نئی دہلی:
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو برکس اجلاس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی عام لوگوں کی زندگیوں پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے اور خاص طور پر ‘گلوبل ساؤتھ’ میں سب کی شمولیت کے ساتھ ترقی کو فروغ دینے کے لیے برکس ممالک کو متحد ہونا ہو گا۔
برکس سربراہی اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے "ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے” پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مشترکہ ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔ مودی نے یہ باتیں برکس ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی موجودگی میں کہیں، جن میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایران کے صدر مسعود پزیشکیان، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو شامل تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ "بھارت کی صدارت میں ہم نے چار ایجنڈوں پر توجہ مرکوز کی ہے: لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کے تعاون اور حمایت سے ہم اپنی مشترکہ سوچ کو ایک ایسی صورت دینے میں کامیاب رہے ہیں جس میں سب کا فائدہ ہو۔”
مودی نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عام لوگوں کی زندگی پر اس کے اثرات کا بھی ذکر کیا۔ مودی نے کہا کہ "دنیا میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس کا عام لوگوں کی زندگی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ وبا، ماحولیاتی آفات اور سپلائی چین کی رکاوٹوں نے یہ دکھا دیا ہے کہ آج کی آپس میں جڑی ہوئی دنیا میں کوئی بھی بحران کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہتا۔”


