
جاوید قسیم
اب نہ کچھ سوال کر
صرف عرضِ حال کر
تخت سارے ہل اٹھیں
اس قدر وبال کر
رب نے بھیجا آپ (ص) کو
روشنی میں ڈھال کر
ہم نے تیرے پاؤں میں
دل رکھا نکال کر
اب تو نیند بھی گئی
اب تو کچھ کمال کر
چاند نے بدن ترا
رکھ دیا اُجال کر
اپنے عدل میں ذرا
کچھ تو اعتدال کر
دل تو ہے بچا ہوا
رکھ اسے سمہال کر
اِک فقیر چل دیا


