مودی کا دور: حاشیے پر پڑے لوگوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی جانب قدم

 

 

رام ناتھ کووند
سابق صد ر ہند

مودی کے دور کی سب سے نمایاں اور دیرپا حصولیابی شاید کسی ایک سڑک، اسکیم، اصلاح یا بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سے ظاہرنہ ہو۔ اس کی اصل اہمیت اس سے کہیں زیادہ جامع تبدیلی میں پوشیدہ ہے، جو ہندوستان کے مرکزی دھارے کو ہی وسیع تر بنانے میں مضمر ہے۔میں نے 2017 سے 2022 تک صدر جمہوریۂ ہند کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے دوران، پانچ برس تک انہیں بحیثیت وزیر اعظم قریب سے دیکھا۔ اسی تجربے اور عوامی زندگی میں ان کے ساتھ اپنی رفاقت کی بنیاد پر، میں ان کی سالگرہ کے موقع پر اپنے چند خیالات پیش کرنا چاہتا ہوں۔اکتوبر 2001 میں گجرات کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے سے لے کر 2014 میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے تک، منتخب حکومت کی قیادت کرتے ہوئے 25 برس سے زائد عرصے میں وزیر اعظم مودی نے مسلسل ایک سادہ مگر انقلابی تصور :’سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘کو آگے بڑھایا ہے۔
اس نظریے کے مرکز میں ایک اور تصور بھی ہے، جو شمولیت پر مبنی ان کی سیاست کی شناخت بن چکا ہے: جس کو کسی نے نہیں پوچھا، اس کو مودی نے پوجا۔جو لوگ اب تک ان سنے، ان دیکھے یا مناسب سہولتوں سے محروم رہے تھے، انہیں ہندوستان کی ترقی کی داستان سے مزید محروم نہیں رہنا تھا۔ شاید جناب مودی کے دور کی سب سے اہم تبدیلی یہی ہے کہ صرف ترقی کو حاشیے پر پڑے لوگوں تک پہنچانا ہی نہیں، بلکہ حاشیے پر پڑے لوگوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہے۔
توجہ کامرکز کون ہو ، اس تصور کو از سرنو تشکیل دینا

آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ہندوستان کی ترقی کے تصور میں ایک غیر اعلانیہ مرکز اور حاشیہ موجود رہا۔ کچھ خطے بہت دور سمجھے جاتے تھے۔ کچھ گاؤں اس قدر دور دراز تھے کہ وہاں سرکاری سہولتوں اور خدمات کا پورا فائدہ نہیں پہنچ پاتا تھا۔ کچھ لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کو قومی گفتگو میں محض اس لیے جگہ نہیں مل پاتی تھی کہ انہیں سنا ہی نہیں جاتا تھا۔
مودی حکومت نے اس صورت حال کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔
اب حکمرانی کی سوچ بتدریج منتخب افراد یا جگہ کے بجائے ہر مستحق تک رسائی، اخراج کے بجائے شمولیت اور محض حق دینے کے بجائے بااختیار بنانے پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہ گیا ہے کہ حکومت نے کوئی پروگرام شروع کیا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جس شخص تک اس پروگرام کا فائدہ پہنچنے کا امکان سب سے کم تھا، کیا وہ بھی حقیقت میں اس سے مستفید ہوا ہے؟
اس تبدیلی کی سب سے بہتر عکاسی کرنے والی مثالوں میں شمال مشرقی خطہ سب سے نمایاں ہے۔
کئی دہائیوں تک شمال مشرقی خطے کو اکثر ہندوستان کے ایک دور دراز اور حاشیے پر واقع علاقے کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ وزیر اعظم مودی کے دور میں اسے بتدریج ہندوستان کے آگے بڑھتے ہوئے خطے اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے گیٹ وے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نومبر 2014 سے اب تک اس خطے کے 83 سے زیادہ دورے کر چکے ہیں۔ ان دوروں کے ساتھ خطے میں رابطے، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور امن کے لیے مسلسل اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اس خطے میں 12 بڑے امن معاہدے ہوئے ہیں، جبکہ15-2014 سے 25-2026 کے درمیان اس کی ترقی کے لیے 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مختص کیے گئے، جو اس سے گزشتہ دہائی میں مختص کیے گئے تقریباً 4.1 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

شمال مشرقی خطے کے بنیادی ڈھانچے کا نقشہ بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ بوگی بیل پل اور سیلا سرنگ نے جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میزورم کو بائرا بی۔ سیرانگ ریلوے لائن کے افتتاح کے ساتھ پہلی بار ہندوستان کے دیگر حصوں سے براہ راست ریل رابطہ حاصل ہوا۔ ناگالینڈ میں آزادی کے بعد پہلی بار ریلوے اسٹیشن قائم ہوا۔ ایمس گوہاٹی شمال مشرقی خطے کا پہلا ایمس بنا۔
آسام میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا قیام اس سے بھی زیادہ حوصلہ مند تصور کی عکاسی کرتا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں میں سے ایک ایسے خطے میں بھی قائم ہو سکتی ہے، جسے کبھی بنیادی طور پر اس کے جغرافیائی اعتبار سے دور دراز ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ سمجھا جاتا تھا۔
’جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے واقع’ آخری گاؤں‘ کو ’ پہلے گاؤں ‘ کے طور پر سمجھنا
یہی نقطۂ نظر ہندوستان کی سرحدوں کے ساتھ واقع علاقوں میں بھی نظر آتا ہے۔

کئی برسوں تک دور دراز بستیوں کو عام طور پر ملک کے ’آخری گاؤں‘ کہا جاتا رہا۔ مودی حکومت نے جان بوجھ کر اس تصور اور اصطلاح اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے پیچھے موجود حکومتی ترجیح، کو بدلنے کی کوشش کی۔ اب انہیں ہندوستان کے ’پہلے گاؤں‘ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
’وائبرنٹ ولیجز پروگرام‘ نے سڑکوں، رابطے، سیاحت، روزگار کے مواقع اور بنیادی ضروری خدمات کے ذریعے دور دراز سرحدی علاقوں میں اس تصور کو عملی اور ادارہ جاتی شکل دی ہے۔
اس اصول کو ملک کے اندرونی علاقوں تک بھی ’امنگوں والے اضلاع پروگرام‘ کے ذریعے توسیع دی گئی ہے۔ تاریخی طور پر پسماندہ 112 اضلاع کو ہمیشہ پیچھے رہ جانے والے اضلاع تسلیم کر لینے کے بجائے، اس پروگرام کے تحت قابل پیمائش نتائج، مختلف منصوبوں اور پروگراموں کے درمیان بہتر تال میل اور مسابقتی ترقی کا طریقہ اپنایا گیا، تاکہ صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع کے شعبوں میں ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔
سال 2023 میں اسی طریقۂ کار کو انتظامی نظام کی مزیدنچلی سطح تک ’امنگوں والے بلاکس پروگرام‘ کے ذریعے پہنچایا گیا، جس کے تحت 329 اضلاع کے 500 بلاکس کو شامل کیا گیا۔
پیغام بالکل واضح ہے: جغرافیائی محل وقوع کسی علاقے کی مستقل محرومی کی وجہ نہیں بن سکتا۔
جب قبائلی برادریاں ترقی کی ترجیح بن گئیں

قبائلی برادریوں کے معاملے میں بھی یہی سوچ نظر آتی ہے۔
اب توجہ وقتی اور محدود فلاحی اقدامات سے ہٹ کر مسلسل، ہدف پر مبنی اور حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کی مشترکہ کوششوں کی جانب منتقل ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قبائلی امور کی وزارت کے بجٹ میں 243 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی ایم-جَن من ملک کے تمام 75 خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تحت مکانات، سڑکوں، پانی، صحت کی سہولتوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان نے اسی سوچ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے قبائلی اکثریتی گاؤں اور خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں(پی وی ٹی جی) کی بستیوں میں طویل عرصے سے موجود بنیادی سہولتوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے حکومت کے مختلف محکموں کی مربوط کوششوں کو فروغ دیا ہے۔
اس خیال کا مقصد صرف حاشیے پر پڑے لوگوں کو فلاحی سہولتیں فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ انہیں ایسی صلاحیتیں اور مواقع فراہم کرنا ہے، جن کے ذریعے وہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں بھرپور طور پر حصہ لے سکیں۔
آخری فرد تک رسائی کو مقدم رکھنا
پہلے مالی نظام سے باہر رہنے والے کنبوں کو59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتوں نے باقاعدہ مالیاتی نظام سے جوڑ دیا ہے۔ براہ راست فائدہ منتقلی کے نظام نے سرکاری امداد کو براہ راست مستفدین تک پہنچانے میں مدد کی ہے اور رقوم کے ضائع ہونے یا غلط جگہ جانے کے راستے بند کرکے اب تک مجموعی طور پر 5.14 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت میں بھی تعاون کیا ہے۔

مالی شمولیت کے اس وسیع دائرے کے ساتھ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ ’سوبھاگیہ‘ کے ذریعے دیہی علاقوں میں 100 فیصد بجلی کاری کا ہدف حاصل کیا گیا۔ ’اجّولا‘ کے تحت 10 کروڑ سے زیادہ کنبوں کو صاف ستھرا کھانا پکانے کا ایندھن فراہم کیا گیا ہے۔ ’جل جیون مشن‘ کے ذریعے 13 کروڑ دیہی کنبوں کو نل کے ذریعے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ان تمام پروگراموں کے پیچھے ایک ہی بنیادی اصول کارفرما ہے۔ سہولیات سے محروم رہنے شخص کی نشاندہی کی جائےاور حکمرانی کے فوائد اس تک پہنچائے جائیں۔
یہی ’مکمل رسائی‘ کا عملی مفہوم ہے۔
اب مقصد صرف یہ نہیں رہا کہ کوئی فلاحی اسکیم موجود ہو، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اہل شخص اس سے مستفید ہو ۔
خواتین کی ترقی سے خواتین کی قیادت میں ترقی تک
خواتین کے معاملے میں بھی یہ تبدیلی یکساں طور پرنمایاں ہے۔
نسل در نسل خواتین کو اکثر بنیادی طور پر فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ مودی حکومت کے وسیع تر اقدامات نےمحض مستفیدین سے شراکت داروں تک، فوائد حاصل کرنے والوں سے کاروباری افراد تک اور ترقی کے عمل میں حصہ لینے والوں سے بڑھ کر ترقی کی قیادت کرنے والی خواتین تک کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

سوچھ بھارت مشن نے خواتین کے وقار، تحفظ اور صحت سے گہرا تعلق رکھنے والے بڑے مسئلے کو حل کیا۔ مدرا نے خواتین کو غیر معمولی پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل بنایا ہے، جس میں خواتین کے حصے میں مدرا کےمجموعی قرضوں کی 68 فیصد حصہ داری ہے۔ پردھان منتری سواندھی کے مستفیدین میں بھی خواتین کا حصہ 46 فیصد ہے۔ لکھ پتی دیدی پہل، دیہی تبدیلی کے مرکز میں خواتین کو معاشی طورپر بااختیار بنانے کو اہمیت دیتی ہے۔
یہ دراصل اسی اصول کی ایک مختلف شکل ہے-جوایک ایسے طبقے کو، جسے تاریخی طور پر مستفیدین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، قومی ترقی کے مرکز میں لانے کی کوشش ہے۔
’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا حقیقی مفہوم

اگر شمال مشرقی خطے، قبائلی برادریوں، سرحدی دیہات، خواتین، دیہی کنبوں اور مالی طور پر محروم شہریوں کو الگ الگ دیکھا جائے تو یہ مختلف پالیسی چیلنجز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
لیکن اگر انہیں ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ مودی حکومت کے طرز حکمرانی کے فلسفے کے وسیع تر ڈھانچے کو ظاہر کرتے ہیں۔
’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ دراصل شراکت کے دائرے کو وسیع کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ حکمرانی کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے: کون ابھی تک پہنچ سے باہر ہے؟ کس کی آواز ابھی تک نہیں سنی گئی؟ بڑھتے ہوئے ہندوستان میں مواقع کے دائرے سے کون اب بھی باہر رہ گیا ہے؟
اس کے بعد ان سوالات کے جوابات کی بنیاد پر اقدامات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں حاشیے پر موجود طبقات مرکز کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
وکست بھارت کے لیے ایک وسیع تر قومی دھارا
چنانچہ مودی دور کی سب سے نمایاں میراث، ہندوستان کے قومی دھارے کا یہی نیا تصور ہے۔
اب ترقی کو محض ایسی چیز نہیں سمجھا جاتا جو مرکز سے شروع ہو اور رفتہ رفتہ ملک کے دور دراز علاقوں اور حاشیے پر موجود لوگوں تک پہنچے۔ اب ملک کے وہ علاقے اور طبقات بھی خود ہندوستان کے ترقیاتی سفر کے مرکز کا حصہ بن رہے ہیں جو پہلے حاشیے پر سمجھے جاتے تھے۔

جب ہندوستان وکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے تو اس کا مقصد صرف ایک بڑی معیشت، مضبوط بنیادی ڈھانچے کا وسیع نیٹ ورک یا زیادہ مؤثر حکومتی نظام قائم کرنا نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ بھی ہے کہ جو ہندوستان تعمیر ہو رہا ہے، اس میں ان لوگوں کی بھی برابر کی شمولیت ہو جو کبھی ملک کی ترقی کی داستان میں سب سے کم نمایاں رہے ہیں۔
آخرکار ترقی کی سب سے بڑی کسوٹی یہ نہیں کہ ترقی کی بلندی کتنی بڑھ گئی، بلکہ یہ ہے کہ اس ترقی کے دائرے میں کتنے زیادہ لوگوں کو شامل کیا گیا۔
یہی مودی دور کا بنیادی تصور ہے:

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

مودی کا دور: حاشیے پر پڑے لوگوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی جانب قدم

 

 

رام ناتھ کووند
سابق صد ر ہند

مودی کے دور کی سب سے نمایاں اور دیرپا حصولیابی شاید کسی ایک سڑک، اسکیم، اصلاح یا بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سے ظاہرنہ ہو۔ اس کی اصل اہمیت اس سے کہیں زیادہ جامع تبدیلی میں پوشیدہ ہے، جو ہندوستان کے مرکزی دھارے کو ہی وسیع تر بنانے میں مضمر ہے۔میں نے 2017 سے 2022 تک صدر جمہوریۂ ہند کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے دوران، پانچ برس تک انہیں بحیثیت وزیر اعظم قریب سے دیکھا۔ اسی تجربے اور عوامی زندگی میں ان کے ساتھ اپنی رفاقت کی بنیاد پر، میں ان کی سالگرہ کے موقع پر اپنے چند خیالات پیش کرنا چاہتا ہوں۔اکتوبر 2001 میں گجرات کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے سے لے کر 2014 میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے تک، منتخب حکومت کی قیادت کرتے ہوئے 25 برس سے زائد عرصے میں وزیر اعظم مودی نے مسلسل ایک سادہ مگر انقلابی تصور :’سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘کو آگے بڑھایا ہے۔
اس نظریے کے مرکز میں ایک اور تصور بھی ہے، جو شمولیت پر مبنی ان کی سیاست کی شناخت بن چکا ہے: جس کو کسی نے نہیں پوچھا، اس کو مودی نے پوجا۔جو لوگ اب تک ان سنے، ان دیکھے یا مناسب سہولتوں سے محروم رہے تھے، انہیں ہندوستان کی ترقی کی داستان سے مزید محروم نہیں رہنا تھا۔ شاید جناب مودی کے دور کی سب سے اہم تبدیلی یہی ہے کہ صرف ترقی کو حاشیے پر پڑے لوگوں تک پہنچانا ہی نہیں، بلکہ حاشیے پر پڑے لوگوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہے۔
توجہ کامرکز کون ہو ، اس تصور کو از سرنو تشکیل دینا

آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ہندوستان کی ترقی کے تصور میں ایک غیر اعلانیہ مرکز اور حاشیہ موجود رہا۔ کچھ خطے بہت دور سمجھے جاتے تھے۔ کچھ گاؤں اس قدر دور دراز تھے کہ وہاں سرکاری سہولتوں اور خدمات کا پورا فائدہ نہیں پہنچ پاتا تھا۔ کچھ لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کو قومی گفتگو میں محض اس لیے جگہ نہیں مل پاتی تھی کہ انہیں سنا ہی نہیں جاتا تھا۔
مودی حکومت نے اس صورت حال کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔
اب حکمرانی کی سوچ بتدریج منتخب افراد یا جگہ کے بجائے ہر مستحق تک رسائی، اخراج کے بجائے شمولیت اور محض حق دینے کے بجائے بااختیار بنانے پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہ گیا ہے کہ حکومت نے کوئی پروگرام شروع کیا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جس شخص تک اس پروگرام کا فائدہ پہنچنے کا امکان سب سے کم تھا، کیا وہ بھی حقیقت میں اس سے مستفید ہوا ہے؟
اس تبدیلی کی سب سے بہتر عکاسی کرنے والی مثالوں میں شمال مشرقی خطہ سب سے نمایاں ہے۔
کئی دہائیوں تک شمال مشرقی خطے کو اکثر ہندوستان کے ایک دور دراز اور حاشیے پر واقع علاقے کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ وزیر اعظم مودی کے دور میں اسے بتدریج ہندوستان کے آگے بڑھتے ہوئے خطے اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے گیٹ وے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نومبر 2014 سے اب تک اس خطے کے 83 سے زیادہ دورے کر چکے ہیں۔ ان دوروں کے ساتھ خطے میں رابطے، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور امن کے لیے مسلسل اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اس خطے میں 12 بڑے امن معاہدے ہوئے ہیں، جبکہ15-2014 سے 25-2026 کے درمیان اس کی ترقی کے لیے 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مختص کیے گئے، جو اس سے گزشتہ دہائی میں مختص کیے گئے تقریباً 4.1 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

شمال مشرقی خطے کے بنیادی ڈھانچے کا نقشہ بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ بوگی بیل پل اور سیلا سرنگ نے جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میزورم کو بائرا بی۔ سیرانگ ریلوے لائن کے افتتاح کے ساتھ پہلی بار ہندوستان کے دیگر حصوں سے براہ راست ریل رابطہ حاصل ہوا۔ ناگالینڈ میں آزادی کے بعد پہلی بار ریلوے اسٹیشن قائم ہوا۔ ایمس گوہاٹی شمال مشرقی خطے کا پہلا ایمس بنا۔
آسام میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا قیام اس سے بھی زیادہ حوصلہ مند تصور کی عکاسی کرتا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں میں سے ایک ایسے خطے میں بھی قائم ہو سکتی ہے، جسے کبھی بنیادی طور پر اس کے جغرافیائی اعتبار سے دور دراز ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ سمجھا جاتا تھا۔
’جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے واقع’ آخری گاؤں‘ کو ’ پہلے گاؤں ‘ کے طور پر سمجھنا
یہی نقطۂ نظر ہندوستان کی سرحدوں کے ساتھ واقع علاقوں میں بھی نظر آتا ہے۔

کئی برسوں تک دور دراز بستیوں کو عام طور پر ملک کے ’آخری گاؤں‘ کہا جاتا رہا۔ مودی حکومت نے جان بوجھ کر اس تصور اور اصطلاح اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے پیچھے موجود حکومتی ترجیح، کو بدلنے کی کوشش کی۔ اب انہیں ہندوستان کے ’پہلے گاؤں‘ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
’وائبرنٹ ولیجز پروگرام‘ نے سڑکوں، رابطے، سیاحت، روزگار کے مواقع اور بنیادی ضروری خدمات کے ذریعے دور دراز سرحدی علاقوں میں اس تصور کو عملی اور ادارہ جاتی شکل دی ہے۔
اس اصول کو ملک کے اندرونی علاقوں تک بھی ’امنگوں والے اضلاع پروگرام‘ کے ذریعے توسیع دی گئی ہے۔ تاریخی طور پر پسماندہ 112 اضلاع کو ہمیشہ پیچھے رہ جانے والے اضلاع تسلیم کر لینے کے بجائے، اس پروگرام کے تحت قابل پیمائش نتائج، مختلف منصوبوں اور پروگراموں کے درمیان بہتر تال میل اور مسابقتی ترقی کا طریقہ اپنایا گیا، تاکہ صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع کے شعبوں میں ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔
سال 2023 میں اسی طریقۂ کار کو انتظامی نظام کی مزیدنچلی سطح تک ’امنگوں والے بلاکس پروگرام‘ کے ذریعے پہنچایا گیا، جس کے تحت 329 اضلاع کے 500 بلاکس کو شامل کیا گیا۔
پیغام بالکل واضح ہے: جغرافیائی محل وقوع کسی علاقے کی مستقل محرومی کی وجہ نہیں بن سکتا۔
جب قبائلی برادریاں ترقی کی ترجیح بن گئیں

قبائلی برادریوں کے معاملے میں بھی یہی سوچ نظر آتی ہے۔
اب توجہ وقتی اور محدود فلاحی اقدامات سے ہٹ کر مسلسل، ہدف پر مبنی اور حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کی مشترکہ کوششوں کی جانب منتقل ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قبائلی امور کی وزارت کے بجٹ میں 243 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی ایم-جَن من ملک کے تمام 75 خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تحت مکانات، سڑکوں، پانی، صحت کی سہولتوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان نے اسی سوچ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے قبائلی اکثریتی گاؤں اور خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں(پی وی ٹی جی) کی بستیوں میں طویل عرصے سے موجود بنیادی سہولتوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے حکومت کے مختلف محکموں کی مربوط کوششوں کو فروغ دیا ہے۔
اس خیال کا مقصد صرف حاشیے پر پڑے لوگوں کو فلاحی سہولتیں فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ انہیں ایسی صلاحیتیں اور مواقع فراہم کرنا ہے، جن کے ذریعے وہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں بھرپور طور پر حصہ لے سکیں۔
آخری فرد تک رسائی کو مقدم رکھنا
پہلے مالی نظام سے باہر رہنے والے کنبوں کو59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتوں نے باقاعدہ مالیاتی نظام سے جوڑ دیا ہے۔ براہ راست فائدہ منتقلی کے نظام نے سرکاری امداد کو براہ راست مستفدین تک پہنچانے میں مدد کی ہے اور رقوم کے ضائع ہونے یا غلط جگہ جانے کے راستے بند کرکے اب تک مجموعی طور پر 5.14 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت میں بھی تعاون کیا ہے۔

مالی شمولیت کے اس وسیع دائرے کے ساتھ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ ’سوبھاگیہ‘ کے ذریعے دیہی علاقوں میں 100 فیصد بجلی کاری کا ہدف حاصل کیا گیا۔ ’اجّولا‘ کے تحت 10 کروڑ سے زیادہ کنبوں کو صاف ستھرا کھانا پکانے کا ایندھن فراہم کیا گیا ہے۔ ’جل جیون مشن‘ کے ذریعے 13 کروڑ دیہی کنبوں کو نل کے ذریعے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ان تمام پروگراموں کے پیچھے ایک ہی بنیادی اصول کارفرما ہے۔ سہولیات سے محروم رہنے شخص کی نشاندہی کی جائےاور حکمرانی کے فوائد اس تک پہنچائے جائیں۔
یہی ’مکمل رسائی‘ کا عملی مفہوم ہے۔
اب مقصد صرف یہ نہیں رہا کہ کوئی فلاحی اسکیم موجود ہو، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اہل شخص اس سے مستفید ہو ۔
خواتین کی ترقی سے خواتین کی قیادت میں ترقی تک
خواتین کے معاملے میں بھی یہ تبدیلی یکساں طور پرنمایاں ہے۔
نسل در نسل خواتین کو اکثر بنیادی طور پر فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ مودی حکومت کے وسیع تر اقدامات نےمحض مستفیدین سے شراکت داروں تک، فوائد حاصل کرنے والوں سے کاروباری افراد تک اور ترقی کے عمل میں حصہ لینے والوں سے بڑھ کر ترقی کی قیادت کرنے والی خواتین تک کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

سوچھ بھارت مشن نے خواتین کے وقار، تحفظ اور صحت سے گہرا تعلق رکھنے والے بڑے مسئلے کو حل کیا۔ مدرا نے خواتین کو غیر معمولی پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل بنایا ہے، جس میں خواتین کے حصے میں مدرا کےمجموعی قرضوں کی 68 فیصد حصہ داری ہے۔ پردھان منتری سواندھی کے مستفیدین میں بھی خواتین کا حصہ 46 فیصد ہے۔ لکھ پتی دیدی پہل، دیہی تبدیلی کے مرکز میں خواتین کو معاشی طورپر بااختیار بنانے کو اہمیت دیتی ہے۔
یہ دراصل اسی اصول کی ایک مختلف شکل ہے-جوایک ایسے طبقے کو، جسے تاریخی طور پر مستفیدین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، قومی ترقی کے مرکز میں لانے کی کوشش ہے۔
’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا حقیقی مفہوم

اگر شمال مشرقی خطے، قبائلی برادریوں، سرحدی دیہات، خواتین، دیہی کنبوں اور مالی طور پر محروم شہریوں کو الگ الگ دیکھا جائے تو یہ مختلف پالیسی چیلنجز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
لیکن اگر انہیں ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ مودی حکومت کے طرز حکمرانی کے فلسفے کے وسیع تر ڈھانچے کو ظاہر کرتے ہیں۔
’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ دراصل شراکت کے دائرے کو وسیع کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ حکمرانی کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے: کون ابھی تک پہنچ سے باہر ہے؟ کس کی آواز ابھی تک نہیں سنی گئی؟ بڑھتے ہوئے ہندوستان میں مواقع کے دائرے سے کون اب بھی باہر رہ گیا ہے؟
اس کے بعد ان سوالات کے جوابات کی بنیاد پر اقدامات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں حاشیے پر موجود طبقات مرکز کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
وکست بھارت کے لیے ایک وسیع تر قومی دھارا
چنانچہ مودی دور کی سب سے نمایاں میراث، ہندوستان کے قومی دھارے کا یہی نیا تصور ہے۔
اب ترقی کو محض ایسی چیز نہیں سمجھا جاتا جو مرکز سے شروع ہو اور رفتہ رفتہ ملک کے دور دراز علاقوں اور حاشیے پر موجود لوگوں تک پہنچے۔ اب ملک کے وہ علاقے اور طبقات بھی خود ہندوستان کے ترقیاتی سفر کے مرکز کا حصہ بن رہے ہیں جو پہلے حاشیے پر سمجھے جاتے تھے۔

جب ہندوستان وکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے تو اس کا مقصد صرف ایک بڑی معیشت، مضبوط بنیادی ڈھانچے کا وسیع نیٹ ورک یا زیادہ مؤثر حکومتی نظام قائم کرنا نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ بھی ہے کہ جو ہندوستان تعمیر ہو رہا ہے، اس میں ان لوگوں کی بھی برابر کی شمولیت ہو جو کبھی ملک کی ترقی کی داستان میں سب سے کم نمایاں رہے ہیں۔
آخرکار ترقی کی سب سے بڑی کسوٹی یہ نہیں کہ ترقی کی بلندی کتنی بڑھ گئی، بلکہ یہ ہے کہ اس ترقی کے دائرے میں کتنے زیادہ لوگوں کو شامل کیا گیا۔
یہی مودی دور کا بنیادی تصور ہے:

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں