
طفيل مگسی
صنعاء: یمن میں ایک بار پھر شدید لڑائی اور حوثیوں کی باب المندب کی جانب پیش قدمی کے باعث یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ حوثی دراصل کون ہیں، ان کی تحریک کہاں سے شروع ہوئی اور وہ یمن کی ایک طاقتور سیاسی و عسکری قوت کیسے بن گئے؟
حوثی تحریک، جو باضابطہ طور پر خود کو ’’انصار اللہ‘‘ کہتی ہے، کی جڑیں یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں ہیں۔ اس تحریک کا تعلق زیدی شیعہ برادری سے ہے۔ زیدی صدیوں سے شمالی یمن میں آباد ہیں اور ان کا مذہبی مکتب ایران میں غالب اثنا عشری شیعہ مکتب سے مختلف ہے۔
حوثی تحریک کی بنیاد کیسے پڑی؟
حوثی تحریک کے پس منظر میں معروف زیدی عالم بدرالدین الحوثی اور ان کے صاحبزادے حسین بدرالدین الحوثی کا اہم کردار تھا۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بدرالدین الحوثی یمن میں بڑھتے سلفی اثر و رسوخ کے ناقد بن کر سامنے آئے۔ حوثیوں کا مؤقف تھا کہ سعودی عرب سے آنے والے مذہبی اثرات شمالی یمن کی روایتی زیدی شناخت کو کمزور کر رہے ہیں۔
1990 کی دہائی کے آغاز میں حسین بدرالدین الحوثی نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ وہ اپوزیشن جماعت الحق سے وابستہ ہوئے اور 1993 میں صعدہ سے یمنی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی دور میں زیدی مذہبی و ثقافتی شناخت کے احیا کی تحریک مضبوط ہونے لگی، جو آگے چل کر حوثی تحریک کی بنیاد بنی۔
ابتدائی دور میں تحریک کے اہم مطالبات میں سیاسی ناانصافی، بدعنوانی اور شمالی علاقوں کی محرومی کے خلاف آواز اٹھانا شامل تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ تحریک مذہبی و سیاسی دائرے سے نکل کر ایک مسلح قوت میں تبدیل ہوگئی۔
حسین الحوثی کی ہلاکت اور عبدالملک الحوثی کا عروج
2004 میں حسین بدرالدین الحوثی اور اس وقت کے یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے درمیان تنازع کھلی مسلح لڑائی میں تبدیل ہوگیا۔ اسی سال یمنی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں حسین الحوثی مارے گئے۔
ان کی ہلاکت کے بعد تحریک کا نام انہی سے منسوب ہوکر ’’حوثی‘‘ مشہور ہوگیا اور بعد میں ان کے چھوٹے بھائی عبدالملک الحوثی تحریک کے مرکزی رہنما بن گئے۔ وہ آج بھی انصار اللہ کی قیادت کرتے ہیں۔
صنعاء پر قبضہ کیسے ہوا؟
2011 کی عرب بہار اور علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد یمن میں سیاسی عدم استحکام بڑھا اور حوثیوں نے اپنی طاقت اور زیرِ کنٹرول علاقے تیزی سے بڑھائے۔
ستمبر 2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے ملک کے دوسرے علاقوں کی جانب پیش قدمی کی۔ صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت شدید دباؤ میں آگئی اور بالآخر سعودی عرب منتقل ہوگئی۔
سعودی عرب جنگ میں کیوں اترا؟
مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن میں فوجی مداخلت شروع کی۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو بحال کرنا اور حوثیوں کی مزید پیش قدمی روکنا تھا۔
اس کے بعد شروع ہونے والی طویل جنگ نے یمن کو شدید انسانی بحران سے دوچار کردیا۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی میں نمایاں کمی آئی، لیکن مستقل سیاسی سمجھوتا نہ ہوسکا۔
ایران اور حوثیوں کا تعلق
حوثیوں اور ایران کے تعلقات اس تنازع کا سب سے متنازع پہلو ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ طویل عرصے سے ایران پر حوثیوں کو ہتھیار، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی، تربیت اور دوسری عسکری معاونت فراہم کرنے کا الزام لگاتے آئے ہیں۔ حوثیوں کے حزب اللہ کے ساتھ بھی تعلقات رہے ہیں۔
تاہم حوثی خود کو ایران کا پراکسی قرار دینے کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ ایران بھی یہی مؤقف اختیار کرتا ہے۔ حال ہی میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انصار اللہ ایک خودمختار فریق ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور کسی کے احکامات قبول نہیں کرتا۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب کیوں اہم ہوگئے؟
حالیہ برسوں میں حوثیوں نے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنا چکے ہیں، جبکہ غزہ جنگ کے بعد انہوں نے اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر بھی حملے کیے۔ حوثیوں کا کہنا رہا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کی موجودہ پیش قدمی پر عالمی توجہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے اور ایشیا و یورپ کے درمیان تجارت کا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس کے قریب کسی مسلح گروہ کی طاقت میں نمایاں اضافہ عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
یوں 1990 کی دہائی میں شمالی یمن کی زیدی مذہبی و سیاسی تحریک کے طور پر ابھرنے والا انصار اللہ آج یمن کی سب سے طاقتور مسلح اور سیاسی قوتوں میں شامل ہے—اور اس کی سرگرمیاں اب صرف یمن کی خانہ جنگی تک محدود نہیں رہیں بلکہ سعودی عرب، بحیرۂ احمر اور باب المندب کی سلامتی سے بھی براہِ راست جڑی۔


