
محمد اعجاز افضل
اللہ تعالی نے اس خوبصورت کائنات میں انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔انہی نعمتوں میں بیٹیاں بھی ایک عظیم نعمت ہے۔بیٹی گھر میں محبت،شفت اور خوشیوں کی روشنی لے کر آتی ہے۔
مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بعض خاندان بیٹی کی پیدائش کو بوجھ سمجھتے ہیں،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ گھر کی رونق،والدین کے لئے رحمت اور خاندان کی زینت ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے بیٹیوں کی بلوغت (جوانی) تک اچھی طرح پرورش اور دیکھ بھال کی، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا)۔“
اس حوالے سے ہمیں بیٹیوں کی اہمیت اور قدر و منزلت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
قران مجید میں اللہ تعالی نے جب اولاد کا ذکر فرمایا تو بیٹوں سے پہلے بیٹیوں کا ذکر کیا ہے۔(سورۃ الشوریٰ آیت 49)۔
قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہمیں بیٹیوں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ بعض لوگ اس حقیقت کو سمجھنے کے باوجود بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض خاندانوں میں آج بھی بیٹیوں کی پرورش بھی اس احساس کے ساتھ کی جاتی ہے کہ جلد از جلد رخصت کر دینا ہے۔ان کی تعلیم،خوابوں اور خواہشات سے زیادہ ان کی شادی کی فکر کی جاتی ہے کیونکہ ان لوگوں کو بیٹی ایک بوجھ لگتی ہے زینت نہیں اللہ کی رحمت نہیں۔
بعض خاندانوں میں بچپن سے ہی انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ والدین پر صرف ایک ذمہ داری ہے،جسے ایک دن کسی دوسرے گھر منتقل کر دینا ہے۔یہ سوچ بیٹی کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ اس کی صلاحیتوں اور خوابوں کے راستے میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
بیٹیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کی شادی جلد از جلد کروا دی جاتی ہے۔بعض اوقات انہیں تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔اور زیادہ تر لوگوں کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ ’’لڑکیوں کو زیادہ پڑھا کر کیا کرنا ہے؟ آخر ایک دن تو ان کی شادی ہی کرنی ہے۔‘‘یہ سوچ بالکل غلط ہے؛ ہمیں اور ہمارے معاشرے کو ایسی فرسودہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
بعض خاندانوں میں آج بھی لڑکیوں پر جذباتی دباؤ ڈال کر شادی کے لئے آمادہ کیا جاتا ہے۔یوں کئی بیٹیاں اپنے خواب،خواہشات اور تعلیم قربان کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
"لَا تُنْكَحُ الْأَيْمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ”.(صحیح بخاری،حدیث 5136؛ صحیح مسلم 1419)
( اردو ترجمہ)
’’بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت لئے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری لڑکی کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔‘‘
ہمیں اس سوچ کو بدلنے اور اپنے معاشرے کی اس غلط سوچ کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور گھر کی زینت سمجھا جائے اور بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ان کو محبت،عزت،تعلیم اور اپنے خواب پورے کرنے کا یکساں موقع دیا جائے۔


