یکساں سول کوڈ: سوال صرف قانون کا نہیں، شناخت کا بھی ہے

 

قاری اسحاق گورا

بھارتی سیاست میں کچھ موضوعات ایسے ہیں جو خاموش ضرور ہوجاتے ہیں، ختم نہیں ہوتے۔ وقت بدلتا ہے، حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی ترجیحات بدلتی ہیں، انتخابی موسم آتے اور جاتے ہیں، مگر بعض سوالات ہر دور میں نئے لباس کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔ یکساں سول کوڈ، یعنی Uniform Civil Code (UCC) بھی انہی سوالات میں سے ایک ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے یکساں سول کوڈ کے حوالے سے حالیہ بیانات اور اس سمت میں ریاستی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے بعد ایک بار پھر ملک کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں اس موضوع پر بحث تیز ہوئی ہے۔
کسی کے نزدیک UCC آئینی تقاضے کی تکمیل کی سمت ایک قدم ہے، کسی کے نزدیک شہری مساوات کا تقاضا، تو کسی کے لئے یہ مذہبی شخصی قوانین اور تہذیبی شناخت سے متعلق ایک حساس سوال ہے۔ بعض سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے اس کے ممکنہ اثرات، بالخصوص مسلمانوں کے عائلی قوانین اور مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔لیکن بحث کے اس شور میں ایک عجیب صورتِ حال دکھائی دیتی ہے:لفظ ایک ہے، مفہوم کئی ہیں؛ قانون ایک کہا جارہا ہے، مگر خدشات الگ الگ ہیں؛ مقصد ایک بتایا جارہا ہے، مگر ممکنہ نتائج کے بارے میں رائے مختلف ہے۔
کسی کے لئے UCC مساوات ہے، کسی کے لئے مداخلت؛ کسی کے لئے اصلاح ہے، کسی کے لئے تشویش؛ کسی کے لئے آئینی وعدہ ہے، تو کسی کے لئے مذہبی آزادی کا امتحان۔ایسے ماحول میں سب سے آسان کام نعرہ لگانا ہے، مگر سب سے مشکل کام سوال کرنا ہے۔سوال یہ نہیں کہ UCC کے حق میں کون ہے اور مخالفت میں کون؟سوال یہ ہے کہ UCC کی اصل صورت کیا ہوگی؟سوال یہ نہیں کہ سیاسی بیان کیا ہے؟سوال یہ ہے کہ قانون کی عبارت کیا کہتی ہے؟اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ:اگر قانون سب کے لئے ہوگا تو اس کے اثرات بھی کیا سب پر یکساں ہوں گے؟یہ سوال محض سیاسی نہیں، سماجی بھی ہے؛ محض قانونی نہیں، تہذیبی بھی ہے؛ محض آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہے۔
ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 44 میں ریاست کے لئے یکساں سول کوڈ کی سمت کوشش کا ذکر موجود ہے۔ اسی موضوع پر قانون کمیشن نے جون 2023 میں عوام اور متعلقہ فریقوں سے آراء طلب کی تھیں۔لیکن آئین کی ایک دفعہ کا حوالہ دے دینا پوری بحث کا اختتام نہیں، بلکہ شاید اس بحث کا آغاز ہے۔کیونکہ اسی آئینی نظام میں مذہبی آزادی بھی ہے، شہری حقوق بھی ہیں، مساوات بھی ہے اور ہندوستان کے متنوع سماجی وجود کی اپنی ایک حقیقت بھی۔لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ یکسانیت اور تنوع کے درمیان وہ لکیر کہاں کھینچی جائے جس کے ایک طرف قانون کی ضرورت ہو اور دوسری طرف انسان کے ضمیر، عقیدے اور شناخت کا احترام باقی رہے؟یہیں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
مسلمانوں کے لئے UCC کا مسئلہ اس لئے زیادہ حساس ہے کہ اسلام میں خاندان محض معاشرتی ادارہ نہیں بلکہ شریعت کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔نکاح صرف ایک معاہدہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔طلاق صرف جدائی نہیں، ایک شرعی باب ہے۔وراثت صرف جائیداد کی تقسیم نہیں، حقوق کی ادائیگی ہے۔اولاد صرف خاندان کا حصہ نہیں، امانت ہے۔اسی لئے اگر کوئی ایسا قانون آتا ہے جو نکاح، طلاق، وراثت، سرپرستی یا دیگر عائلی معاملات کے موجودہ قانونی ڈھانچے کو تبدیل کرتا ہے تو مسلمانوں کے لئے یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوگا کہ ان کے مذہبی احکام اور آئینی حقوق کی حفاظت کس طرح ہوگی۔
یہ تشویش محض سیاسی نعرہ نہیں، ایک حقیقی قانونی سوال بھی ہوسکتی ہے۔خصوصاً وراثت کا معاملہ مسلمانوں کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اسلام نے وراثت کو محض خاندانی مرضی پر نہیں چھوڑا بلکہ حصے اور اصول مقرر کیے۔ بیٹی کا حق، بیٹے کا حق، بیوی کا حق، شوہر کا حق، والدین کا حق—ہر ایک کے لئے احکام موجود ہیں۔اگر کسی یکساں قانونی نظام میں وراثت کے اصول تبدیل ہوتے ہیں تو اس کا اثر صرف عدالت کی فائل پر نہیں پڑے گا؛ اس کا اثر گھروں، زمینوں، جائیدادوں اور رشتوں تک پہنچے گا۔یہاں ایک کاغذ صرف کاغذ نہیں رہتا، حق کی سند بن جاتا ہے؛ ایک حصہ صرف حصہ نہیں رہتا، رشتے کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔اسی طرح نکاح اور طلاق کے معاملات بھی مسلمانوں کے لئے محض قانونی خانہ نہیں بلکہ دینی زندگی کا حصہ ہیں۔
اگر نکاح کے طریقۂ کار، رجسٹریشن، طلاق، نان و نفقہ، سرپرستی یا وراثت کے متعلق یکساں قانونی اصول وضع کیے جاتے ہیں تو ان کا جائزہ صرف قانونی زاویے سے نہیں بلکہ مذہبی آزادی کے آئینی پہلو سے بھی لینا ہوگا۔
لہٰذا مسلمانوں کی تشویش کو صرف سیاست کہہ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔لیکن دوسری طرف یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ UCC لازماً مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچانے کے لئے لایا جارہا ہے۔دعویٰ اپنی جگہ، دلیل اپنی جگہ؛ اندیشہ اپنی جگہ، قانون کا متن اپنی جگہ۔جب تک کسی قانون کی تمام متعلقہ دفعات اور ان کے عملی اثرات سامنے نہ ہوں، اس کے ہر ممکن نتیجے کو قطعی انجام کے طور پر بیان کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
UCC کا نام خود کسی نتیجے کی ضمانت نہیں۔اصل سوال اس کے متن، دائرۂ کار، استثناؤں اور عملی نفاذ کا ہے۔اگر قانون صرف بعض انتظامی معاملات کو یکساں بناتا ہے تو اس کے اثرات ایک نوعیت کے ہوں گے۔اگر وہ نکاح، طلاق، وراثت، گود لینے، سرپرستی اور خاندانی حقوق کے بنیادی اصولوں تک پہنچتا ہے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔اس لئے کسی بھی بحث میں صرف یہ کہنا کہ ’’یکساں قانون‘‘ آرہا ہے، کافی نہیں۔پوچھنا ہوگا:کون سا قانون؟کن معاملات میں؟کن شہریوں پر؟کس حد تک؟کن استثناؤں کے ساتھ؟اور سب سے بڑھ کر:کیا مذہبی آزادی اور شخصی حقوق کے لئے واضح حفاظتی اصول موجود ہوں گے؟یہ سوالات مخالفت نہیں، جمہوری نگرانی ہیں۔
کیا صرف مسلمان ہی متاثر ہونگے؟ اگر UCC واقعی مختلف عائلی قوانین کو ایک مشترک قانونی ڈھانچے میں لانے کی کوشش ہے تو اس کے اثرات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ہندو معاشرے میں شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور سرپرستی سے متعلق موجودہ قانونی اصول بھی کسی نہ کسی شکل میں زیرِ بحث آئیں گے۔عیسائی برادری کے اپنے عائلی قوانین اور قانونی روایات رہی ہیں۔پارسی برادری کا بھی اپنا تاریخی قانونی پس منظر ہے۔سکھ برادری اور دیگر سماجی طبقات کے لئے بھی خاندانی اور معاشرتی روایات کا سوال موجود ہے۔قبائلی معاشروں میں تو رسم و رواج اور اجتماعی شناخت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ:مسلمانوں کا کیا ہوگا؟سوال یہ بھی ہے کہ:ہندوستان کے مختلف سماجی اور مذہبی طبقات کے ساتھ کیا ہوگا؟قانون جب خاندان تک پہنچتا ہے تو وہ مذہب کا نام نہیں پوچھتا، وہ رشتے کا نام پوچھتا ہے۔وہ پوچھتا ہے:شوہر کون ہے؟بیوی کون ہے؟اولاد کس کی ہے؟وارث کون ہے؟جائیداد کس کی ہے؟سرپرستی کس کے پاس ہے؟اور حق کس کا ہے؟اسی لئے UCC کی بحث کو صرف مسلم مسئلہ بنا دینا بھی شاید مسئلے کی وسعت کم کردینا ہے۔
صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ UCC مسلمانوں کے خلاف ہے۔اور یہ بھی کافی نہیں کہ کوئی کہہ دے کہ UCC سب کے لئے برابر ہے، اس لئے اس پر سوال نہیں ہونا چاہیے۔علماء، مفتیان، وکلاء، آئینی ماہرین اور دانشوروں کو مل کر قانون کی ہر شق کا مطالعہ کرنا چاہیے۔جو چیز قرآن و سنت اور فقہ سے متعلق ہے، اس کا علمی جواب دیا جائے۔جو چیز آئین سے متعلق ہے، اس کا قانونی جواب دیا جائے۔جو چیز سماج سے متعلق ہے، اس کا سماجی جواب دیا جائے۔اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہے، وہاں اصلاح کی بات بھی اپنی زبان میں، اپنے اصولوں کے ساتھ اور دلیل کے ساتھ کی جائے۔علم کے بغیر احتجاج شور بن سکتا ہے، علم کے ساتھ آواز دلیل بن جاتی ہے۔مسلمانوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے معاشرے کے دوسرے طبقات کے حقوق کا احترام کرنا ہی اسلامی اور جمہوری رویہ ہے۔اپنا حق مانگنے کے لئے دوسرے کے حق کو مٹانا ضروری نہیں، اور دوسرے کے حق کا احترام کرنے کے لئے اپنا حق چھوڑنا بھی ضروری نہیں۔اگر حکومت UCC کو مساوات اور شہری انصاف کا ذریعہ سمجھتی ہے تو عوام کو اس کی تفصیل جاننے کا حق ہے۔
مسودہ کیا کہتا ہے؟کن قوانین کو ختم کیا جائے گا؟کن قوانین کو بدلا جائے گا؟کن معاملات کو یکساں کیا جائے گا؟کن طبقات کو استثنا حاصل ہوگا؟مذہبی آزادی کا تحفظ کس طرح ہوگا؟وراثت کے اصول کیا ہوں گے؟نکاح اور طلاق کے معاملات کیسے طے ہوں گے؟بچوں کی سرپرستی اور گود لینے کے کیا ضابطے ہوں گے؟اور سب سے بڑھ کر:کیا مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کو قانون سازی کے عمل میں مؤثر طور پر سنا جائے گا؟یہ سوال کسی حکومت کے خلاف نہیں۔یہ سوال جمہوریت کے حق میں ہے۔وضاحت اعتماد کی پہلی سیڑھی ہے۔عوام سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ صرف سیاسی تقریریں سن کر قانون کو سمجھ لیں۔قانون کتاب میں لکھا جاتا ہے، مگر اس کا اثر گھر میں دکھائی دیتا ہے۔
دراصل UCC کی پوری بحث کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو سوال یہ نہیں کہ قانون ایک ہوگا یا کئی؟اصل سوال یہ ہے کہ:ایک قانون کے اندر انصاف کی کتنی گنجائش ہوگی؟کیونکہ ایک قانون بھی ناانصافی کرسکتا ہے اور کئی قوانین کے درمیان بھی انصاف کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔اس لئے بحث کی سمت صرف ’’یکساں قانون‘‘ سے ’’منصفانہ قانون‘‘ کی طرف ہونی چاہیے۔اگر UCC کا مقصد واقعی شہری مساوات ہے تو پھر اس مساوات کا پہلا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ کسی شہری کو محض اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے کمتر نہ سمجھا جائے۔
اگر مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ ہے تو پھر عورت کو حقیقی قانونی، معاشرتی اور معاشی تحفظ ملنا چاہیے۔اگر مقصد خاندان میں انصاف ہے تو پھر مرد، عورت اور بچے—تینوں کے حقوق کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔اگر مقصد قومی یکجہتی ہے تو پھر قانون ایسا ہونا چاہیے جو اختلاف کو تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے آئینی اعتماد پیدا کرے۔
اور اگر مقصد واقعی یکساں شہری قانون ہے تو پھر اس کے مسودے، شقوں، استثناؤں اور عملی اثرات پر کھلی بحث سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ مضبوط قانون سوالوں سے نہیں ڈرتا، مضبوط قانون سوالوں کے جواب دیتا ہے۔یہاں مسلمانوں کی ذمہ داری بھی واضح ہے اور حکومت کی بھی۔مسلمان جذبات کے بجائے علم، تحقیق اور آئینی زبان میں اپنی بات رکھیں۔حکومت سیاسی اعتماد کے بجائے قانونی وضاحت کو ترجیح دے۔علماء فقہی اصولوں کو جدید قانونی سوالات کے ساتھ جوڑیں۔وکلاء آئینی پہلو سامنے لائیں۔اور معاشرہ جذباتی نعروں کے بجائے قانون کی اصل عبارت کو پڑھے۔تب شاید یہ بحث ’’کون جیتا، کون ہارا‘‘ سے نکل کر ’’کون سا حق محفوظ رہا‘‘ تک پہنچ سکے گی۔
کیونکہ قانون کا اصل امتحان پارلیمنٹ میں تالیاں نہیں، عدالت میں دلیل ہے؛قانون کا اصل امتحان ٹی وی پر نعرہ نہیں، گھر میں اس کا اثر ہے؛اور قانون کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کتنے قوانین کو ایک کردیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے کتنے مختلف انسانوں کو انصاف کا یکساں احساس دیا۔ہندوستان کی طاقت اس کی وحدت میں ہے، مگر اس وحدت کی روح اس کا تنوع بھی ہے۔لہٰذا ضرورت ایسے قانون کی ہے جو ملک کو جوڑے، مگر شناختوں کو کچلے نہیں؛جو مساوات پیدا کرے، مگر جائز حقوق کو مٹائے نہیں؛جو اصلاح کرے، مگر اعتماد کو مجروح نہ کرے؛اور جو یکسانیت لائے تو انصاف کی یکسانیت لائے، محض احکام کی نہیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ قانون کتنا یکساں ہوگا؛ سوال یہ ہے کہ انصاف کتنا بے طرف ہوگا۔قانون کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ سب کو ایک جیسا بنا دے؛ قانون کی عظمت اس میں ہے کہ وہ مختلف انسانوں کے درمیان بھی انصاف کو ایک جیسا رکھ سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

یکساں سول کوڈ: سوال صرف قانون کا نہیں، شناخت کا بھی ہے

 

قاری اسحاق گورا

بھارتی سیاست میں کچھ موضوعات ایسے ہیں جو خاموش ضرور ہوجاتے ہیں، ختم نہیں ہوتے۔ وقت بدلتا ہے، حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی ترجیحات بدلتی ہیں، انتخابی موسم آتے اور جاتے ہیں، مگر بعض سوالات ہر دور میں نئے لباس کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔ یکساں سول کوڈ، یعنی Uniform Civil Code (UCC) بھی انہی سوالات میں سے ایک ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے یکساں سول کوڈ کے حوالے سے حالیہ بیانات اور اس سمت میں ریاستی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے بعد ایک بار پھر ملک کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں اس موضوع پر بحث تیز ہوئی ہے۔
کسی کے نزدیک UCC آئینی تقاضے کی تکمیل کی سمت ایک قدم ہے، کسی کے نزدیک شہری مساوات کا تقاضا، تو کسی کے لئے یہ مذہبی شخصی قوانین اور تہذیبی شناخت سے متعلق ایک حساس سوال ہے۔ بعض سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے اس کے ممکنہ اثرات، بالخصوص مسلمانوں کے عائلی قوانین اور مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔لیکن بحث کے اس شور میں ایک عجیب صورتِ حال دکھائی دیتی ہے:لفظ ایک ہے، مفہوم کئی ہیں؛ قانون ایک کہا جارہا ہے، مگر خدشات الگ الگ ہیں؛ مقصد ایک بتایا جارہا ہے، مگر ممکنہ نتائج کے بارے میں رائے مختلف ہے۔
کسی کے لئے UCC مساوات ہے، کسی کے لئے مداخلت؛ کسی کے لئے اصلاح ہے، کسی کے لئے تشویش؛ کسی کے لئے آئینی وعدہ ہے، تو کسی کے لئے مذہبی آزادی کا امتحان۔ایسے ماحول میں سب سے آسان کام نعرہ لگانا ہے، مگر سب سے مشکل کام سوال کرنا ہے۔سوال یہ نہیں کہ UCC کے حق میں کون ہے اور مخالفت میں کون؟سوال یہ ہے کہ UCC کی اصل صورت کیا ہوگی؟سوال یہ نہیں کہ سیاسی بیان کیا ہے؟سوال یہ ہے کہ قانون کی عبارت کیا کہتی ہے؟اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ:اگر قانون سب کے لئے ہوگا تو اس کے اثرات بھی کیا سب پر یکساں ہوں گے؟یہ سوال محض سیاسی نہیں، سماجی بھی ہے؛ محض قانونی نہیں، تہذیبی بھی ہے؛ محض آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہے۔
ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 44 میں ریاست کے لئے یکساں سول کوڈ کی سمت کوشش کا ذکر موجود ہے۔ اسی موضوع پر قانون کمیشن نے جون 2023 میں عوام اور متعلقہ فریقوں سے آراء طلب کی تھیں۔لیکن آئین کی ایک دفعہ کا حوالہ دے دینا پوری بحث کا اختتام نہیں، بلکہ شاید اس بحث کا آغاز ہے۔کیونکہ اسی آئینی نظام میں مذہبی آزادی بھی ہے، شہری حقوق بھی ہیں، مساوات بھی ہے اور ہندوستان کے متنوع سماجی وجود کی اپنی ایک حقیقت بھی۔لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ یکسانیت اور تنوع کے درمیان وہ لکیر کہاں کھینچی جائے جس کے ایک طرف قانون کی ضرورت ہو اور دوسری طرف انسان کے ضمیر، عقیدے اور شناخت کا احترام باقی رہے؟یہیں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
مسلمانوں کے لئے UCC کا مسئلہ اس لئے زیادہ حساس ہے کہ اسلام میں خاندان محض معاشرتی ادارہ نہیں بلکہ شریعت کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔نکاح صرف ایک معاہدہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔طلاق صرف جدائی نہیں، ایک شرعی باب ہے۔وراثت صرف جائیداد کی تقسیم نہیں، حقوق کی ادائیگی ہے۔اولاد صرف خاندان کا حصہ نہیں، امانت ہے۔اسی لئے اگر کوئی ایسا قانون آتا ہے جو نکاح، طلاق، وراثت، سرپرستی یا دیگر عائلی معاملات کے موجودہ قانونی ڈھانچے کو تبدیل کرتا ہے تو مسلمانوں کے لئے یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوگا کہ ان کے مذہبی احکام اور آئینی حقوق کی حفاظت کس طرح ہوگی۔
یہ تشویش محض سیاسی نعرہ نہیں، ایک حقیقی قانونی سوال بھی ہوسکتی ہے۔خصوصاً وراثت کا معاملہ مسلمانوں کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اسلام نے وراثت کو محض خاندانی مرضی پر نہیں چھوڑا بلکہ حصے اور اصول مقرر کیے۔ بیٹی کا حق، بیٹے کا حق، بیوی کا حق، شوہر کا حق، والدین کا حق—ہر ایک کے لئے احکام موجود ہیں۔اگر کسی یکساں قانونی نظام میں وراثت کے اصول تبدیل ہوتے ہیں تو اس کا اثر صرف عدالت کی فائل پر نہیں پڑے گا؛ اس کا اثر گھروں، زمینوں، جائیدادوں اور رشتوں تک پہنچے گا۔یہاں ایک کاغذ صرف کاغذ نہیں رہتا، حق کی سند بن جاتا ہے؛ ایک حصہ صرف حصہ نہیں رہتا، رشتے کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔اسی طرح نکاح اور طلاق کے معاملات بھی مسلمانوں کے لئے محض قانونی خانہ نہیں بلکہ دینی زندگی کا حصہ ہیں۔
اگر نکاح کے طریقۂ کار، رجسٹریشن، طلاق، نان و نفقہ، سرپرستی یا وراثت کے متعلق یکساں قانونی اصول وضع کیے جاتے ہیں تو ان کا جائزہ صرف قانونی زاویے سے نہیں بلکہ مذہبی آزادی کے آئینی پہلو سے بھی لینا ہوگا۔
لہٰذا مسلمانوں کی تشویش کو صرف سیاست کہہ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔لیکن دوسری طرف یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ UCC لازماً مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچانے کے لئے لایا جارہا ہے۔دعویٰ اپنی جگہ، دلیل اپنی جگہ؛ اندیشہ اپنی جگہ، قانون کا متن اپنی جگہ۔جب تک کسی قانون کی تمام متعلقہ دفعات اور ان کے عملی اثرات سامنے نہ ہوں، اس کے ہر ممکن نتیجے کو قطعی انجام کے طور پر بیان کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
UCC کا نام خود کسی نتیجے کی ضمانت نہیں۔اصل سوال اس کے متن، دائرۂ کار، استثناؤں اور عملی نفاذ کا ہے۔اگر قانون صرف بعض انتظامی معاملات کو یکساں بناتا ہے تو اس کے اثرات ایک نوعیت کے ہوں گے۔اگر وہ نکاح، طلاق، وراثت، گود لینے، سرپرستی اور خاندانی حقوق کے بنیادی اصولوں تک پہنچتا ہے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔اس لئے کسی بھی بحث میں صرف یہ کہنا کہ ’’یکساں قانون‘‘ آرہا ہے، کافی نہیں۔پوچھنا ہوگا:کون سا قانون؟کن معاملات میں؟کن شہریوں پر؟کس حد تک؟کن استثناؤں کے ساتھ؟اور سب سے بڑھ کر:کیا مذہبی آزادی اور شخصی حقوق کے لئے واضح حفاظتی اصول موجود ہوں گے؟یہ سوالات مخالفت نہیں، جمہوری نگرانی ہیں۔
کیا صرف مسلمان ہی متاثر ہونگے؟ اگر UCC واقعی مختلف عائلی قوانین کو ایک مشترک قانونی ڈھانچے میں لانے کی کوشش ہے تو اس کے اثرات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ہندو معاشرے میں شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور سرپرستی سے متعلق موجودہ قانونی اصول بھی کسی نہ کسی شکل میں زیرِ بحث آئیں گے۔عیسائی برادری کے اپنے عائلی قوانین اور قانونی روایات رہی ہیں۔پارسی برادری کا بھی اپنا تاریخی قانونی پس منظر ہے۔سکھ برادری اور دیگر سماجی طبقات کے لئے بھی خاندانی اور معاشرتی روایات کا سوال موجود ہے۔قبائلی معاشروں میں تو رسم و رواج اور اجتماعی شناخت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ:مسلمانوں کا کیا ہوگا؟سوال یہ بھی ہے کہ:ہندوستان کے مختلف سماجی اور مذہبی طبقات کے ساتھ کیا ہوگا؟قانون جب خاندان تک پہنچتا ہے تو وہ مذہب کا نام نہیں پوچھتا، وہ رشتے کا نام پوچھتا ہے۔وہ پوچھتا ہے:شوہر کون ہے؟بیوی کون ہے؟اولاد کس کی ہے؟وارث کون ہے؟جائیداد کس کی ہے؟سرپرستی کس کے پاس ہے؟اور حق کس کا ہے؟اسی لئے UCC کی بحث کو صرف مسلم مسئلہ بنا دینا بھی شاید مسئلے کی وسعت کم کردینا ہے۔
صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ UCC مسلمانوں کے خلاف ہے۔اور یہ بھی کافی نہیں کہ کوئی کہہ دے کہ UCC سب کے لئے برابر ہے، اس لئے اس پر سوال نہیں ہونا چاہیے۔علماء، مفتیان، وکلاء، آئینی ماہرین اور دانشوروں کو مل کر قانون کی ہر شق کا مطالعہ کرنا چاہیے۔جو چیز قرآن و سنت اور فقہ سے متعلق ہے، اس کا علمی جواب دیا جائے۔جو چیز آئین سے متعلق ہے، اس کا قانونی جواب دیا جائے۔جو چیز سماج سے متعلق ہے، اس کا سماجی جواب دیا جائے۔اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہے، وہاں اصلاح کی بات بھی اپنی زبان میں، اپنے اصولوں کے ساتھ اور دلیل کے ساتھ کی جائے۔علم کے بغیر احتجاج شور بن سکتا ہے، علم کے ساتھ آواز دلیل بن جاتی ہے۔مسلمانوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے معاشرے کے دوسرے طبقات کے حقوق کا احترام کرنا ہی اسلامی اور جمہوری رویہ ہے۔اپنا حق مانگنے کے لئے دوسرے کے حق کو مٹانا ضروری نہیں، اور دوسرے کے حق کا احترام کرنے کے لئے اپنا حق چھوڑنا بھی ضروری نہیں۔اگر حکومت UCC کو مساوات اور شہری انصاف کا ذریعہ سمجھتی ہے تو عوام کو اس کی تفصیل جاننے کا حق ہے۔
مسودہ کیا کہتا ہے؟کن قوانین کو ختم کیا جائے گا؟کن قوانین کو بدلا جائے گا؟کن معاملات کو یکساں کیا جائے گا؟کن طبقات کو استثنا حاصل ہوگا؟مذہبی آزادی کا تحفظ کس طرح ہوگا؟وراثت کے اصول کیا ہوں گے؟نکاح اور طلاق کے معاملات کیسے طے ہوں گے؟بچوں کی سرپرستی اور گود لینے کے کیا ضابطے ہوں گے؟اور سب سے بڑھ کر:کیا مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کو قانون سازی کے عمل میں مؤثر طور پر سنا جائے گا؟یہ سوال کسی حکومت کے خلاف نہیں۔یہ سوال جمہوریت کے حق میں ہے۔وضاحت اعتماد کی پہلی سیڑھی ہے۔عوام سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ صرف سیاسی تقریریں سن کر قانون کو سمجھ لیں۔قانون کتاب میں لکھا جاتا ہے، مگر اس کا اثر گھر میں دکھائی دیتا ہے۔
دراصل UCC کی پوری بحث کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو سوال یہ نہیں کہ قانون ایک ہوگا یا کئی؟اصل سوال یہ ہے کہ:ایک قانون کے اندر انصاف کی کتنی گنجائش ہوگی؟کیونکہ ایک قانون بھی ناانصافی کرسکتا ہے اور کئی قوانین کے درمیان بھی انصاف کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔اس لئے بحث کی سمت صرف ’’یکساں قانون‘‘ سے ’’منصفانہ قانون‘‘ کی طرف ہونی چاہیے۔اگر UCC کا مقصد واقعی شہری مساوات ہے تو پھر اس مساوات کا پہلا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ کسی شہری کو محض اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے کمتر نہ سمجھا جائے۔
اگر مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ ہے تو پھر عورت کو حقیقی قانونی، معاشرتی اور معاشی تحفظ ملنا چاہیے۔اگر مقصد خاندان میں انصاف ہے تو پھر مرد، عورت اور بچے—تینوں کے حقوق کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔اگر مقصد قومی یکجہتی ہے تو پھر قانون ایسا ہونا چاہیے جو اختلاف کو تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے آئینی اعتماد پیدا کرے۔
اور اگر مقصد واقعی یکساں شہری قانون ہے تو پھر اس کے مسودے، شقوں، استثناؤں اور عملی اثرات پر کھلی بحث سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ مضبوط قانون سوالوں سے نہیں ڈرتا، مضبوط قانون سوالوں کے جواب دیتا ہے۔یہاں مسلمانوں کی ذمہ داری بھی واضح ہے اور حکومت کی بھی۔مسلمان جذبات کے بجائے علم، تحقیق اور آئینی زبان میں اپنی بات رکھیں۔حکومت سیاسی اعتماد کے بجائے قانونی وضاحت کو ترجیح دے۔علماء فقہی اصولوں کو جدید قانونی سوالات کے ساتھ جوڑیں۔وکلاء آئینی پہلو سامنے لائیں۔اور معاشرہ جذباتی نعروں کے بجائے قانون کی اصل عبارت کو پڑھے۔تب شاید یہ بحث ’’کون جیتا، کون ہارا‘‘ سے نکل کر ’’کون سا حق محفوظ رہا‘‘ تک پہنچ سکے گی۔
کیونکہ قانون کا اصل امتحان پارلیمنٹ میں تالیاں نہیں، عدالت میں دلیل ہے؛قانون کا اصل امتحان ٹی وی پر نعرہ نہیں، گھر میں اس کا اثر ہے؛اور قانون کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کتنے قوانین کو ایک کردیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے کتنے مختلف انسانوں کو انصاف کا یکساں احساس دیا۔ہندوستان کی طاقت اس کی وحدت میں ہے، مگر اس وحدت کی روح اس کا تنوع بھی ہے۔لہٰذا ضرورت ایسے قانون کی ہے جو ملک کو جوڑے، مگر شناختوں کو کچلے نہیں؛جو مساوات پیدا کرے، مگر جائز حقوق کو مٹائے نہیں؛جو اصلاح کرے، مگر اعتماد کو مجروح نہ کرے؛اور جو یکسانیت لائے تو انصاف کی یکسانیت لائے، محض احکام کی نہیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ قانون کتنا یکساں ہوگا؛ سوال یہ ہے کہ انصاف کتنا بے طرف ہوگا۔قانون کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ سب کو ایک جیسا بنا دے؛ قانون کی عظمت اس میں ہے کہ وہ مختلف انسانوں کے درمیان بھی انصاف کو ایک جیسا رکھ سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں