تبصرہ: ’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘ کی رسم رونمائی

ایم ایس رحمٰن شمسؔ
مدیر نصرۃ الاسلام
بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور ان کے اندر مثبت سوچ، احساسِ ذمہ داری اور انسانی اقدار کو پروان چڑھانے میں معیاری ادب کا کردار ہمیشہ سے بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک خوبصورت اور قابلِ تحسین کاوش معروف قلم کارہ اور معلمہ فرحانہ رخشند کی بچوں کے لئے لکھی گئی کتاب ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ ہے، جس میں بچوں کے لئے سبق آموز، جذباتی اور تربیتی کہانیوں کو نہایت سادہ، دل نشیں اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کی رسمِ رونمائی میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے  گزشتہ دنوں انجمن نصرۃ الاسلام کے  مرکزی آڈیٹوریم میں  ایک پروقار تقریب کے دوران انجام دی۔ اس موقع پر علمی، ادبی اور تعلیمی حلقوں سے وابستہ شخصیات، اساتذہ، طلبہ اور دیگر معززین  بڑی تعداد میں موجود تھے۔

’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ محض بچوں کی تفریح کے لئے لکھی گئی کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس میں بچوں کے جذبات، ان کی نفسیات، روزمرہ زندگی کے تجربات اور اخلاقی تربیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ کتاب میں شامل کہانیاں بچوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے، اچھے اور برے رویوں میں تمیز کرنے اور محبت، ہمدردی، صبر، تعاون، سچائی اور ذمہ داری جیسی بنیادی انسانی اقدار کو اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

موجودہ دور میں جب بچوں کا مطالعہ اور دلچسپی زیادہ تر ڈیجیٹل ذرائع، موبائل فون اور مختلف اسکرینز تک محدود ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں بچوں کے لئے معیاری اور بامقصد ادب کی تخلیق وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ایک مثبت ادبی کوشش کے طور پر سامنے آتی ہے۔ کتاب کی کہانیاں بچوں کو محض پڑھنے کی خوشی فراہم نہیں کرتیں بلکہ انہیں غور و فکر، خود احتسابی اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

اس موقع پر میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بچوں کی تعلیم و تربیت میں ادب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس قسم کی مثبت اور تعمیری ادبی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے مصنفہ فرحانہ رخشند کو بچوں کے لئے ایک بامقصد کتاب تخلیق کرنے پر مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ کتاب بچوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی و فکری تربیت میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

فرحانہ رخشند
فرحانہ رخشند

فرحانہ رخشند کا شمار ان قلم کاروں میں ہوتا ہے جو تعلیم اور ادب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتیں۔ ان کی یہ کاوش اس بات کی غماز ہے کہ اگر بچوں کے لئے ان کی عمر، نفسیات اور جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے ادب تخلیق کیا جائے تو کتاب نہ صرف ان کی دلچسپی کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

کتاب کے عنوان ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ میں بھی ایک خاص معنویت پوشیدہ ہے۔ بچپن انسانی زندگی کا وہ دور ہے جس کی یادیں عمر بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے لئے لکھی جانے والی کہانیوں میں اگر محبت، خلوص، جذبات اور اخلاقی سبق کو خوبصورتی سے سمو دیا جائے تو وہ بچوں کے ذہن و دل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔

تقریبِ رونمائی کے موقع پر اس امر کی بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے معیاری ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ اسکولوں میں کتاب خوانی، کہانی نویسی، مطالعہ اور ادبی نشستوں کا اہتمام بچوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں ایک متوازن شخصیت بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ کی اشاعت اور اس کی رسمِ رونمائی اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک مثبت بحث کو جنم دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، ادیب اور تعلیمی ادارے مل کر بچوں کے لئے ایسے ادب کی تخلیق اور ترویج کی حوصلہ افزائی کریں جو انہیں اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مدد دے۔

کتاب کی رسمِ رونمائی میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے گزشتہ دنوں انجمن نصرۃ الاسلام کے مرکزی آڈیٹوریم میں ایک پروقار تقریب کے دوران انجام دی

فرحانہ رخشند کی یہ کاوش یقیناً بچوں کے ادب میں ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ ننھے قارئین کے دلوں میں مطالعے کی محبت پیدا کرے گی، انہیں زندگی کے خوبصورت پہلوؤں سے روشناس کرائے گی اور ان کی شخصیت میں مثبت سوچ، احساس اور اخلاقی شعور کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

بچوں کے ہاتھوں میں اگر اچھی کتابیں ہوں تو وہ محض کتاب نہیں بلکہ ان کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہوتی ہیں، اور ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ اسی روشن مستقبل کی جانب ایک خوبصورت قدم ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

BRICS: عالمی طاقت کے نئے توازن کا امتحان

نئی دہلی میں ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس...

یوکرین پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک

  یوکرین پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک ہو...

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

تازہ ترین خبریں

BRICS: عالمی طاقت کے نئے توازن کا امتحان

نئی دہلی میں ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس...

یوکرین پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک

  یوکرین پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک ہو...

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

تبصرہ: ’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘ کی رسم رونمائی

ایم ایس رحمٰن شمسؔ
مدیر نصرۃ الاسلام
بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور ان کے اندر مثبت سوچ، احساسِ ذمہ داری اور انسانی اقدار کو پروان چڑھانے میں معیاری ادب کا کردار ہمیشہ سے بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک خوبصورت اور قابلِ تحسین کاوش معروف قلم کارہ اور معلمہ فرحانہ رخشند کی بچوں کے لئے لکھی گئی کتاب ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ ہے، جس میں بچوں کے لئے سبق آموز، جذباتی اور تربیتی کہانیوں کو نہایت سادہ، دل نشیں اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کی رسمِ رونمائی میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے  گزشتہ دنوں انجمن نصرۃ الاسلام کے  مرکزی آڈیٹوریم میں  ایک پروقار تقریب کے دوران انجام دی۔ اس موقع پر علمی، ادبی اور تعلیمی حلقوں سے وابستہ شخصیات، اساتذہ، طلبہ اور دیگر معززین  بڑی تعداد میں موجود تھے۔

’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ محض بچوں کی تفریح کے لئے لکھی گئی کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس میں بچوں کے جذبات، ان کی نفسیات، روزمرہ زندگی کے تجربات اور اخلاقی تربیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ کتاب میں شامل کہانیاں بچوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے، اچھے اور برے رویوں میں تمیز کرنے اور محبت، ہمدردی، صبر، تعاون، سچائی اور ذمہ داری جیسی بنیادی انسانی اقدار کو اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

موجودہ دور میں جب بچوں کا مطالعہ اور دلچسپی زیادہ تر ڈیجیٹل ذرائع، موبائل فون اور مختلف اسکرینز تک محدود ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں بچوں کے لئے معیاری اور بامقصد ادب کی تخلیق وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ایک مثبت ادبی کوشش کے طور پر سامنے آتی ہے۔ کتاب کی کہانیاں بچوں کو محض پڑھنے کی خوشی فراہم نہیں کرتیں بلکہ انہیں غور و فکر، خود احتسابی اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

اس موقع پر میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بچوں کی تعلیم و تربیت میں ادب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس قسم کی مثبت اور تعمیری ادبی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے مصنفہ فرحانہ رخشند کو بچوں کے لئے ایک بامقصد کتاب تخلیق کرنے پر مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ کتاب بچوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی و فکری تربیت میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

فرحانہ رخشند
فرحانہ رخشند

فرحانہ رخشند کا شمار ان قلم کاروں میں ہوتا ہے جو تعلیم اور ادب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتیں۔ ان کی یہ کاوش اس بات کی غماز ہے کہ اگر بچوں کے لئے ان کی عمر، نفسیات اور جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے ادب تخلیق کیا جائے تو کتاب نہ صرف ان کی دلچسپی کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

کتاب کے عنوان ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ میں بھی ایک خاص معنویت پوشیدہ ہے۔ بچپن انسانی زندگی کا وہ دور ہے جس کی یادیں عمر بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے لئے لکھی جانے والی کہانیوں میں اگر محبت، خلوص، جذبات اور اخلاقی سبق کو خوبصورتی سے سمو دیا جائے تو وہ بچوں کے ذہن و دل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔

تقریبِ رونمائی کے موقع پر اس امر کی بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے معیاری ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ اسکولوں میں کتاب خوانی، کہانی نویسی، مطالعہ اور ادبی نشستوں کا اہتمام بچوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں ایک متوازن شخصیت بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ کی اشاعت اور اس کی رسمِ رونمائی اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک مثبت بحث کو جنم دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، ادیب اور تعلیمی ادارے مل کر بچوں کے لئے ایسے ادب کی تخلیق اور ترویج کی حوصلہ افزائی کریں جو انہیں اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مدد دے۔

کتاب کی رسمِ رونمائی میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے گزشتہ دنوں انجمن نصرۃ الاسلام کے مرکزی آڈیٹوریم میں ایک پروقار تقریب کے دوران انجام دی

فرحانہ رخشند کی یہ کاوش یقیناً بچوں کے ادب میں ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ ننھے قارئین کے دلوں میں مطالعے کی محبت پیدا کرے گی، انہیں زندگی کے خوبصورت پہلوؤں سے روشناس کرائے گی اور ان کی شخصیت میں مثبت سوچ، احساس اور اخلاقی شعور کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

بچوں کے ہاتھوں میں اگر اچھی کتابیں ہوں تو وہ محض کتاب نہیں بلکہ ان کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہوتی ہیں، اور ’’ننھے دلوں کی خوشگوار یادیں‘‘ اسی روشن مستقبل کی جانب ایک خوبصورت قدم ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں