نریندرمودی ناقابل تسخیر کیوں ہیں

 

 

 

ہسمکھ ادھیا
سابق فنانس اور ریونیو سیکریٹری

مسلسل 25 برس سے مودی جی نے مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں میں تیز رفتار اور پائیدار معاشی ترقی سے لے کر مرکز میں تین مرتبہ اور کئی ریاستوں میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا شامل ہے۔ مودی جی کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان حصولیابیوں کے پسِ پشت ان کی انتظامی صلاحیتیں، انسانی اوصاف اور روحانی خصوصیات بھی کارفرما ہیں۔مجھے مودی جی کے ساتھ جب سے وہ پہلی مرتبہ 2001 میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بنے تھے،ریاستی اور مرکزی، دونوں سطحوں پر کام کرنے کا موقع حاصل ہوا۔ میں نے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر میں بھی ان کے ساتھ ایک سال تک ایڈیشنل پرنسپل سیکریٹری اور اس کے بعد دو سال تک پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ اس دوران مجھے ان کی بہت سی نمایاں اور غیر معمولی صفات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
سب سے پہلے آئیے ان کی انتظامی صلاحیتوں کی بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ ہمیشہ ملک کے لئے ایک دور رس وژن کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کی طویل مدتی منصوبہ بندی اور وژن کی صلاحیت ہی دراصل انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر شخص کا مشاہدہ کرتے ہیں، سب کی بات سنتے ہیں اور ہر ایک سے سیکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ مرکزی بجٹ کی تیاری کے دوران ہونے والی میٹنگوں میں وہ وزارتِ خزانہ کے ہر شعبے کی پیشکش کو گھنٹوں نہایت توجہ سے سنتے ہیں اور پھر وہاں موجود تمام لوگوں کے درمیان تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد اپنی حتمی رائے دیتے ہیں۔ تیسری یہ کہ وہ ہر وزارت کے کام کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں، خواہ وہ آیوش کی وزارت ہو، قبائلی امور کی وزارت ہو یا کھیلوں کی وزارت ہو۔ ان اجلاسوں کے دوران وہ متعلقہ وزارتوں کو مزید بہتر اور نئے وژن کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب اور حوصلہ دیتے ہیں۔ چوتھی یہ کہ انہوں نے بہترین کارپوریٹ طریقۂ کارکو اپناتے ہوئے گجرات میں اعلیٰ انتظامی افسران کے سالانہ اجلاس کو ’چنتن شِوِر‘ کی شکل میں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا، جسے بعد میں مرکز میں ’سالانہ چیف سیکریٹریز کانفرنس‘ کی صورت میں وسعت دی گئی۔ پانچویں یہ کہ ایک اچھی ٹیم کے منتظم کی حیثیت سے میں نے انہیں ہمیشہ قابلِ رسائی پایا۔ ان کی یہی خوبی انہیں اپنے اردگرد ہونے والی سرگرمیوں سے باخبر رکھتی ہے۔ چھٹی بات یہ کہ کسی بھی نئے منصوبے، مثلاً پہلی مرتبہ ’وائبرنٹ گجرات سمٹ‘ کے انعقاد میں مودی جی نے پوری توجہ صرف کی۔ اس کے بعد ان کی توقع یہ ہوتی ہے کہ حاصل ہونے والے تجربے کو مناسب طریقے سے دستاویزی شکل دی جائے اور اسے ایک مستقل ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ آخری بات یہ کہ ہم سب ان کی اس غیر معمولی صلاحیت سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ کسی نظریے کو اپنی ٹیم یا وسیع تر عوام تک جس انداز میں پہنچاتے ہیں، وہ بے مثال ہے۔ یہی اعلیٰ درجے کی انتظامی خصوصیات انہیں ’ٹیم انڈیا‘ کا ایک عظیم قائد بناتی ہیں۔
مودی جی کی انسانی خوبیوں کی بات کریں تو غریبوں اور محروم طبقات کے لئے ان کے دل میں حقیقی جذبہ ہے۔ مجھے 2003 میں گجرات کے پہلے چنتن شِوِر میں ان کی اختتامی تقریر یاد ہے، جس میں انہوں نے محروم لوگوں کی مشکلات کو اس قدر جذبات کے ساتھ بیان کیا کہ بیشتر بیوروکریٹس اور وزراء کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اسی طرح اپنی ٹیم کے لئے بھی ان کا انسانی رویہ نہایت مؤثر ہے۔ جب بھی انہیں معلوم ہوتا کہ کوئی افسر یا سیاسی کارکن یا اس کے خاندان کا کوئی فرد علیل ہے تو وہ فون کرکے اس کی خیریت دریافت کرتے ہیں، یا کسی کے خاص موقع پر اسے مبارک باد دیتے ہیں اوربہ حیثیت ایک انسان جو بات انہیں حیرت انگیز بناتی ہے، وہ لوگوں کے نام یاد رکھنے کی ان کی صلاحیت ہے جن سے وہ ملتے ہیں، حتیٰ کہ کئی برس بعد ملاقات ہونے پر بھی انہیں ان کے نام یاد رہتے ہیں۔ لوگ ان کی اس خوبی سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ان کی فطری وجدان پر مبنی صلاحیت ہے۔
مودی جی کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو، ان کی روحانی خصوصیات ہیں۔ کام کے تئیں ان کا رویہ اور زندگی میں اچھے یا برے نتائج کو جس طرح وہ قبول کرتے ہیں، وہ بھگود گیتا میں بیان کیے گئے کرم یوگ کی عکاسی کرتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ وہ جو بھی کام کرتے ہیں، اس میں پوری محنت اور معیار کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی کام کو معمولی سمجھ کر نہیں لیتے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں، ان کی پوری توجہ اس وقت ان کے سامنے موجود کام پر مرکوز رہتی ہے۔ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ جب ان کی کوششوں کے نتائج غیر معمولی ہوتے ہیں تو وہ عاجزی برقرار رکھتے ہیں۔ کامیابی انہیں بے فکر یا مغرور نہیں بناتی۔ جب نتائج زیادہ موافق نہ ہوں تب بھی وہ پُرسکون رہتے ہیں۔ ناموافق نتائج انہیں مزید حوصلہ دیتے ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ مشکلات کو کس طرح مواقع میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ گیتا میں بیان کی گئی روحانی خوبیوں میں سے ایک ’آرجَوَم‘ ہے، جس کے معنیٰ راست گوئی اور صاف گوئی کے ہیں۔ فکر، گفتار اور عمل میں یکسانیت کو ’آرجَوَم‘ کہا جاتا ہے۔ ہم مودی جی میں یہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔
مودی جی بھگوان، یعنی خالق پر گہرا اور پختہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں عبادت کے کسی معروف مقام کے درشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بھگوان کی قدرت پر یہی یقین غالباً انہیں مسلسل کام کرتے رہنے کی قوت دیتا ہے اور یہی بھروسہ انہیں ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ ویدانت میں بیان کیے گئے اَدوَیت کے پیغام پر مودی جی کے روحانی یقین کے حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد ہے جو انہوں نے اس وقت مجھے بتایا تھا جب میں ان کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کم عمری میں ایک مرتبہ انہیں کچھ چوٹ لگی تھی۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں بہت زیادہ درد ہو رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بے ساختہ ان کایہ جواب تھا: ’’نہیں، مجھے درد نہیں ہو رہا، صرف میرے جسم میں درد ہے۔‘‘ انہوں نے فطری طور پر ویدانت کے اس بنیادی تصور کا اظہار کیا تھا کہ ہماری حقیقی ذات آتما ہے، جسم اور ذہن کا مجموعہ ہماری اصل ذات نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

نریندرمودی ناقابل تسخیر کیوں ہیں

 

 

 

ہسمکھ ادھیا
سابق فنانس اور ریونیو سیکریٹری

مسلسل 25 برس سے مودی جی نے مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں میں تیز رفتار اور پائیدار معاشی ترقی سے لے کر مرکز میں تین مرتبہ اور کئی ریاستوں میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا شامل ہے۔ مودی جی کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان حصولیابیوں کے پسِ پشت ان کی انتظامی صلاحیتیں، انسانی اوصاف اور روحانی خصوصیات بھی کارفرما ہیں۔مجھے مودی جی کے ساتھ جب سے وہ پہلی مرتبہ 2001 میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بنے تھے،ریاستی اور مرکزی، دونوں سطحوں پر کام کرنے کا موقع حاصل ہوا۔ میں نے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر میں بھی ان کے ساتھ ایک سال تک ایڈیشنل پرنسپل سیکریٹری اور اس کے بعد دو سال تک پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ اس دوران مجھے ان کی بہت سی نمایاں اور غیر معمولی صفات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
سب سے پہلے آئیے ان کی انتظامی صلاحیتوں کی بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ ہمیشہ ملک کے لئے ایک دور رس وژن کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کی طویل مدتی منصوبہ بندی اور وژن کی صلاحیت ہی دراصل انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر شخص کا مشاہدہ کرتے ہیں، سب کی بات سنتے ہیں اور ہر ایک سے سیکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ مرکزی بجٹ کی تیاری کے دوران ہونے والی میٹنگوں میں وہ وزارتِ خزانہ کے ہر شعبے کی پیشکش کو گھنٹوں نہایت توجہ سے سنتے ہیں اور پھر وہاں موجود تمام لوگوں کے درمیان تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد اپنی حتمی رائے دیتے ہیں۔ تیسری یہ کہ وہ ہر وزارت کے کام کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں، خواہ وہ آیوش کی وزارت ہو، قبائلی امور کی وزارت ہو یا کھیلوں کی وزارت ہو۔ ان اجلاسوں کے دوران وہ متعلقہ وزارتوں کو مزید بہتر اور نئے وژن کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب اور حوصلہ دیتے ہیں۔ چوتھی یہ کہ انہوں نے بہترین کارپوریٹ طریقۂ کارکو اپناتے ہوئے گجرات میں اعلیٰ انتظامی افسران کے سالانہ اجلاس کو ’چنتن شِوِر‘ کی شکل میں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا، جسے بعد میں مرکز میں ’سالانہ چیف سیکریٹریز کانفرنس‘ کی صورت میں وسعت دی گئی۔ پانچویں یہ کہ ایک اچھی ٹیم کے منتظم کی حیثیت سے میں نے انہیں ہمیشہ قابلِ رسائی پایا۔ ان کی یہی خوبی انہیں اپنے اردگرد ہونے والی سرگرمیوں سے باخبر رکھتی ہے۔ چھٹی بات یہ کہ کسی بھی نئے منصوبے، مثلاً پہلی مرتبہ ’وائبرنٹ گجرات سمٹ‘ کے انعقاد میں مودی جی نے پوری توجہ صرف کی۔ اس کے بعد ان کی توقع یہ ہوتی ہے کہ حاصل ہونے والے تجربے کو مناسب طریقے سے دستاویزی شکل دی جائے اور اسے ایک مستقل ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ آخری بات یہ کہ ہم سب ان کی اس غیر معمولی صلاحیت سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ کسی نظریے کو اپنی ٹیم یا وسیع تر عوام تک جس انداز میں پہنچاتے ہیں، وہ بے مثال ہے۔ یہی اعلیٰ درجے کی انتظامی خصوصیات انہیں ’ٹیم انڈیا‘ کا ایک عظیم قائد بناتی ہیں۔
مودی جی کی انسانی خوبیوں کی بات کریں تو غریبوں اور محروم طبقات کے لئے ان کے دل میں حقیقی جذبہ ہے۔ مجھے 2003 میں گجرات کے پہلے چنتن شِوِر میں ان کی اختتامی تقریر یاد ہے، جس میں انہوں نے محروم لوگوں کی مشکلات کو اس قدر جذبات کے ساتھ بیان کیا کہ بیشتر بیوروکریٹس اور وزراء کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اسی طرح اپنی ٹیم کے لئے بھی ان کا انسانی رویہ نہایت مؤثر ہے۔ جب بھی انہیں معلوم ہوتا کہ کوئی افسر یا سیاسی کارکن یا اس کے خاندان کا کوئی فرد علیل ہے تو وہ فون کرکے اس کی خیریت دریافت کرتے ہیں، یا کسی کے خاص موقع پر اسے مبارک باد دیتے ہیں اوربہ حیثیت ایک انسان جو بات انہیں حیرت انگیز بناتی ہے، وہ لوگوں کے نام یاد رکھنے کی ان کی صلاحیت ہے جن سے وہ ملتے ہیں، حتیٰ کہ کئی برس بعد ملاقات ہونے پر بھی انہیں ان کے نام یاد رہتے ہیں۔ لوگ ان کی اس خوبی سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ان کی فطری وجدان پر مبنی صلاحیت ہے۔
مودی جی کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو، ان کی روحانی خصوصیات ہیں۔ کام کے تئیں ان کا رویہ اور زندگی میں اچھے یا برے نتائج کو جس طرح وہ قبول کرتے ہیں، وہ بھگود گیتا میں بیان کیے گئے کرم یوگ کی عکاسی کرتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ وہ جو بھی کام کرتے ہیں، اس میں پوری محنت اور معیار کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی کام کو معمولی سمجھ کر نہیں لیتے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں، ان کی پوری توجہ اس وقت ان کے سامنے موجود کام پر مرکوز رہتی ہے۔ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ جب ان کی کوششوں کے نتائج غیر معمولی ہوتے ہیں تو وہ عاجزی برقرار رکھتے ہیں۔ کامیابی انہیں بے فکر یا مغرور نہیں بناتی۔ جب نتائج زیادہ موافق نہ ہوں تب بھی وہ پُرسکون رہتے ہیں۔ ناموافق نتائج انہیں مزید حوصلہ دیتے ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ مشکلات کو کس طرح مواقع میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ گیتا میں بیان کی گئی روحانی خوبیوں میں سے ایک ’آرجَوَم‘ ہے، جس کے معنیٰ راست گوئی اور صاف گوئی کے ہیں۔ فکر، گفتار اور عمل میں یکسانیت کو ’آرجَوَم‘ کہا جاتا ہے۔ ہم مودی جی میں یہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔
مودی جی بھگوان، یعنی خالق پر گہرا اور پختہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں عبادت کے کسی معروف مقام کے درشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بھگوان کی قدرت پر یہی یقین غالباً انہیں مسلسل کام کرتے رہنے کی قوت دیتا ہے اور یہی بھروسہ انہیں ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ ویدانت میں بیان کیے گئے اَدوَیت کے پیغام پر مودی جی کے روحانی یقین کے حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد ہے جو انہوں نے اس وقت مجھے بتایا تھا جب میں ان کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کم عمری میں ایک مرتبہ انہیں کچھ چوٹ لگی تھی۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں بہت زیادہ درد ہو رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بے ساختہ ان کایہ جواب تھا: ’’نہیں، مجھے درد نہیں ہو رہا، صرف میرے جسم میں درد ہے۔‘‘ انہوں نے فطری طور پر ویدانت کے اس بنیادی تصور کا اظہار کیا تھا کہ ہماری حقیقی ذات آتما ہے، جسم اور ذہن کا مجموعہ ہماری اصل ذات نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں