نکاح یا جہیز؟

محمد اعجاز افضل

نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، جس کی بنیاد محبت، اعتماد، باہمی احترام اور زندگی بھر کی رفاقت پر قائم ہوتی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس پاکیزہ رشتے کے ساتھ ایک ایسی رسم جڑ گئی ہے جس نے شادی جیسی خوشی کو بہت سے خاندانوں کے لئے پریشانی بنا دیا ہے، اور وہ ہے جہیز۔ آج بعض معاشرتی طبقات میں بیٹی کی تعلیم، کردار اور تربیت سے زیادہ اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کتنا جہیز لے کر آئے گی۔

جہیز کی یہ بڑھتی ہوئی روایت صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لئے برسوں رقم جمع کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں۔ بعض اوقات محض اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے، والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں نکاح، جو آسان اور پاکیزہ بندھن ہونا چاہیے، معاشرتی رسم و رواج اور مالی بوجھ کی نذر ہو جاتا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ ہم رشتہ دیکھتے ہیں یا جہیز؟انسان کی قدر کرتے ہیں یا انسان کے ساتھ انے والے سامان کی؟ نکاح یا نمائش؟آخر ہم کب یہ سمجھیں گے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہے اور اسے اپنی بیٹی جیسا احترام دینا ہی ایک اچھے معاشرے کی پہچان ہے۔
آج کے موجودہ دور میں جہیز کا نام بعض لوگوں نے ضرور بدل دیا ہے۔پہلے اسے صرف صاف لفظوں میں "جہیز”ہی کہا جاتا تھا،اب اسی جہیز کو تحفے (Gifts) کا ایک خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔لڑکی والوں سے فریج،فرنیچر،گاڑی،زیور یا دیگر قیمتی سامان کی توقع رکھی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے”ہمیں جہیز نہیں چاہیے،بس اپنی خوشی سے تحفے(Gifts)دے دیجئے گا”۔

اگر مطالبہ وہی رہے تو اسے روایت نہیں،معاشرتی دکھاوا ہی کہا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ نکاح کو اسان بنانے کے بجائے بعض لوگوں نے الفاظ بدل کر جہیز کی رسم کو ایک نیا لباس پہنا دیا ہے۔
بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی جہیز کی یہ رسم مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ نام بدل گیا ہے، انداز بدل گیا ہے، مگر سوچ وہی پرانی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو بھی ہم نے نمود و نمائش اور مالی مطالبات سے جوڑ دیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج وہ لڑکے بھی جہیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی مستقل روزگار نہیں، یا جو خود بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ ایسے لوگ بھی شادی کے وقت جہیز کے منتظر رہتے ہیں۔ حالانکہ لڑکا کماتا ہو یا نہ کماتا ہو، اس کی سرکاری ملازمت ہو یا نجی ملازمت، کسی بھی صورت میں جہیز لینا مناسب نہیں، بلکہ جہیز کا مطالبہ کرنا اور اسے لینا ناجائز اور حرام ہے۔ چاہے اسے جہیز کا نام دیا جائے یا تحفے کا، اگر وہ مطالبے یا توقع کے طور پر لیا جائے تو اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ شادی کوئی لین دین کا معاملہ نہیں؛ عزت، محبت اور ذمہ داری کے رشتے کو جہیز کے مطالبے سے آلودہ کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔
جن لوگوں کی سوچ جہیز کے مطالبے یا اس کی توقع سے جڑی ہوئی ہے، انہیں اپنے رویّے پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ بیٹی کی رخصتی جہیز کے سامان سے نہیں، بلکہ عزت، محبت اور دعاؤں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ معاشرتی رسم و رواج کے نام پر والدین پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے بجائے سادگی اور آسان نکاح کو ترجیح دینی چاہیے۔ نہ جہیز کا مطالبہ ہو، نہ اسے ’’تحفے‘‘ کے نام بھی نہ دیا جائے۔
"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً”
اردو ترجمہ:

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

نکاح یا جہیز؟

محمد اعجاز افضل

نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، جس کی بنیاد محبت، اعتماد، باہمی احترام اور زندگی بھر کی رفاقت پر قائم ہوتی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس پاکیزہ رشتے کے ساتھ ایک ایسی رسم جڑ گئی ہے جس نے شادی جیسی خوشی کو بہت سے خاندانوں کے لئے پریشانی بنا دیا ہے، اور وہ ہے جہیز۔ آج بعض معاشرتی طبقات میں بیٹی کی تعلیم، کردار اور تربیت سے زیادہ اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کتنا جہیز لے کر آئے گی۔

جہیز کی یہ بڑھتی ہوئی روایت صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لئے برسوں رقم جمع کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں۔ بعض اوقات محض اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے، والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں نکاح، جو آسان اور پاکیزہ بندھن ہونا چاہیے، معاشرتی رسم و رواج اور مالی بوجھ کی نذر ہو جاتا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ ہم رشتہ دیکھتے ہیں یا جہیز؟انسان کی قدر کرتے ہیں یا انسان کے ساتھ انے والے سامان کی؟ نکاح یا نمائش؟آخر ہم کب یہ سمجھیں گے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہے اور اسے اپنی بیٹی جیسا احترام دینا ہی ایک اچھے معاشرے کی پہچان ہے۔
آج کے موجودہ دور میں جہیز کا نام بعض لوگوں نے ضرور بدل دیا ہے۔پہلے اسے صرف صاف لفظوں میں "جہیز”ہی کہا جاتا تھا،اب اسی جہیز کو تحفے (Gifts) کا ایک خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔لڑکی والوں سے فریج،فرنیچر،گاڑی،زیور یا دیگر قیمتی سامان کی توقع رکھی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے”ہمیں جہیز نہیں چاہیے،بس اپنی خوشی سے تحفے(Gifts)دے دیجئے گا”۔

اگر مطالبہ وہی رہے تو اسے روایت نہیں،معاشرتی دکھاوا ہی کہا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ نکاح کو اسان بنانے کے بجائے بعض لوگوں نے الفاظ بدل کر جہیز کی رسم کو ایک نیا لباس پہنا دیا ہے۔
بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی جہیز کی یہ رسم مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ نام بدل گیا ہے، انداز بدل گیا ہے، مگر سوچ وہی پرانی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو بھی ہم نے نمود و نمائش اور مالی مطالبات سے جوڑ دیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج وہ لڑکے بھی جہیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی مستقل روزگار نہیں، یا جو خود بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ ایسے لوگ بھی شادی کے وقت جہیز کے منتظر رہتے ہیں۔ حالانکہ لڑکا کماتا ہو یا نہ کماتا ہو، اس کی سرکاری ملازمت ہو یا نجی ملازمت، کسی بھی صورت میں جہیز لینا مناسب نہیں، بلکہ جہیز کا مطالبہ کرنا اور اسے لینا ناجائز اور حرام ہے۔ چاہے اسے جہیز کا نام دیا جائے یا تحفے کا، اگر وہ مطالبے یا توقع کے طور پر لیا جائے تو اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ شادی کوئی لین دین کا معاملہ نہیں؛ عزت، محبت اور ذمہ داری کے رشتے کو جہیز کے مطالبے سے آلودہ کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔
جن لوگوں کی سوچ جہیز کے مطالبے یا اس کی توقع سے جڑی ہوئی ہے، انہیں اپنے رویّے پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ بیٹی کی رخصتی جہیز کے سامان سے نہیں، بلکہ عزت، محبت اور دعاؤں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ معاشرتی رسم و رواج کے نام پر والدین پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے بجائے سادگی اور آسان نکاح کو ترجیح دینی چاہیے۔ نہ جہیز کا مطالبہ ہو، نہ اسے ’’تحفے‘‘ کے نام بھی نہ دیا جائے۔
"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً”
اردو ترجمہ:

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں