حیدرآباد دکن کی لہو لہان داستان: پولیس ایکشن بنام آپریشن پولو 1948

 

 

محمد مسلم کبیر

برصغیر کی تقسیم اور آزادی کے بعد حیدرآباد دکن کا ہندوستان میں انضمام ایک اہم تاریخی واقعہ ہے۔ ستمبر 1948ء کا ’’آپریشن پولو‘‘، جسے سرکاری طور پر ’’پولیس ایکشن‘‘ کہا گیا، محض پانچ روزہ فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ اس کے پس منظر میں نظام حیدرآباد کی خودمختاری کی کوشش، ہندوستانی حکومت کی پالیسی، رضاکار تحریک، آریہ سماج اور حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس کی سیاسی سرگرمیاں شامل تھیں۔
حیدرآباد دکن اس وقت برصغیر کی بڑی اور دولت مند ریاستوں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں تقریباً 80 فیصد ہندو اور پسماندہ طبقات جبکہ 20 فیصد مسلمان آبادی تھی۔ نظام دکن نواب میر عثمان علی خان آزادی کے بعد ریاست کی الگ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے تھے، جبکہ ہندوستانی حکومت کے نزدیک ملک کے اندر ایک بڑی ریاست کا الگ تشخص قابل قبول نہیں تھا۔
1947ء میں حیدرآباد نے ہندوستان میں فوری انضمام کے بجائے اپنی الگ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ نومبر 1947ء میں اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ ہوا، لیکن کشیدگی ختم نہ ہوسکی اور دونوں جانب اعتماد کا بحران بڑھتا گیا۔اسی دوران مجلس اتحاد المسلمین اور اس سے وابستہ رضاکار تحریک کا اثر بڑھا۔ قائد ملت بہادر یار جنگ اہم مسلم سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی وفات 1944ء میں ہوگئی، تاہم ان کے سیاسی خیالات نے بعد کے حالات پر اثر ڈالا۔ ان کے بعد لاتور کے ایڈوکیٹ محمد قاسم رضوی نمایاں قائد بن کر سامنے آئے اور ان کے دور میں رضاکار تحریک ایک طاقتور مسلح تنظیم بن گئی۔
رضاکاروں کا دعویٰ تھا کہ وہ حیدرآباد کی خودمختاری اور مسلم سیاسی مفادات کا دفاع کررہے ہیں، تاہم بعض رضاکار دستوں پر قتل، لوٹ مار، تشدد اور اغوا سمیت سنگین الزامات عائد ہوئے۔ ہندوستانی حکومت نے بھی فوجی کارروائی کے جواز میں رضاکاروں کی مسلح سرگرمیوں اور بدامنی کو نمایاں کیا۔
تاہم تمام مسلمانوں کو رضاکار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ عام مسلم آبادی کی بڑی تعداد نہ سیاسی سرگرمیوں میں شریک تھی اور نہ کسی مسلح تنظیم کا حصہ۔ بعض مسلمان کانگریس کے حامی بھی تھے۔
دوسری جانب آریہ سماج نے نظام کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی و سماجی تحریک چلائی، جبکہ حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس بھی نظام حکومت کے خلاف جدوجہد کررہی تھی۔ 1948ء تک سیاسی کشمکش، مسلح سرگرمیوں اور سرحدی جھڑپوں نے حالات کو انتہائی کشیدہ کردیا۔
آخرکار مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ 13 ستمبر 1948ء کو ہندوستانی فوج نے ’’آپریشن پولو‘‘ شروع کیا۔ زمینی قیادت میجر جنرل جے۔ این۔ چودھری کے پاس تھی، جبکہ حیدرآباد کی ریاستی افواج کی کمان میجر جنرل سید احمد ال عید روس (S. A. El Edroos) کے پاس تھی۔17 ستمبر کو نظام دکن نواب میر عثمان علی خان بہادر نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے رضاکاروں کو تحریک ختم کرنے کا حکم دیا۔ 18 ستمبر کو میجر جنرل S. A. El Edroos نے میجر جنرل جے۔ این۔ چودھری کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں چند ہی دنوں میں حیدرآباد کی فوجی مزاحمت ختم ہوگئی اور ہندوستانی فوج نے ریاست پر کنٹرول قائم کرلیا۔
لیکن فوجی کارروائی کے بعد بھی تشدد کے واقعات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے قتل، لوٹ مار، گھروں کو جلانے، خواتین کے ساتھ زیادتی اور املاک کی تباہی کی شکایات سامنے آئیں۔ وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو بھی مختلف اضلاع سے مسلمانوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
نومبر 1948ء میں نہرو نے حالات کی تحقیقات کے لئے ایک وفد تشکیل دیا، جس میں پنڈت سندر لال، قاضی عبدالغفار، مولانا عبداللہ مصری اور فرخ سائر شاکری شامل تھے۔ وفد نے بیدر، عثمان آباد، ناندیڑ، اورنگ آباد، پربھنی، بیڑ اور گلبرگہ سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ بعد میں پنڈت سندر لال سے منسوب رپورٹ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی سنگین تصویر سامنے آئی۔ جدید تحقیقی کاموں میں اس رپورٹ کی بنیاد پر تقریباً 27 ہزار سے 40 ہزار ہلاکتوں کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے، اگرچہ یہ قطعی اور غیر متنازع تعداد نہیں ہے۔
جواہر لعل نہرو نے 14 نومبر 1948ء کی اپنی تحریر میں بھی حیدرآباد کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کے قتل، مارپیٹ اور لوٹ مار کی اطلاعات کا ذکر کیا تھا۔تاریخ کے ساتھ انصاف کا تقاضا ہے کہ واقعات کے تمام پہلوؤں کو دیکھا جائے۔ رضاکاروں کے مظالم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان کے جرائم کی بنیاد پر پوری مسلم آبادی کو مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ اسی طرح آریہ سماج، اسٹیٹ کانگریس اور ہندوستانی حکومت کے کردار کو بھی اس وقت کے سیاسی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ سیاسی کشمکش جب فرقہ وارانہ تشدد میں بدلتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔ اقتدار کی لڑائی سیاسی قوتوں کے درمیان شروع ہوتی ہے، مگر اس کی قیمت اکثر وہ خاندان ادا کرتے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود حیدرآباد دکن کے اس سانحے میں قتل، خوف، ہجرت اور تباہی کی داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس لئے آپریشن پولو کو نہ صرف ’’ریاستی انضمام‘‘ کی کامیابی تک محدود کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی مذہب یا برادری کے خلاف نفرت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔تاریخ کا مقصد ہیرو اور ولن بنانا نہیں بلکہ واقعات کو ان کے حقیقی پس منظر میں سمجھنا ہے۔ نظام حیدرآباد کی پالیسیوں، رضاکاروں کے کردار، آریہ سماج اور اسٹیٹ کانگریس کی تحریکوں، ہندوستانی حکومت کے سیاسی و فوجی فیصلوں اور عام شہریوں کے جانی و مالی نقصان کا جائزہ ضروری ہے۔حیدرآباد دکن کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ریاستیں سیاسی فیصلوں سے بنتی اور بدلتی ہیں، مگر انسانی جان کا نقصان کسی سیاسی فتح کا معمولی نتیجہ نہیں ہوتا۔ تاریخ کو یاد رکھنے کا مقصد پرانے زخموں کو کرید کر نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں مذہب، زبان، ذات یا سیاسی اختلاف کے نام پر ایسے سانحات کا دوبارہ شکار نہ ہوں۔
تاریخ اگر انصاف کے ساتھ لکھی جائے تو وہ نفرت نہیں، شعور پیدا کرتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

حیدرآباد دکن کی لہو لہان داستان: پولیس ایکشن بنام آپریشن پولو 1948

 

 

محمد مسلم کبیر

برصغیر کی تقسیم اور آزادی کے بعد حیدرآباد دکن کا ہندوستان میں انضمام ایک اہم تاریخی واقعہ ہے۔ ستمبر 1948ء کا ’’آپریشن پولو‘‘، جسے سرکاری طور پر ’’پولیس ایکشن‘‘ کہا گیا، محض پانچ روزہ فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ اس کے پس منظر میں نظام حیدرآباد کی خودمختاری کی کوشش، ہندوستانی حکومت کی پالیسی، رضاکار تحریک، آریہ سماج اور حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس کی سیاسی سرگرمیاں شامل تھیں۔
حیدرآباد دکن اس وقت برصغیر کی بڑی اور دولت مند ریاستوں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں تقریباً 80 فیصد ہندو اور پسماندہ طبقات جبکہ 20 فیصد مسلمان آبادی تھی۔ نظام دکن نواب میر عثمان علی خان آزادی کے بعد ریاست کی الگ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے تھے، جبکہ ہندوستانی حکومت کے نزدیک ملک کے اندر ایک بڑی ریاست کا الگ تشخص قابل قبول نہیں تھا۔
1947ء میں حیدرآباد نے ہندوستان میں فوری انضمام کے بجائے اپنی الگ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ نومبر 1947ء میں اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ ہوا، لیکن کشیدگی ختم نہ ہوسکی اور دونوں جانب اعتماد کا بحران بڑھتا گیا۔اسی دوران مجلس اتحاد المسلمین اور اس سے وابستہ رضاکار تحریک کا اثر بڑھا۔ قائد ملت بہادر یار جنگ اہم مسلم سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی وفات 1944ء میں ہوگئی، تاہم ان کے سیاسی خیالات نے بعد کے حالات پر اثر ڈالا۔ ان کے بعد لاتور کے ایڈوکیٹ محمد قاسم رضوی نمایاں قائد بن کر سامنے آئے اور ان کے دور میں رضاکار تحریک ایک طاقتور مسلح تنظیم بن گئی۔
رضاکاروں کا دعویٰ تھا کہ وہ حیدرآباد کی خودمختاری اور مسلم سیاسی مفادات کا دفاع کررہے ہیں، تاہم بعض رضاکار دستوں پر قتل، لوٹ مار، تشدد اور اغوا سمیت سنگین الزامات عائد ہوئے۔ ہندوستانی حکومت نے بھی فوجی کارروائی کے جواز میں رضاکاروں کی مسلح سرگرمیوں اور بدامنی کو نمایاں کیا۔
تاہم تمام مسلمانوں کو رضاکار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ عام مسلم آبادی کی بڑی تعداد نہ سیاسی سرگرمیوں میں شریک تھی اور نہ کسی مسلح تنظیم کا حصہ۔ بعض مسلمان کانگریس کے حامی بھی تھے۔
دوسری جانب آریہ سماج نے نظام کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی و سماجی تحریک چلائی، جبکہ حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس بھی نظام حکومت کے خلاف جدوجہد کررہی تھی۔ 1948ء تک سیاسی کشمکش، مسلح سرگرمیوں اور سرحدی جھڑپوں نے حالات کو انتہائی کشیدہ کردیا۔
آخرکار مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ 13 ستمبر 1948ء کو ہندوستانی فوج نے ’’آپریشن پولو‘‘ شروع کیا۔ زمینی قیادت میجر جنرل جے۔ این۔ چودھری کے پاس تھی، جبکہ حیدرآباد کی ریاستی افواج کی کمان میجر جنرل سید احمد ال عید روس (S. A. El Edroos) کے پاس تھی۔17 ستمبر کو نظام دکن نواب میر عثمان علی خان بہادر نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے رضاکاروں کو تحریک ختم کرنے کا حکم دیا۔ 18 ستمبر کو میجر جنرل S. A. El Edroos نے میجر جنرل جے۔ این۔ چودھری کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں چند ہی دنوں میں حیدرآباد کی فوجی مزاحمت ختم ہوگئی اور ہندوستانی فوج نے ریاست پر کنٹرول قائم کرلیا۔
لیکن فوجی کارروائی کے بعد بھی تشدد کے واقعات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے قتل، لوٹ مار، گھروں کو جلانے، خواتین کے ساتھ زیادتی اور املاک کی تباہی کی شکایات سامنے آئیں۔ وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو بھی مختلف اضلاع سے مسلمانوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
نومبر 1948ء میں نہرو نے حالات کی تحقیقات کے لئے ایک وفد تشکیل دیا، جس میں پنڈت سندر لال، قاضی عبدالغفار، مولانا عبداللہ مصری اور فرخ سائر شاکری شامل تھے۔ وفد نے بیدر، عثمان آباد، ناندیڑ، اورنگ آباد، پربھنی، بیڑ اور گلبرگہ سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ بعد میں پنڈت سندر لال سے منسوب رپورٹ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی سنگین تصویر سامنے آئی۔ جدید تحقیقی کاموں میں اس رپورٹ کی بنیاد پر تقریباً 27 ہزار سے 40 ہزار ہلاکتوں کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے، اگرچہ یہ قطعی اور غیر متنازع تعداد نہیں ہے۔
جواہر لعل نہرو نے 14 نومبر 1948ء کی اپنی تحریر میں بھی حیدرآباد کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کے قتل، مارپیٹ اور لوٹ مار کی اطلاعات کا ذکر کیا تھا۔تاریخ کے ساتھ انصاف کا تقاضا ہے کہ واقعات کے تمام پہلوؤں کو دیکھا جائے۔ رضاکاروں کے مظالم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان کے جرائم کی بنیاد پر پوری مسلم آبادی کو مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ اسی طرح آریہ سماج، اسٹیٹ کانگریس اور ہندوستانی حکومت کے کردار کو بھی اس وقت کے سیاسی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ سیاسی کشمکش جب فرقہ وارانہ تشدد میں بدلتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔ اقتدار کی لڑائی سیاسی قوتوں کے درمیان شروع ہوتی ہے، مگر اس کی قیمت اکثر وہ خاندان ادا کرتے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود حیدرآباد دکن کے اس سانحے میں قتل، خوف، ہجرت اور تباہی کی داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس لئے آپریشن پولو کو نہ صرف ’’ریاستی انضمام‘‘ کی کامیابی تک محدود کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی مذہب یا برادری کے خلاف نفرت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔تاریخ کا مقصد ہیرو اور ولن بنانا نہیں بلکہ واقعات کو ان کے حقیقی پس منظر میں سمجھنا ہے۔ نظام حیدرآباد کی پالیسیوں، رضاکاروں کے کردار، آریہ سماج اور اسٹیٹ کانگریس کی تحریکوں، ہندوستانی حکومت کے سیاسی و فوجی فیصلوں اور عام شہریوں کے جانی و مالی نقصان کا جائزہ ضروری ہے۔حیدرآباد دکن کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ریاستیں سیاسی فیصلوں سے بنتی اور بدلتی ہیں، مگر انسانی جان کا نقصان کسی سیاسی فتح کا معمولی نتیجہ نہیں ہوتا۔ تاریخ کو یاد رکھنے کا مقصد پرانے زخموں کو کرید کر نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں مذہب، زبان، ذات یا سیاسی اختلاف کے نام پر ایسے سانحات کا دوبارہ شکار نہ ہوں۔
تاریخ اگر انصاف کے ساتھ لکھی جائے تو وہ نفرت نہیں، شعور پیدا کرتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں