کولگام، 14 ستمبر:
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے سمنو نہامہ علاقے میں واقع ایک مچھلی فارم میں ہزاروں مچھلیاں مر جانے سے مالکان کو لاکھوں روپے کا شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ مچھلی فارم عبدالسلام بھٹ کا ہے، جسے انہوں نے رواں سال کے اوائل میں محکمہ فشریز (ماہی پروری) کی مدد سے قائم کیا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق یہ قدم عبدالسلام بھٹ کے دو تعلیم یافتہ لیکن بے روزگار بیٹوں کے لیے روزگار کا ذریعہ پیدا کرنے کی غرض سے اٹھایا گیا تھا۔
اہلخانہ کے ایک فرد نے بتایا: "ہم نے یہ فارم اس امید پر بنایا تھا کہ یہ ہمارے خاندان، بالخصوص ہمارے دو پڑھے لکھے بے روزگار بیٹوں کا ذریعہ معاش بنے گا۔ لیکن ہزاروں مچھلیوں کے مر جانے سے ہمیں لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ شرپسندوں نے پانی کی سپلائی بند کر دی، جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ ہم انصاف پر مبنی تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور حکام سے امداد کے طالب ہیں۔”
اہلخانہ نے الزام لگایا کہ شرپسندوں نے مچھلی تالاب کو پانی فراہم کرنے والے پائپوں کو بند کر دیا، جس کی وجہ سے تازہ پانی کی آمد رک گئی اور فارم میں موجود ہزاروں مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مر گئیں۔
اس واقعے سے خاندان کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جبکہ یہ فارم ان کی روزی روٹی کا ایک اہم سہارا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ حکام کی جانب سے اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ مچھلیوں کی موت کن حالات میں ہوئی اور کیا پانی کا بہاؤ جان بوجھ کر روکا گیا تھا۔ متاثرہ خاندان نے پولیس سے اپیل کی ہے کہ وہ ملوث افراد کی نشان دہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے، جبکہ محکمہ فشریز اور انتظامیہ سے نقصان کا تخمینہ لگا کر ہر ممکن مالی امداد فراہم کرنے کی گزارش کی ہے۔


