ڈالر سے آگے کی دنیا؟

 

 

مسعود محبوب خان

دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ جنگوں، سفارتی معاہدوں یا سیاسی بیانات کے ذریعے نہیں آتیں۔ بعض اوقات عالمی طاقت کا نقشہ بینک، نئی کرنسی یا متبادل ادائیگی نظام کے ذریعے تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔ ایران کا نیو ڈیولپمنٹ بینک، جسے عام طور پر برکس بینک کہا جاتا ہے، میں شامل ہونے کا اعلان بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے حالیہ برکس مالیاتی اجلاس کے موقع پر کہا کہ ایران جلد نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بن جائے گا۔ تاہم اس وقت بینک کی جانب سے ایران کی رکنیت کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
ایران برسوں سے امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، جنہوں نے بینکاری، سرمایہ کاری، ادائیگی اور زرمبادلہ تک اس کی رسائی محدود کی ہے۔ ایران نے 2024ء میں برکس کی رکنیت حاصل کی اور اس کے بعد NDB میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتا رہا ہے۔ تہران کی کوشش ہے کہ برکس کی رکنیت کو سیاسی تعلق سے آگے بڑھا کر حقیقی اقتصادی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ NDB ترقی پذیر ممالک کے انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لئے مالی معاونت فراہم کرتا ہے، اس لئے اس کی رکنیت ایران کے لئے متبادل سرمایہ اور تجارتی روابط کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ڈالر پر انحصار کم کرنے کا مطلب فوری طور پر ڈالر کو عالمی نظام سے ختم کرنا نہیں۔ عالمی تجارت اور مالیاتی نظام میں ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اصل کوشش مالیاتی راستوں میں تنوع پیدا کرنے کی ہے۔ قومی کرنسیوں میں تجارت، مقامی ادائیگی نظام اور متبادل مالیاتی ادارے ممالک کو اضافی راستے فراہم کرسکتے ہیں۔ حالیہ برکس مذاکرات میں تیز رفتار ادائیگی نظام اور مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کے باہمی ربط پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔
برکس کے رکن ممالک کی ترجیحات ایک جیسی نہیں۔ بھارت، چین، روس، برازیل، ایران اور خلیجی ممالک کے اپنے معاشی مفادات ہیں، اس لئے برکس کو مکمل یکساں سیاسی و معاشی اتحاد سمجھنا درست نہیں۔ تاہم متعدد ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی تجارت اور مالیاتی نظام میں زیادہ تنوع چاہتی ہیں۔ دنیا شاید ڈالر سے فوری طور پر آزاد نہیں ہورہی، لیکن ایک ہی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کی کوشش ضرور بڑھ رہی ہے۔
ایران کے لئے NDB کی رکنیت ایسے وقت میں اہم ہوسکتی ہے جب اسے شدید اقتصادی اور جغرافیائی دباؤ کا سامنا ہے۔ اگر رکنیت ملتی ہے تو توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور صنعتی منصوبوں کے لئے اضافی مالی امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم NDB کی رکنیت ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم نہیں کرے گی اور نہ ہی مقامی کرنسی میں تجارت اسے خود بخود عالمی مالیاتی پابندیوں سے باہر نکال دے گی۔ یہ صرف مالیاتی راستوں کو متنوع بنا سکتی ہے۔
ایران کی NDB رکنیت کے معاملے میں روس کی حمایت بھی قابل ذکر ہے۔ مئی 2026ء میں روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف نے ایران کی رکنیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو دیگر رکن ممالک سے مشاورت کرے گا۔ روس خود مغربی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، اس لئے متبادل مالیاتی نظام اس کے لئے بھی اہم ہیں۔
یہ معاملہ مسلم دنیا کے لئے بھی ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: کیا اُمّت مسلمہ اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں کوئی مشترکہ اور طویل المدت تصور رکھتی ہے؟ مسلم دنیا کے پاس بڑی منڈیاں، توانائی کے ذخائر، نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، سرمایہ اور افرادی قوت موجود ہے، مگر اس کے باوجود عالمی اقتصادی فیصلہ سازی میں اس کی مجموعی قوت کے مطابق کردار محدود ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ان کے باہمی ربط کی کمی کا ہے۔
اسلامی معاشی تصور میں دولت، تجارت، سرمایہ اور منافع اہم ذرائع ہیں، لیکن انہیں انسانی فلاح، عدل اور اجتماعی ذمہ داری کے تابع رکھا گیا ہے۔ قرآن مجید کا اصول ہے: ’’دولت صرف تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہے‘‘۔ یہ آج کی عالمی معیشت کے لئے بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا دولت چند طاقتور مراکز میں مرتکز ہوتی جائے اور ترقی پذیر ممالک ہمیشہ بیرونی قرض اور سرمایہ کے محتاج رہیں؟
معاشی خودمختاری صرف کرنسی تبدیل کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کسی ملک کے پاس صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، تحقیق، برآمدات، مضبوط ادارے اور انسانی سرمایہ نہ ہو تو وہ حقیقی خودمختاری حاصل نہیں کرسکتا۔ جو قوم علم پیدا کرتی ہے وہ ٹیکنالوجی اور صنعت پیدا کرسکتی ہے، اور مضبوط صنعت برآمدات اور زرمبادلہ پیدا کرتی ہے۔ اس لئے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’ڈالر کا متبادل کیا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی کہ ہماری اپنی پیداوار، ٹیکنالوجی، تحقیق اور باہمی تجارت کہاں ہے؟
مسلم دنیا حقیقت پسندانہ انداز میں وسیع اقتصادی تعاون کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ فوری طور پر مشترکہ کرنسی بنائی جائے۔ ابتدا باہمی تجارت میں سہولت، مقامی کرنسیوں میں تجارت، مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز، اسلامی مالیاتی اداروں کے تعاون، خوراک و توانائی کے تحفظ، ٹیکنالوجی کی شراکت، مشترکہ صنعتی منصوبوں اور تحقیقی مراکز سے ہوسکتی ہے۔ یہ کسی طاقت کے خلاف صف بندی کے بجائے اپنی اجتماعی اقتصادی ضرورت پوری کرنے کی کوشش ہوگی۔
قرآن کہتا ہے: ’’انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے‘‘۔ اس لئے مسلم دنیا کی اقتصادی بیداری کا مقصد کسی دوسرے کے غلبے کی جگہ اپنا غلبہ قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا منصفانہ عالمی اقتصادی نظام ہونا چاہیے جس میں ترقی پذیر اقوام کو اپنی ترقی کے فیصلے خود کرنے کا زیادہ حق حاصل ہو۔ آنے والی دنیا میں علم، ٹیکنالوجی، سرمایہ، توانائی، غذا اور مضبوط ادارے بھی طاقت کے اہم ذرائع ہوں گے۔
ایران کا NDB میں شامل ہونے کا ارادہ اسی بڑی تبدیلی کی ایک علامت ہے۔ ممکن ہے یہ قدم ایران کی تمام معاشی مشکلات حل نہ کرے اور ڈالر کی بالادستی بھی جلد ختم نہ ہو، لیکن مالیاتی تنوع کا سوال پہلے سے زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ مسلم دنیا کے لئے یہ وقت اپنے اقتصادی مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔
اُمّت مسلمہ کی معاشی خودمختاری نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، صنعت، تجارت، اچھی حکمرانی اور باہمی تعاون سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں تجارت، بیت المال، اوقاف، علمی مراکز اور رفاہی ادارے ایک جامع معاشی تصور کا حصہ رہے ہیں۔ آج ضرورت اس روح کو جدید دنیا کے تقاضوں سے جوڑنے کی ہے۔
ڈالر سے آزادی کا خواب اپنی جگہ، لیکن اس سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان علم، پیداوار، ٹیکنالوجی، تجارت اور معاشی فیصلوں میں خودکفیل اور باوقار ہوں۔ قومیں صرف کرنسی بدلنے سے خودمختار نہیں ہوتیں؛ وہ اس وقت خودمختار ہوتی ہیں جب اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہیں۔
اُمّت مسلمہ کے لئے اصل چیلنج ڈالر کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہے۔ اگر وہ علم میں مضبوط، صنعت میں خودکفیل، تحقیق میں آگے، حکمرانی میں جواب دہ اور باہمی تعلقات میں منظم ہوجائے تو عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی معیشت کا اصل سوال یہی ہے کہ مسلم دنیا اپنے علم، وسائل اور صلاحیتوں کو کس حد تک ایک مؤثر اقتصادی حکمت عملی میں تبدیل کرتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

ڈالر سے آگے کی دنیا؟

 

 

مسعود محبوب خان

دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ جنگوں، سفارتی معاہدوں یا سیاسی بیانات کے ذریعے نہیں آتیں۔ بعض اوقات عالمی طاقت کا نقشہ بینک، نئی کرنسی یا متبادل ادائیگی نظام کے ذریعے تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔ ایران کا نیو ڈیولپمنٹ بینک، جسے عام طور پر برکس بینک کہا جاتا ہے، میں شامل ہونے کا اعلان بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے حالیہ برکس مالیاتی اجلاس کے موقع پر کہا کہ ایران جلد نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بن جائے گا۔ تاہم اس وقت بینک کی جانب سے ایران کی رکنیت کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
ایران برسوں سے امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، جنہوں نے بینکاری، سرمایہ کاری، ادائیگی اور زرمبادلہ تک اس کی رسائی محدود کی ہے۔ ایران نے 2024ء میں برکس کی رکنیت حاصل کی اور اس کے بعد NDB میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتا رہا ہے۔ تہران کی کوشش ہے کہ برکس کی رکنیت کو سیاسی تعلق سے آگے بڑھا کر حقیقی اقتصادی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ NDB ترقی پذیر ممالک کے انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لئے مالی معاونت فراہم کرتا ہے، اس لئے اس کی رکنیت ایران کے لئے متبادل سرمایہ اور تجارتی روابط کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ڈالر پر انحصار کم کرنے کا مطلب فوری طور پر ڈالر کو عالمی نظام سے ختم کرنا نہیں۔ عالمی تجارت اور مالیاتی نظام میں ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اصل کوشش مالیاتی راستوں میں تنوع پیدا کرنے کی ہے۔ قومی کرنسیوں میں تجارت، مقامی ادائیگی نظام اور متبادل مالیاتی ادارے ممالک کو اضافی راستے فراہم کرسکتے ہیں۔ حالیہ برکس مذاکرات میں تیز رفتار ادائیگی نظام اور مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کے باہمی ربط پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔
برکس کے رکن ممالک کی ترجیحات ایک جیسی نہیں۔ بھارت، چین، روس، برازیل، ایران اور خلیجی ممالک کے اپنے معاشی مفادات ہیں، اس لئے برکس کو مکمل یکساں سیاسی و معاشی اتحاد سمجھنا درست نہیں۔ تاہم متعدد ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی تجارت اور مالیاتی نظام میں زیادہ تنوع چاہتی ہیں۔ دنیا شاید ڈالر سے فوری طور پر آزاد نہیں ہورہی، لیکن ایک ہی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کی کوشش ضرور بڑھ رہی ہے۔
ایران کے لئے NDB کی رکنیت ایسے وقت میں اہم ہوسکتی ہے جب اسے شدید اقتصادی اور جغرافیائی دباؤ کا سامنا ہے۔ اگر رکنیت ملتی ہے تو توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور صنعتی منصوبوں کے لئے اضافی مالی امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم NDB کی رکنیت ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم نہیں کرے گی اور نہ ہی مقامی کرنسی میں تجارت اسے خود بخود عالمی مالیاتی پابندیوں سے باہر نکال دے گی۔ یہ صرف مالیاتی راستوں کو متنوع بنا سکتی ہے۔
ایران کی NDB رکنیت کے معاملے میں روس کی حمایت بھی قابل ذکر ہے۔ مئی 2026ء میں روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف نے ایران کی رکنیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو دیگر رکن ممالک سے مشاورت کرے گا۔ روس خود مغربی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، اس لئے متبادل مالیاتی نظام اس کے لئے بھی اہم ہیں۔
یہ معاملہ مسلم دنیا کے لئے بھی ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: کیا اُمّت مسلمہ اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں کوئی مشترکہ اور طویل المدت تصور رکھتی ہے؟ مسلم دنیا کے پاس بڑی منڈیاں، توانائی کے ذخائر، نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، سرمایہ اور افرادی قوت موجود ہے، مگر اس کے باوجود عالمی اقتصادی فیصلہ سازی میں اس کی مجموعی قوت کے مطابق کردار محدود ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ان کے باہمی ربط کی کمی کا ہے۔
اسلامی معاشی تصور میں دولت، تجارت، سرمایہ اور منافع اہم ذرائع ہیں، لیکن انہیں انسانی فلاح، عدل اور اجتماعی ذمہ داری کے تابع رکھا گیا ہے۔ قرآن مجید کا اصول ہے: ’’دولت صرف تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہے‘‘۔ یہ آج کی عالمی معیشت کے لئے بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا دولت چند طاقتور مراکز میں مرتکز ہوتی جائے اور ترقی پذیر ممالک ہمیشہ بیرونی قرض اور سرمایہ کے محتاج رہیں؟
معاشی خودمختاری صرف کرنسی تبدیل کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کسی ملک کے پاس صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، تحقیق، برآمدات، مضبوط ادارے اور انسانی سرمایہ نہ ہو تو وہ حقیقی خودمختاری حاصل نہیں کرسکتا۔ جو قوم علم پیدا کرتی ہے وہ ٹیکنالوجی اور صنعت پیدا کرسکتی ہے، اور مضبوط صنعت برآمدات اور زرمبادلہ پیدا کرتی ہے۔ اس لئے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’ڈالر کا متبادل کیا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی کہ ہماری اپنی پیداوار، ٹیکنالوجی، تحقیق اور باہمی تجارت کہاں ہے؟
مسلم دنیا حقیقت پسندانہ انداز میں وسیع اقتصادی تعاون کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ فوری طور پر مشترکہ کرنسی بنائی جائے۔ ابتدا باہمی تجارت میں سہولت، مقامی کرنسیوں میں تجارت، مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز، اسلامی مالیاتی اداروں کے تعاون، خوراک و توانائی کے تحفظ، ٹیکنالوجی کی شراکت، مشترکہ صنعتی منصوبوں اور تحقیقی مراکز سے ہوسکتی ہے۔ یہ کسی طاقت کے خلاف صف بندی کے بجائے اپنی اجتماعی اقتصادی ضرورت پوری کرنے کی کوشش ہوگی۔
قرآن کہتا ہے: ’’انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے‘‘۔ اس لئے مسلم دنیا کی اقتصادی بیداری کا مقصد کسی دوسرے کے غلبے کی جگہ اپنا غلبہ قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا منصفانہ عالمی اقتصادی نظام ہونا چاہیے جس میں ترقی پذیر اقوام کو اپنی ترقی کے فیصلے خود کرنے کا زیادہ حق حاصل ہو۔ آنے والی دنیا میں علم، ٹیکنالوجی، سرمایہ، توانائی، غذا اور مضبوط ادارے بھی طاقت کے اہم ذرائع ہوں گے۔
ایران کا NDB میں شامل ہونے کا ارادہ اسی بڑی تبدیلی کی ایک علامت ہے۔ ممکن ہے یہ قدم ایران کی تمام معاشی مشکلات حل نہ کرے اور ڈالر کی بالادستی بھی جلد ختم نہ ہو، لیکن مالیاتی تنوع کا سوال پہلے سے زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ مسلم دنیا کے لئے یہ وقت اپنے اقتصادی مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔
اُمّت مسلمہ کی معاشی خودمختاری نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، صنعت، تجارت، اچھی حکمرانی اور باہمی تعاون سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں تجارت، بیت المال، اوقاف، علمی مراکز اور رفاہی ادارے ایک جامع معاشی تصور کا حصہ رہے ہیں۔ آج ضرورت اس روح کو جدید دنیا کے تقاضوں سے جوڑنے کی ہے۔
ڈالر سے آزادی کا خواب اپنی جگہ، لیکن اس سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان علم، پیداوار، ٹیکنالوجی، تجارت اور معاشی فیصلوں میں خودکفیل اور باوقار ہوں۔ قومیں صرف کرنسی بدلنے سے خودمختار نہیں ہوتیں؛ وہ اس وقت خودمختار ہوتی ہیں جب اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہیں۔
اُمّت مسلمہ کے لئے اصل چیلنج ڈالر کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہے۔ اگر وہ علم میں مضبوط، صنعت میں خودکفیل، تحقیق میں آگے، حکمرانی میں جواب دہ اور باہمی تعلقات میں منظم ہوجائے تو عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی معیشت کا اصل سوال یہی ہے کہ مسلم دنیا اپنے علم، وسائل اور صلاحیتوں کو کس حد تک ایک مؤثر اقتصادی حکمت عملی میں تبدیل کرتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں