
محشر مبشر ماگرے
دربدر دربدر گئے تھے لوگ
اُن کی صورت پہ مر گئے تھے لوگ
وحشتوں سے بھری تھی یہ دنیا
اپنے سایے سے ڈر گئے تھے لوگ
بس جنازے میں بارہا دیکھے
پھر نہ جانے کدھر گئے تھے لوگ
زندگی میں کسی نے کب چاہا
مر کے تعریف کر گئے تھے لوگ
میرے دل سے اتر رہا تھا تو
تیرے دل میں اتر گئے تھے لوگ
مجھ کو محشر میرے قریب تریں
کتنے اپنے گزر گئے تھے لوگ


