ایک نئی تصویر پیش کرتا اور ہر منظر ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا رہا۔ جوں جوں ہم بلندی کی طرف بڑھتے گئے، فطرت کے رنگ مزید نکھرتے گئے۔
بالآخر ہم اپنے آخری پڑاؤ، سادھنا کیفی، پہنچ گئے۔ چونکہ یہ علاقہ حساس نوعیت کا ہے اور یہاں فوجی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں، اس لیے معمول کے مطابق ہماری چیکنگ ہوئی، جس کے بعد ہم سادھنا کیفی میں داخل ہوئے۔
3150 میٹر کی بلندی پر ایک حسین دنیا
سطح سمندر سے تقریباً 3150 میٹر کی بلندی پر واقع یہ مقام اپنی خوبصورتی اور منفرد جغرافیائی ماحول کی وجہ سے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ میرے نزدیک سادھنا کیفی ان لوگوں کے لیے ایک بہترین مقام ہے جو پہاڑوں، خاموش فضا، قدرتی مناظر اور سیر و تفریح سے محبت کرتے ہیں۔
یہاں کھڑے ہو کر اردگرد کے بلند و بالا پہاڑوں اور وسیع قدرتی منظرنامے کو دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ واقعی، قدرت کی کاریگری کو اگر قریب سے دیکھنا ہو تو ایسے مقامات کا سفر ضرور کرنا چاہیے۔
یہاں موجود سہولیات اور گرم گرم چائے و کھانے پینے کی اشیاء نے سرد موسم میں سفر کی تھکن کو کافی حد تک دور کر دیا۔ ہم نے وہاں کافی وقت گزارا، چائے نوش کی، سموسوں سے لطف اندوز ہوئے اور بچوں نے بھی خوب انجوائے کیا۔
ماضی کی جھلکیاں بھی محفوظ
سادھنا کیفی کی ایک اور دلچسپ خصوصیت وہاں موجود قدیم اشیاء اور تاریخی نوعیت کے سامان کا محفوظ کیا جانا ہے، جو ایک طرح سے میوزیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے سیاح ان اشیاء کو دیکھ کر نہ صرف محظوظ ہوتے ہیں بلکہ اس علاقے کی تاریخ، طرزِ زندگی اور ماضی کی جھلکیوں سے بھی واقف ہوتے ہیں۔
ہماری طرح دیگر اسکولوں سے آئے ہوئے طلبہ بھی وہاں موجود تھے۔ ہر طرف بچوں کی خوشیاں، قہقہے اور سیر و تفریح کا ماحول تھا۔ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے طلبہ کا ایک ہی مقام پر جمع ہونا بھی ایک خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔
ایک یادگار تعلیمی و تفریحی سفر
یہ دورہ ہمارے طلبہ کے لیے تفریح کے ساتھ ساتھ ایک عملی تعلیمی تجربہ بھی تھا۔ کتابوں میں پڑھے گئے پہاڑ، وادیاں، موسم، بلندی اور قدرتی ماحول جب اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقت کی شکل میں نظر آئیں تو ان کا مشاہدہ یقیناً بچوں کے لیے زیادہ مؤثر اور یادگار بن جاتا ہے۔
ایسے مطالعاتی و تفریحی دورے بچوں کی ذہنی نشوونما، مشاہدے کی صلاحیت، باہمی تعاون اور قدرت سے محبت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سادھنا کیفی سے واپسی کا سفر شروع ہوا تو اگرچہ جسم تھکا ہوا تھا، لیکن دل خوبصورت یادوں سے بھرا ہوا تھا۔ بچوں کے چہروں پر خوشی، اساتذہ کے چہروں پر اطمینان اور ذہن میں قدرت کے حسین مناظر اس سفر کو ایک ناقابلِ فراموش تجربہ بنا چکے تھے۔
سادھنا کیفی واقعی ایک ایسی جگہ ہے جسے پہاڑوں اور قدرتی حسن سے محبت کرنے والے ہر شخص کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہیے۔ یہاں کی بلندی، خاموشی، ٹھنڈی ہوائیں اور دلکش مناظر انسان کو روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے نکال کر قدرت کے قریب لے جاتے ہیں۔
یہ سفر ختم ضرور ہوا، مگر اس کے حسین مناظر، بچوں کی مسکراہٹیں اور سادھنا کیفی کی بلندیوں پر گزارے ہوئے وہ چند گھنٹے مدتوں ہماری یادوں میں زندہ رہیں گے۔


